یونیورسٹیوں میں 5 سال کے دوران نفرت انگیزی پر مبنی واقعات میں 40 فیصد اضافہ

فیصل آباد : ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران نفرت انگیزی پر مبنی واقعات میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ ہر چار میں سے ایک یونیورسٹی طالب علم آن لائن انتہا پسندانہ مواد سے متاثر ہو رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کے سربراہ ڈاکٹر امتیاز ڈوگر نے کیا ہے۔ وہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں منعقدہ سیمینار برائے معاشرتی امن سے خطاب کر رہے تھے۔ سیمینار کا انعقاد انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچرل ایکسٹینشن، ایجوکیشن اینڈ رورل ڈویلپمنٹ کے زیراہتمام کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر امتیاز ڈوگر نے کہا کہ تشدد اور انتہا پسندی سے پہلے بعض اہم رویہ جاتی علامات ظاہر ہوتی ہیں جن میں اچانک سماجی تنہائی اختیار کرنا، مسلسل غصہ، سخت گیر سوچ اور مختلف آرا کے لیے عدم برداشت شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جامعات کو امن، تنقیدی سوچ اور باہمی احترام کے مراکز بننا چاہیے۔ ریجنل ڈائریکٹر فیصل آباد سوشل ویلفیئر خالدہ رفیق نے کہا کہ تنقیدی سوچ، اخلاقی اقدار اور جامع تعلیمی ماحول کو فروغ دے کر عدم برداشت اور انتہا پسندی کا مؤثر سدباب کیا جا سکتا ہے۔ ڈائریکٹر ایگری ایکسٹنشن ڈاکٹر بابر شہباز نے کہا کہ اساتذہ کو محض معلم نہیں بلکہ رہنما کا کردار بھی ادا کرنا چاہیے تاکہ وہ طلبہ کے رویوں میں ابتدائی انتباہی علامات کو پہچان سکیں۔ انہوں نے کہا کہ طالب علم اور استاد کے درمیان مضبوط رابطہ غلط فہمیوں اور مایوسی کو نمایاں حد تک کم کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مثبت اور تعمیری مصروفیت ہی کیمپس میں تشدد کی روک تھام اور اتحاد کے فروغ کا مؤثر ذریعہ ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں