اکیسویں صدی کی اقتصادی اور سیاسی صورتِ حال تیزی سے بدل رہی ہے جس میں مغربی تسلط کے برعکس کثیر القطبی دنیا، چین کا معاشی عروج، سی پیک اور ٹیکنالوجی پر مبنی نئی معیشت شامل ہیں۔ اس وقت بڑی طاقتوں کو لبرل اور نیو لبرل معاشیات، قوم پرستانہ سیاست اور جنگی آلودگی جیسے چیلنجز در پیش ہیں۔ اب ڈپلومیسی ماضی کی نسبت زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہے۔عالمی استعمار کا استعارہ امریکا اب بین الاقوامی اقتصادی اور سیاسی نظام کا اکیلا چودھری نہیں رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ طاقت کے کئی مراکز سامنے آ رہے ہیں جنھوں نے امریکا کے سپر پاور ہونے کے دعوے کو مسمار کر دیا ہے۔ اس کی بقا کا انحصار اب یورپ، مشرقی ایشیا، جاپان اور چین کی مخالفت کو معتدل کرنے پر ہے۔ اکیسویں صدی میں روس نے بھی دنیا کی سیاست میں ایک بار پھر اپنا کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس نے مشرق وسطیٰ کے ساتھ مضبوط معاشی اور سیکیورٹی تعلقات استوار کر لئے ہیں۔ وہ مشرق وسطیٰ، جنوبی امریکا اور مشرقی ایشیا میں امریکی مفادات کے لیے کھلا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ اس اقتصادی اور سیاسی صورتِ حال نے انسانوں کی زندگیوں کو یکسر اور یکدم تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔
اس وقت بین الاقوامی اقتصادی ادارے نیو لبرل اکانومی پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں جس میں صارفی کلچر نے انسانی زندگی کے سماجی، نفسیاتی، معاشی ڈھانچے کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ طرز حکمرانی اور معاشی نظام، آزاد منڈی کو انسانی فلاح کا واحد ذریعہ سمجھتا ہے۔ ان کے خیال کے مطابق ریاست کو نہ تو کاروبار کرنا چاہیے اور نہ ہی اقتصادی سرگرمیوں میں دخل انداز ہونا چاہیے۔ اس نظام میں تعلیم، صحت اور توانائی جیسے بنیادی شعبے نجی کمپنیوں کے حوالے کر دیے جاتے ہیں تاکہ مقابلے کی فضا پیدا ہو اور کارکردگی بہتر ہو۔ حکومت صنعت اور تجارت پر پابندیاں کم سے کم کر کے سرمایہ داروں کو زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے مواقع فراہم کرتی ہے تاکہ معیشت ترقی کر سکے۔ حکومت عوامی بہبود جیسے ملازمین کی پنشن، بزرگ شہریوں کی مراعات، مفت تعلیم، مفت صحت اور سستے ذرائع آمد و رفت وغیرہ پر اخراجات کم کر دیتی ہے۔ اس کی دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ ایسا ریاست کے اخراجات کو کم کر کے خسارہ ختم کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ نیو لبرل اقتصادیات میں ریاست ماں کا کردار ادا کرنے کے بجائے کارپوریٹ کمپنیوں کی سہولت کار بن جاتی ہے۔
نیو لبرل اکانومی اپنی بقا کے لئے صارفی کلچر کو فروغ دیتی ہے۔ یہ ایسی ثقافت ہے جہاں ضرورت سے زیادہ خواہش کو اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ اشیاء خریدیں چاہے انہیں ان کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔ انسان کے ماضی پر نظر دوڑائیں تو معلوم پڑتا ہے کہ ماضی میں انسان کی پہچان اس کےکردار، علم، تنقیدی بصیرت اور ہنر سے ہوتی تھی لیکن اب اس کی پہچان اس کے زیرِ استعمال “برانڈز” سے ہوتی ہے۔ موبائل فون، بڑی گاڑی، قیمتی کپڑے، فاسٹ فوڈ اور غیر ملکی پرفیوم اب ضرورت نہیں بلکہ سماجی حیثیت کا نشان بن چکے ہیں۔
میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی کے مقاصد بھی تبدیل ہو کر رہ گئے ہیں۔ ماضی میں ان کو معلومات، علم اور تفریح فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ علم کی فراہمی اور حقائق سے آگاہی افراد کو اطمینان فراہم کرتی ہے لیکن اب اس کا مقصد بے چینی اور اضطراب پھیلانا ہے۔ یہ احساس دلاتا ہے کہ ہم نامکمل ہیں اور اس کمی کو ہم مہنگی پروڈکٹ خرید کر پورا کر سکتے ہیں۔ میڈیا پر دکھائے جانے والے اشتہارات اب مصنوعات کی تشہیر نہیں بلکہ مکمل فکری و ثقافتی نظام کا حصہ ہوتے ہیں۔ اس کلچر میں منڈی کو مرکزیت حاصل ہے اور فرد کو صارف کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اشتہارات اس تصور کو مضبوط کرتے ہیں کہ انسانی خوشی، شناخت اور سماجی مقام کا انحصار اشیا کی خریدو فروخت پر ہے۔ یوں اشتہارات اب ضرورت نہیں بلکہ لامتناہی خواہشات کو جنم دینے کا ذریعہ ہیں۔
نیولبرل اکانومی میں ریاست کا کردار کم اور نجی سرمائے کا کردار بڑھ جاتا ہے۔ یوں سمجھیں کہ اشتہارات نجی کمپنیوں کے مفادات کی نمایندگی کرتے ہیں۔ صارفی معاشرے میں اشتہارات آزادی، انتخاب اور خوش حالی جیسے تصورات کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ صارف سمجھے کہ مارکیٹ میں انتخاب ہی حقیقی آزادی ہے، درحقیقت یہ آزادی سرمایہ دارانہ نظام کی حدود میں قید آزادی ہے۔ معروف مفکر زیگمنٹ باؤمن کے مطابق صارفی معاشرہ انسان کو مستقل عدم اطمینان کی کیفیت میں مبتلا رکھتا ہے اور اشتہارات اس بے چینی کو مزید ہوا دیتے ہیں۔ سماجی اور ثقافتی سطح پر دیکھا جائے تو اشتہارات اقدار کی تشکیل نو بھی کرتے ہیں۔ خاندانی رشتے، اخلاقی قدریں اور اجتماعی شعور پس منظر میں چلے جاتے ہیں بلکہ ذاتی مفاد، جسمانی خوب صورتی اور فوری لذت کو ابھارا جاتا ہے۔ کارل مارکس کے نظریہ کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام میں اشیا کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ جیسے ان میں جادوئی طاقت ہو اور انسانوں کے باہمی تعلقات اشیا سے تعلقات میں بدل جاتے ہیں۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ میڈیا، جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم نیو لبرل اکانومی کے محافظ ہیں، وہ نہ صرف آزاد منڈی کو وسعت دیتے ہیں بلکہ انسانی شعور، خواہشات اور شناخت کو مارکیٹ کے تابع کر دیتے ہیں۔ صارفی کلچر اشیاء کی پائیداری کے بجائے تبدیلی پر زور دیتا ہے۔ آج کی معیشت اسی لیے رواں دواں ہے کیوں کہ چیزیں جلد خراب ہو جاتی ہیں یا پھر فیشن سے باہر ہو جاتی ہیں۔ اس ناپائیداری کو Planned Obsolescenceکہا جاتا ہے یعنی چیزوں کو بنایا ہی اس طرح جاتا ہے کہ وہ جلد خراب ہو جائیں اور لوگ انھیں دوبارہ خریدنے پر مجبور ہوں۔ ایک طرف نیو لبرل اکانومی اشیا کی پیداوار کو بڑھانے پر زور دیتی ہے تو دوسری جانب صارفی کلچر اس کی کھپت پر زور دیتا ہے۔ جب خواہشات لامحدود ہوں اور آمدنی محدود ہوتو اس خلیج کو کریڈٹ کارڈ اور بینک کے قرضوں سے پُر کیا جاتا ہے۔ مقابلہ بازی کی اس فضا میں فرد ہمیشہ دباؤ کا شکار رہتا ہے جس سے کئی نفسیاتی بیماریاں بھی پیدا ہوتی ہیں۔ اس اقتصادی نظام نے شاید انسان کی مادی ترقی میں تو اس کی مدد کی ہو لیکن سماجی رشتوں، اقدار اور زمینی ماحول کو خاصا نقصان پہنچایا ہے۔ نیو لبرل اکانومی اور صارفی کلچر کی بدولت ایک ایسا سماج تشکیل پذیر ہو چکا ہے جہاں انسان کی قدر اس کے خریدنے کی صلاحیت سے ماپی جاتی ہے، یعنی اسے محض صارف سمجھا جاتا ہے، انسان نہیں۔ یہی اس اقتصادی نظام کی فکری اور اخلاقی پیچیدگی ہے۔
