فیصل آباد: پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کی طرف سے رجسٹریوں کے لئے بیانات ریکارڈ کرنے کے حوالے سے طریقہ کار میں تبدیلی کو دو ہفتے سے زائد کا وقت گزرنے کے بعد سے فیصل آباد سمیت صوبے کے زیادہ تر اضلاع میں رجسٹریوں کا سلسلہ بند ہے۔ فیصل آباد میں اراضی ریکارڈ سنٹر اور خدمت مرکز کے فرسٹ فلور پر قائم سب رجسٹرارز کے دفاتر خالی پڑے ہیں اور سب رجسٹرارز سمیت دیگر عملہ بھی ڈیوٹی پر نہیں آ رہا ہے۔ رجسٹریاں نہ ہونے کی وجہ سے سینکڑوں شہری روزانہ دور دراز سے شہر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں لیکن انتظامیہ کی طرف سے رجسٹریوں کے اندراج کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے کے حوالے سے تاحال کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے محکمہ مال میں جاری رشوت ستانی کی روک تھام کے حوالے سے جاری اقدامات کے تحت رواں سال کے آغاز پر پہلے پٹواریوں سے زمین کی فروخت کے لئے “فرد بیع” جاری کرنے اور زبانی انتقال کے اختیارات واپس لئے تھے اور پھر 14 جنوری سے سسٹم کی سکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کے لئے سب رجسٹرارز کے آن لائن اکاونٹس کی انٹرنیٹ کے ذریعے کہیں سے بھی رسائی پر پابندی لگا دی ہے۔ اس حوالے سے جاری نئے احکامات میں سب رجسٹرارز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ صرف اپنی متعلقہ تحصیل میں قائم کردہ مخصوص ای-رجسٹریشن سینٹرز پر ہی اکاونٹس استعمال کریں گے۔ تاہم اس حکمنامے کے اجراء کے بعد سے سب رجسٹرارز کی طرف سے فیصل آباد سمیت پنجاب کے کئی اضلاع میں رجسٹریوں کے لئے بیانات ریکارڈ کرنے کا سلسلہ بند ہے اور رواں ہفتے کے آغاز سے سب رجسٹرارز اور عملے نے دفاتر آنا بھی بند کر دیا ہے۔ رجسٹریاں کروانے کے لئے اراضی ریکارڈ سنٹر اور خدمت مرکز کے چکر لگانے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے تک یہ کہا جا رہا تھا کہ سرور انسٹالیشن مکمل نہ ہونے کی وجہ سے رجسٹریوں کے لئے بیانات بند ہیں لیکن اب یہ کہا جا رہا ہے کہ ہر سب رجسٹرار نے کم از کم تین، تین لیپ ٹاپ پر اکاونٹس چلانے کی اجازت دینے کا مطالبہ پورا ہونے تک کام کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ قبل ازیں ایک سے زائد کمپیوٹرز پر اکاونٹس چلانے کی سہولت حاصل ہونے کے باعث سب رجسٹرارز نے اسے رشوت کے حصول کا ذریعہ بنایا ہوا تھا۔ اس سلسلے میں رجسٹری کروانے کے لئے آنے والے شہریوں کو سرکاری اوقات میں سسٹم نہ چلنے کا کہہ کر سارا سارا دن انتظار کروایا جاتا تھا۔ بعدازاں دفتری اوقات کار ختم ہونے کے بعد انہی لوگوں سے منہ مانگی رشوت وصول کرکے اراضی ریکارڈ سینٹر یا خدمت مرکز کی بجائے اپنے ذاتی ٹھکانوں پر رجسٹریوں کے لئے بیان لے کر بائیومیٹرک کرنے کے علاوہ تصاویر بنا کر سسٹم میں اپ لوڈ کی جاتی تھیں۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو رانا محمد موسی نے رابطہ کرنے پر بتایا ہے کہ ای-رجسٹریشن سینٹرز کی مین سرور سے کنکیٹویٹی کے ایشوز آ رہے ہیں جن کو حل کرنے کے لئے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں اور جیسے ہی یہ کام مکمل ہو گا رجسٹریوں کے لئے بیانات ریکارڈ کرنے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس حوالے سے کوئی حتمی تاریخ بتانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کیونکہ سسٹم میں آنے والے تکنیکی مسائل کو پنجاب انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی بورڈ کے ماہرین کی ٹیم براہ راست دیکھ رہی ہے۔ تاہم انہوں نے پٹواریوں، سب رجسٹرارز اور محکمہ مال کے دیگر عملے کے رشوت لینے اور سب رجسٹرارز کے ایک سے زائد لیپ ٹاپ پر اکاونٹس چلانے کے مطالبے سے متعلق سوالوں کا جواب نہیں دیا۔
