فیصل آباد جو کبھی زرخیز زمینوں، نہری نظام اور وافر پانی کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، آج شدید آبی بحران کی لپیٹ میں ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے اس صنعتی شہر کے آبی وسائل کو اس حد تک متاثر کیا ہے کہ صاف پانی اب شہریوں کے لیے ایک بنیادی سہولت نہیں بلکہ ایک مشکل ترین ضرورت بنتا جا رہا ہے۔
گزشتہ دس برسوں میں فیصل آباد میں زیرِ زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جا چکی ہے۔ کبھی 40 سے 50 فٹ پر دستیاب پانی اب کئی علاقوں میں 150 سے 200 فٹ گہرائی تک جا پہنچا ہے۔ بارشوں کے غیر متوقع سلسلے، طویل گرمی کی لہریں اور ٹیوب ویلوں کا بے دریغ استعمال اس صورتحال کو مزید بگاڑ رہے ہیں۔ شدید بارشیں جہاں سیلابی کیفیت پیدا کرتی ہیں، وہیں آلودہ پانی کو صاف پانی کے ذخائر میں شامل کر کے بیماریوں کو بھی جنم دے رہی ہیں۔
فیصل آباد چونکہ ملک کا سب سے بڑا ٹیکسٹائل اور کیمیکل صنعتی مرکز ہے، اس لیے صنعتی فضلہ زیرِ زمین پانی کو آلودہ کرنے میں بڑا کردار ادا کر رہا ہے۔ مختلف تحقیقی رپورٹس کے مطابق شہر کے متعدد علاقوں میں پانی میں آرسینک اور ہیوی میٹلز کی موجودگی پائی گئی ہے، جو جلدی امراض، معدے کے مسائل اور گردوں کی بیماریوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔
شہر میں صاف پانی کی فراہمی کا انحصار بڑی حد تک واسا فیصل آباد پر ہے۔ تاہم پرانی پائپ لائنیں، لیکیج اور محدود سہولیات شہریوں کو مسلسل مشکلات میں مبتلا رکھتی ہیں۔ کئی غریب بستیوں میں لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں جس کے نتیجے میں پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں خاموش قاتل بنتی جا رہی ہیں۔ اس تشویشناک صورتحال میں واسا فیصل آباد کی جانب سے بعض مثبت اقدامات بھی سامنے آئے ہیں۔
حالیہ برسوں میں شہر کے مختلف علاقوں میں نئے آبی ذرائع کی تلاش، گہرے ٹیوب ویلز کی تنصیب، نہری پانی کے بہتر استعمال اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پرانے واٹر سپلائی نیٹ ورک کی مرمت، ری چارج ویلز کی تعمیر، اور غیر قانونی ٹیوب ویلوں کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں تاکہ زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو محفوظ رکھا جا سکے۔
تاہم یہ اقدامات موجودہ اور مستقبل کے خطرات کے مقابلے میں ابھی ناکافی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ گھروں، مساجد اور تعلیمی اداروں میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے نظام کو قانون کا حصہ بنایا جائے۔ صنعتی یونٹس میں ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس کی سخت نگرانی، واٹر میٹرنگ سسٹم کا نفاذ اور پانی کے ضیاع پر بھاری جرمانے وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں۔
پانی صرف حکومت یا کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کا مشترکہ اثاثہ ہے۔ ہمیں اپنے گھروں میں پانی کے محتاط استعمال کو معمول بنانا ہوگا، لیکیج کی فوری اطلاع دینی ہوگی اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے پانی بچانے کو قومی فریضہ سمجھنا ہوگا۔ اگر آج ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو کل ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔
