فیصل آباد :تھانہ منصورہ آباد کے علاقے ملک پور میں واقع کرسٹل کیمیکل فیکٹری میں ہونے والا دھماکہ گزشتہ چند برسوں کے دوران فیصل آباد میں ہونے والا اپنی نوعیت کا بڑا حادثہ ہےجس میں 20 افراد جاں بحق اور سات زخمی بتائے جا رہے ہیں.اس حادثے میں مرنے والوں اور اس کی وجوہات کا تاحال تعین نہیں کیا جا سکا ہے. اس حوالے سے علاقہ مکینوں، پولیس ، ریسکیو اور انتظامیہ کی جانب سے الگ الگ موقف اور اعدادو شمار پیش کئے جا رہے ہیں. واضح رہے کہ 2019ء سے ابتک فیصل آباد کی مختلف فیکٹریوں میں بوائلر پھٹنے یا آتشزدگی کے 20 سے زائد واقعات میں 33 مزدور جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

ایف آئی آر درج، مرکزی ملزم گرفتار
اس حادثے پر تھانہ منصورہ آباد میں سب انسپکٹر احتشام عباس کی مدعیت میں کرسٹل کیمیکل فیکٹری کے مالک محمد قیصر چغتائی، منیجر بلال علی عمران اور پانچ ملازمین کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302، 324، 336 بی، 440، 147، 149 اور دی ایکسپلوزو سبسٹنس ایکٹ 1908ء کی دفعہ تین، چار اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء کی دفعہ سات کے تحت درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق دھماکہ فیکٹری میں سٹاک کئے گئے خطرناک کیمیکلز اور آتش گیر مادے سے بھرا ہوا کنٹینر پھٹنے کی وجہ سے ہوا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق مرنے والوں میں شفیق، مقصوداں بی بی، احمد، ازان علی، ایمان فاطمہ، عرفان، مقدس، ریحان، صائم علی، وقاص، عاشق حسین، فرخ، جنت، فاخرہ، علی حسنین، ماہم، عبید عاشق، عمیر عاشق، بلال عاشق اور ایک 20 سے 22 سال کا نامعلوم نوجوان شامل ہیں۔ زخمیوں میں رفعت، یونس، احسن، ندیم، اشرف، معظم اور لیاقت علی شامل ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق “علاقے کے لوگوں نے متعدد بار اس کی شکایت کی کہ یہ خطرناک کیمیکلز و آتش گیر مادے سے بھرے کنٹینرز کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں جس پر محکمہ پولیس کی طرف سے فیکٹری مالک محمد قیصر چغتائی، فیکٹری منیجر بلال علی عمران اور ملازمین کو متعدد بار تنبیہہ کیا گیا لیکن فیکٹری مالک اور ملازمین نے پولیس کی ان ہدایات و تنبہہ کو نظرانداز کیے رکھا اور اپنا کام جاری رکھا۔” پولیس ذرائع کے مطابق ایف آئی آر میں نامزد مرکزی ملزم فیکٹری کے مالک قیصر چغتائی نے تھانہ منصور آباد میں گرفتاری پیش کر دی ہے جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے.

کمشنر راجہ جہانگیر انور کیا کہتے ہیں؟
کمشنر نے فیکٹری حادثے کی انکوائری کے لئے پانچ رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے جو کہ حادثے کی وجوہات کا جائزہ لیکر رپورٹ پیش کرے گی۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر ندیم ناصر نے ملک پور میں گیس لیکج کے باعث دھماکے سے منہدم ہونے والی فیکٹری اور اس سے ملحق مکانوں کا دورہ کیا۔ انہوں نے امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور جاں بحق افراد کے ورثاء سے اظہار تعزیت کیا۔ کمشنر نے کہا کہ یہ فیکٹری ایریا ہے جہاں ورکرز نے رہائشیں بھی قائم کی ہوئی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیکٹری میں بوائلر موجود نہیں تھا اور حادثہ گیس لیکج کے باعث پیش آیا۔ کمشنر کے مطابق ملک میں پور میں چار فیکٹریاں ایک دوسرے کے ساتھ منسلک کام کر رہی ہیں۔ ایک فیکٹری میں گیس لیکج کے سبب آگ لگی جس نے دیگر فیکٹریوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا جبکہ فیکٹریوں کے ساتھ منسلک سات مکان بھی متاثر ہوئے ہیں۔ دریں اثناء کمشنر نے الائیڈ ہسپتال ون کا دورہ کرکے زخمیوں کو علاج معالجے کی سہولیات کا بھی جائزہ لیا اور متاثرین کو بہترین علاج اور طبی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا۔

ریسکیو 1122 ترجمان کا موقف
ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق حادثہ صبح ساڑھے پانچ بجے کے قریب پیش آیا۔ ریسکیو 1122کی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں نے حادثے کی اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ کر جدید مشینری اور آلات کی مدد سے 24 متاثرین کو ملبے سے نکالنے کا کام شروع کیا اور دوپہر تک ملبے تلے دبی تمام لاشوں اور زخمیوں کو بازیاب کر لیا گیا۔ ریسکیو ترجمان کے مطابق شہاب ٹاؤن کبڈی اسٹیڈیم گراؤنڈ کے قریب ملک پور میں حادثے کی جگہ پہ چار فیکٹریاں اکٹھی بنی ہوئی تھیں اور حادثہ صمد بونڈ بنانے والی فیکٹری میں ہوا ہے جبکہ باقی تین فیکٹریوں میں گلو، سیلیکون اور ایمبرائیڈری کا کام ہوتا ہے جو کہ اس وقت بند تھیں۔ ترجمان کے مطابق اس حادثے میں متاثرہ فیکٹری سے ملحق نو گھر وں کو نقصان پہنچا ہے۔ صبح سویرے شروع ہونے والا ریسکیو آپریشن دوپہر گئے تک جاری رہا جس میں 31 ایمرجنسی وہیکلز اور 145 سے زائد ریسکیورز نے حصہ لیا۔ علاوہ ازیں ریسکیو 1122کی طرف سے زخمیوں اور جاں بحق افراد کی تفصیلات پر مبنی جاری کی گئی رپورٹ میں مرنے والوں کی تعداد 14 اور زخمیوں کی تعداد سات بتائی گئی ہے.
