قدرتی آبی ذخائر زمین کے ماحولیاتی نظام میں وہ بنیادی مقام رکھتے ہیں جو نہ صرف انسانی وجود کی بقا بلکہ حیاتیاتی تنوع، زرعی پیداوار، صنعتی ترقی اور سماجی خوش حالی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ ان ذخائر میں دریاؤں، جھیلوں، چشموں، زیرِ زمین پانی اور دلدلی علاقوں جیسے حساس اور پیچیدہ نظام شامل ہیں جو صدیوں پر محیط قدرتی تعاملات کے تحت قائم ہوئے۔ تاہم بدلتی ہوئی انسانی ترجیحات، بڑھتی ہوئی آبادی، صنعتی پھیلاؤ، جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور موسمیاتی تبدیلی نے ان آبی ذخائر کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں درختوں اور جنگلات کا کردار محض ایک ماحولیاتی حسن یا فضائی آلودگی کے خاتمے تک محدود نہیں رہتا بلکہ پانی کے قدرتی چکر، مٹی کی ساخت، زمینی بہاؤ، زیرِ زمین پانی کی بحالی اور آبی ذخائر کے تحفظ تک وسیع ہو جاتا ہے۔
درختوں کا نظام جڑوں، پتوں، تنے اور سائے سمیت بے شمار بائیوفزیکل عوامل کا مجموعہ ہے جو پانی کے مجموعی توازن میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب بارش کا پانی زمین پر گرتا ہے تو درخت اپنی چھتری کی صورت میں بارش کی شدت کو کم کرتے ہیں، اسے وقت کے ساتھ زمین کی سطح پر منتقل کرتے ہیں اور مٹی کو پانی جذب کرنے کے لیے تیار کرتے ہیں۔ یہی عمل زیرِ زمین پانی کے ری چارج میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ جن علاقوں میں درختوں کی کثرت ہوتی ہے وہاں پانی زمین میں زیادہ دیر تک ٹھہرتا ہے اور آہستہ آہستہ گہرائی میں اتر کر کنوؤں، چشموں اور بورنگ کے ذریعے قابلِ استعمال رہتا ہے۔ اس کے برعکس بنجر یا درختوں سے خالی زمین بارش کے چند لمحوں بعد خشک ہو جاتی ہیں اور پانی سطحی بہاؤ کی شکل میں ضائع ہو کر سیلابی کیفیت پیدا کرتا ہے۔
درختوں کی جڑیں مٹی کو مضبوطی سے تھام کر رکھتی ہیں اور مٹی کے کٹاؤ کو نمایاں طور پر کم کرتی ہیں۔ مٹی کا کٹاؤ نہ صرف زرعی زمینوں کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ آبی ذخائر کی صحت کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ دریا اور جھیلیں اس مٹی کو اپنے اندر جمع کرتی ہیں جس کے نتیجے میں سلٹنگ بڑھتی ہے، گنجائش کم ہوتی ہے اور سیلابی خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔ درخت نہ صرف اس عمل کو روکتے ہیں بلکہ مٹی کی ساخت اور غذائی اجزاء کو بہتر بنا کر پانی کے معیار کو بھی بہتر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں RIPARIAN VEGETATION یعنی دریاؤں کے کنارے موجود درختوں کے نظام کو پانی کے قدرتی فلٹر کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے کیونکہ یہ نہ صرف زرعی اور صنعتی آلودگی کو جذب کرتے ہیں بلکہ دریائی نظام میں پایا جانے والا حیاتیاتی توازن بھی برقرار رکھتے ہیں۔
پاکستان میں جنگلات کا تناسب عالمی معیار کے مقابلے میں نہایت کم ہے جو آبی ذخائر کے لیے ایک خطرناک صورتحال کو جنم دیتا ہے۔ ملک پہلے ہی شدید آبی قلت کا شکار ہے اور زیرِ زمین پانی کی سطح ہر سال کئی میٹر کم ہو رہی ہے۔ ایسے حالات میں جنگلات کی کمی اور تیزی سے پھیلتی ہوئی شہری آبادیاں پانی کے تحفظ کو مزید غیر یقینی بنا رہی ہیں۔ شہری علاقوں میں کنکریٹ اور پتھر کی بڑھتی تعمیرات سطحی بہاؤ میں اضافہ کرتی ہیں، جس سے بارش کا پانی زمین میں جذب ہی نہیں ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سیلابی مسائل بھی بڑھتے ہیں اور زیرِ زمین پانی بھی کم ہوتا جاتا ہے۔ اس تمام منظرنامے میں درخت ہی وہ واحد قدرتی حل فراہم کرتے ہیں جو بیک وقت سیلابی شدت کو کم کرتے ہیں، ماحول کو معتدل رکھتے ہیں، پانی کو زمین میں جذب کراتے ہیں اور ماحولیاتی توازن کو مستحکم بناتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی نے پانی کے بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ کبھی شدید بارشیں، کبھی طویل خشک سالی، کبھی بے وقت سیلاب اور کبھی گرمی کی شدید لہریں پانی کے ذخائر کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہی ہیں۔ یہ تمام کیفیتیں درختوں کے وجود سے براہِ راست متاثر ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر بڑے جنگلات بارش کے بادلوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، درجہ حرارت میں اعتدال پیدا کرتے ہیں، ہوا میں نمی برقرار رکھتے ہیں اور بارش کے قدرتی چکر کو منظم رکھتے ہیں۔ وہ ممالک جنہوں نے جنگلات کے تحفظ کو ترجیح دی وہاں پانی کے ذخائر آج بھی قدرتی توازن کے ساتھ موجود ہیں۔
پاکستان کے کئی علاقوں میں حالیہ برسوں میں یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ جہاں بڑے پیمانے پر شجرکاری ہوئی، وہاں زیرِ زمین پانی کی سطح میں بہتری آئی، سیلابی شدت میں کمی دیکھی گئی اور مقامی موسمی حالات میں نمایاں اعتدال پیدا ہوا۔ خیبرپختونخوا میں ہونے والی شجرکاری، کشمیر اور سوات کے جنگلات کی بحالی، اور دریاؤں کے کنارے لگائے جانے والے درختوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ قدرتی آبی ذخائر کی بحالی اور تحفظ کے لیے درخت سب سے مؤثر، کم خرچ اور طویل المدت حل ہیں۔
درختوں کا ایک اور اہم کردار دلدلی علاقوں اور جھیلوں کے تحفظ میں ہے۔ یہ علاقے حیاتیاتی تنوع کے گہوارے ہوتے ہیں اور درخت ان کی ساخت کو برقرار رکھنے میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ دلدلی علاقوں میں موجود نباتات مٹی اور پانی کے بہاؤ کو منظم کرتی ہیں، آلودگی کو کم کرتی ہیں، مچھلیوں اور دیگر آبی حیات کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرتی ہیں اور پورے ماحولیاتی نظام کو مستحکم رکھتی ہیں۔ پاکستان کے جنوبی علاقوں میں موجود منچھر جھیل، سندھ کے دلدلی علاقے اور دیگر قدرتی ذخائر اس نظام کے مرہونِ منت ہیں۔
ان تمام دلائل کے مجموعے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ قدرتی آبی ذخائر کا تحفظ درختوں کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ درخت پانی کو محفوظ کرتے ہیں، اسے صاف رکھتے ہیں، زیرِ زمین ذخائر کو بھرنے میں مدد دیتے ہیں، سیلاب کے خطرات کم کرتے ہیں، مٹی کے کٹاؤ کو روکتے ہیں، آلودگی کو کم کرتے ہیں اور ماحول کو زندہ رکھتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ محض ایک ماحولیاتی ضرورت نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کا بنیادی ستون ہے۔ اگر ہم نے مستقبل میں پانی کے بحران سے محفوظ رہنا ہے تو جنگلات کی بحالی، شجرکاری کی توسیع، آبی ذخائر کی حفاظت اور قدرتی نظام کے احترام کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ انسان صرف اسی صورت میں ایک محفوظ اور پائیدار مستقبل کا خواب دیکھ سکتا ہے جب وہ درختوں کی اہمیت کو سمجھے اور انہیں زمین پر اپنی بقا کا حقیقی محافظ تصور کرے۔
