ایکسپورٹ سیکٹر کی برآمدی مسابقت بڑھانے کے لئے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج ختم

حکومت نے ایکسپورٹ انڈسٹری کی برآمدی مسابقت کو بڑھانے کے لئے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج کو فوری طور پر واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کیا گیا جس میں سینئر وفاقی وزراء اور ایکسپورٹ سیکٹرز کی مختلف تنظیموں کی نمائندہ شخصیات شریک تھیں۔ واضح رہے کہ یہ فیصلہ معروف ایکسپورٹر مصدق ذوالقرنین کی سربراہی میں تشکیل دیئے گئے ورکنگ گروپ کی تجویز پر دیا ہے جو کہ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کا جائزہ لے کر پاکستان کے ایکسپورٹ ایکو سسٹم کو بہتر بنانے کے لئے تشکیل دیا گیا تھا۔ اس ورکنگ گروپ کے دیگر اراکین میں معروف صنعتکار شہزاد سلیم، مصباح نقوی، خرم مختار، عارف سعید، احمد عمیر اور صالح فاروقی کے علاوہ سیکرٹری کامرس بلال اظہر کیانی اور دیگر متعلقہ سرکاری حکام شامل تھے۔ پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے پیٹرن چیف خرم مختار نے جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اصلاحات سے متعلق تجاویز کو ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کی مالی اعانت سے چلنے والے اقدامات اور برآمدی پیداواری صلاحیت پر ان کے محدود اثرات کی تفصیلی جانچ کے بعد حتمی شکل دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “ای ڈی ایس” کی واپسی ایک اہم قدم ہے کیونکہ یہ سرچارج طویل عرصے سے برآمدکنندگان کے لئے ایک بوجھ بن چکا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے ہونے والے اجلاس میں وزیر اعظم نے نجی شعبے کے نمائندوں کی سربراہی میں ایک عبوری اسٹیئرنگ کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو 52 ارب روپے کے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے استعمال کی نگرانی کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی کو یہ یقینی بنانے کا پابند بنایا گیا ہے کہ فنڈز کو بنیادی ڈھانچے سے متعلق منصوبوں کی بجائے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اور مسابقت کو بڑھانے والی مداخلتوں پر خرچ کیا جائے۔ خرم مختار کے مطابق برآمدی صنعتوں پر ٹیکس کا غیر متناسب بوجھ کم کرنے کے لئے شہزاد سلیم کی سربراہی میں ایک علیحدہ ورکنگ گروپ پہلے ہی ٹیکس کے معاملے پر اپنی سفارشات پیش کر چکا ہے اور توقع ہے کہ وزیر اعظم جلد ہی اس بارے میں بھی ایک خصوصی اجلاس بلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدی شعبوں پر مزید ٹیکس لگانے سے عالمی منڈیوں میں پاکستان کی مسابقت متاثر ہو رہی ہے اس لئے حکومت کو اس سلسلے میں بھی فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اعلان کردہ پالیسی کی تبدیلیوں سے توقع پیدا ہوئی ہے کہ برآمد کنندگان کو فوری ریلیف ملے گا اور پاکستان میں زیادہ مسابقتی اور جدت پر مبنی برآمدی شعبے کو فروغ حاصل ہو گا۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں