سرکلر روڈ پر تجاوزات کے خلاف آپریشن کا ڈراپ سین ہو گیا

فیصل آباد: سرکلر روڈ پر تعمیر غیر قانونی دکانیں گرانے کے لئے شروع کئے گئے آپریشن کے خلاف تاجروں نے آج ہونے والی شٹر ڈاون ہڑتال کی کال واپس لے لی ہے۔ اس بات کا اعلان تاجر تنظیموں کے چوک گھنٹہ گھر میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مبینہ معاہدے میں تاجروں کے نمائندوں سابق ایم این اے میاں عبدالمنان، سپریم انجمن تاجران (امین بٹ گروپ) کے چیئرمین محمد امین بٹ، انجمن تاجران سٹی (رجسٹرڈ) فیصل آباد کے چیئرمین خواجہ شاہد رزاق سکا، سپریم انجمن تاجران کے چیئرمین محمد اسلم بھلی اور سرکلر روڈ کے دکانداروں نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ سرکلر روڈ پر قائم تمام دکانیں غیر قانونی ہیں۔ علاوہ ازیں اس معاہدے پر ان تاجر رہنماوں کے دستخط بھی موجود ہیں لیکن اسٹنٹ کمشنر سٹی جن کے ساتھ یہ معاہدہ طے پایا ہے ان کے دستخط موجود نہیں ہیں اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے تاحال اس معاہدے سے متعلق کوئی اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔

اس مبینہ معاہدے کی تحریر کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر سٹی نے تاجر رہنمائوں کو آگاہ کیا کہ سرکلر روڈ کی جتنی بھی دکانیں ہیں وہ سرکاری جگہ پر غیر قانونی تعمیر شدہ ہیں۔ اس جگہ پر آپ لوگوں کا کوئی استحقاق نہیں بنتا۔ اس لئے آپ کو یہ جگہ خالی کرنا پڑے گی جس پر تاجر راہنمائوں نے کہا کہ ہم اس جگہ پر عرصہ 50/60 سال سے کاروبار کر رہے ہیں جس کی رجسٹریاں ہمارے پاس موجود ہیں جسکی رو سے ہم اراضی کے مالک ہیں۔ اگر انتظامیہ کو یہ جگہ چاہیے تو اس کے متبادل ہمیں جگہ الاٹ کی جائے۔ جس جگہ پر ہم اپنا کاروبار کرسکیں۔ اسسٹنٹ کمشنر سٹی نے کہا کہ پہلے آپ لوگوں کو متبادل جگہ دی جائے گی جب آپ لوگوں کو متبادل جگہ مل جائے گی تو آپ اس جگہ کو خودبخود چھوڑ دیں گے اور کوئی مزاحمت نہیں کریں گے اور اس وقت تک آپریشن موخر رہے گا۔ شہریوں نے تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن میں حالیہ پیشرفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وکلاء کی طرف سے ضلع کچہری کے ارد گرد سڑکوں اور فٹ پاتھ پر قائم غیر قانونی پارکنگ سٹینڈز بھی ختم کروائے جائیں تاکہ شہر کے مرکزی علاقے میں ٹریفک کی آمد ورفت بہتر بنائی جا سکے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں