لاہور: پنجاب میں پائیدار ماحولیاتی انتظام کی جانب ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے صوبے بھر میں کچرے کو ٹھکانے لگانے کے جدید نظام کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد کوڑے کی پیداوار کو کم کرنا، ری سائیکلنگ کو بہتر بنانا اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنا ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق مختلف رنگ والے کچرے کے ڈبے اب تمام مارکیٹوں، شاپنگ مالز، تجارتی مراکز، سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں میں رکھنے لازمی ہوں گے۔ یہ اقدام “سمارٹ ویسٹ مینجمنٹ پروسیس” کا حصہ ہے جس کی ابتدائی طور پر گزشتہ ستمبر میں پنجاب بھر کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے لیے منظوری دی گئی تھی۔ نئے نظام کے تحت پیلے رنگ کے ڈبوں کا استعمال کاغذ کے کچرے، پیکنگ کے مواد اور ری سائیکل ہونے والے میٹریل کے لیے کیا جائے گا۔ سبز ڈبوں کو شیشے کی بوتلوں، ٹوٹے ہوئے شیشے اور لیبارٹری کے فضلے کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ گرے ڈبے نامیاتی فضلہ یعنی پھلوں کے چھلکے، بچا ہوا کھانا، پتے اور سبزیوں کے سکریپ کے لئے مخصوص ہو گا جبکہ دھاتوں اور دیگر خطرناک ویسٹ کو ڈالنے کے لئے سرخ ڈبے مختص کیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں نارنجی رنگ کے ڈبے ری سائیکلنگ کے لیے پلاسٹک کا کچرا جمع کرنے کے لئے استعمال کئے جائیں گے۔ اس سلسلے میں انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نئے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ پنجاب حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد لینڈ فلز پر بوجھ کو کم کرنا، ری سائیکلنگ کو فروغ دینا اور آب و ہوا کے موافق ویسٹ مینجمنٹ کے طریقوں کو فروغ دینا ہے- پنجاب حکومت نے اس سلسلے میں پنجاب مینجمنٹ ہیلپ لائن 1139 بھی شروع کی ہے جس کے ذریعے تعلیمی ادارے ویسٹ جمع کرنے کی خدمات براہ راست حاصل کر سکیں گے۔ لوکل گورنمنٹ اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ رنگدار ڈبوں کی تقسیم اور انتظام کی نگرانی کرے گا جبکہ تحفظ ماحولیات کا محکمہ اس قانون پر عملدرآمد کا ذمہ دار ہو گا۔ ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نظام ایک بار مکمل طور پر لاگو ہونے کے بعد غیر مناسب ویسٹ کو ٹھکانے لگانے، کوڑا کرکٹ کو کھلے عام جلانے اور بڑھتے ہوئے لینڈ فلز سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس سے ناصرف پنجاب کے شہری علاقوں میں فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ پنجاب میں صفائی کے معیار کو بھی بین الاقوامی معیار کے مطابق بہتر بنایا جا سکے گا۔
