گمٹی چوک سے چنیوٹ بازار تک غیر قانونی دکانیں مسمار کرنے کے لئے آپریشن شروع

فیصل آباد: سرکلر روڈ پر واقع غیر قانونی دکانوں اور کثیر المنزلہ کمرشل عمارتوں کو مسمار کرنے کے لئے آپریشن صبح دس بجے کے قریب شروع ہوا تھا۔ اس دوران گمٹی چوک سے سرکلر روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کرکے ہیوی مشینری سے دکانوں کو مسمار کرنے کا عمل شروع کیا گیا جس پر تاجروں اور شہریوں کی بڑی تعداد وہاں جمع ہو گئی۔ اس موقع پر ریلوے روڈ کے دکانداروں نے آپریشن کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑک بلاک کر کے نعرے لگائے. مظاہرین کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے بغیر نوٹس دئیے آپریشن شروع کیا ہے اور سالہا سال سے کاروبار کرنے والے تاجروں کی دکانوں کو کو بلا جواز اور غیر قانونی طور پر گرایا جارہا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کی ڈپٹی چیف آفیسر عظمت فردوس کے مطابق یہ آپریشن گورنمنٹ آف پنجاب کی ہدایت پر ڈویژنل کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے حکم پر شروع کیا گیا ہے اور اس دوران گمٹی چوک سے چنیوٹ بازار تک غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تمام دکانیں اور تجاوزات مسمار کی جائیں گی۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف ان 13 دکانوں کو مسمار کیا جائے گا جن کے مالکان کے پاس کوئی رجسٹری یا الاٹمنٹ کی دستاویزات نہیں ہیں اور وہ کئی سالوں سے سرکاری اراضی پر دکانیں بنا کر کاروبار جاری رکھے ہوئےہیں. علاوہ ازیں دیگر دکانوں کے حوالے سے دکانداروں کی جانب سے پیش کی گئی رجسٹریوں کی تصدیق کا عمل بھی جاری ہے جس پر مجاز اتھارٹی کے فیصلے کے مطابق کاروائی کی جائے گی۔ واضح رہے کہ ماضی میں بھی تجاوزات کے خلاف ہونے والے بڑے بڑے آپریشن سرکلر روڈ پر قائم غیر قانونی دکانوں کی مسماری پر آ کر تاجروں اور سیاسی دباو کی وجہ سے ختم ہو جاتے تھے اور آج ہونے والے آپریشن کے حوالے سے بھی یہ کہا جا رہا ہے کہ شاید اسے مکمل نہ کیا جا سکے۔ فیصل آباد یونین آف جرنلسٹ کے صدر ذکر اللہ حسنی کے مطابق 1980 کے اوائل میں اس نالے کے اوپر بعض جگہ لوگوں کو کھوکھا مارکیٹ قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی جس کے بعد لکڑی کے یہ کھوکھے آگے سے آگے فروخت ہوتے ہوئے رفتہ رفتہ پختہ دکانوں اور کثیر المنزلہ پلازوں میں تبدیل ہو گئے۔ آج ان دکانوں اور پلازوں کی مالیت کروڑوں سے اربوں روپے تک پہنچ چکی ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں