فیصل آباد: پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے تحت فیصل آباد کے اراضی ریکارڈ سنٹرز اور خدمت مرکز میں تین ہفتوں سے جاری تعطل کے بعد جزوی طور پر رجسٹریوں کے لئے بیانات ریکارڈ کرنے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔ رجسٹریاں کروانے کے لئے آنے والے شہریوں کو گزشتہ روز دونوں مقامات پر شدید رش اور بدنظمی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران اراضی ریکارڈ سنٹر اور خدمت مرکز میں خواتین کے لئے الگ کاونٹر کی سہولت موجود نہ ہونے کی وجہ سے خواتین کو شدید رش اور ہجوم کے باوجود مردوں کے رش میں بیان ریکارڈ کروانے پڑے اور کئی خواتین دھکم پیل کا شکار ہوئیں۔ علاوہ ازیں اراضی ریکارڈ سنٹرز اور خدمت مرکز میں بزرگوں اور معذور افراد کے لئے لفٹ یا ریمپ کی سہولت بھی دستیاب نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کے ورثاء انہیں اٹھا کر لانے لیجانے پر مجبور ہیں۔ واضح رہے کہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے 14 جنوری سے رشوت ستانی کا راستہ بند کرنے اور سسٹم کی سکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کے لئے سب رجسٹرارز کے آن لائن اکاونٹس کی انٹرنیٹ کے ذریعے کہیں سے بھی رسائی پر پابندی لگا دی ہے جس کے بعد سے سب رجسٹرارز اور عملے نے تکنیکی خرابی کا بہانہ بنا کر رجسٹریوں کا سلسلہ بند کرکے دفاتر آنا چھوڑ دیا تھا۔ اس دوران یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ سب رجسٹرارز نے کم از کم تین، تین لیپ ٹاپ پر اکاونٹس چلانے کی اجازت دینے کا مطالبہ پورا ہونے تک کام کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ بعدازاں سب رجسٹرارز کا یہ مطالبہ پورا ہونے کے بعد 29 جنوری سے جزوی طور پر رجسٹریوں کے لئے بیانات ریکارڈ کرنے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے اب بھی یہ شکایات سامنے آ رہی ہیں کہ آئے روز تکنیکی خرابی کا بہانہ بنا کر رجسٹریوں کے لئے بیانات ریکارڈ کرنے کا سلسلہ بند کر دیا جاتا ہے اور شہریوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ رشوت دے کر دفتری اوقات کے بعد کمیشن پر بیان ریکارڈ کروائیں۔ علاوہ ازیں اب بھی سب رجسٹرارز نے بیانات ریکارڈ کرنے کے لئے پرائیویٹ افراد کو اراضی ریکارڈ سنٹر اور خدمت مرکز میں فرنٹ کاونٹرز پر بٹھایا ہوا ہے جو اپنے سب ایجنٹس کے ذریعے رجسٹری کروانے کے لئے آنے والے شہریوں سے رشوت لے کر ان کے بیان کروا دیتے ہیں جبکہ صبح سویرے آ کر ٹوکن لینے والوں کی شام تک باری نہیں آتی ہے۔ شہریوں نے وزیر اعلی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ مال میں جاری کرپشن میں ملوث سرکاری افسران اور ان کے ایجنٹوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے اور اراضی ریکارڈ سنٹر و خدمت مرکز میں خواتین کے لئے الگ کاونٹرز قائم کرنے کے ساتھ ساتھ بزرگ اور معذور شہریوں کی دوسری منزل تک رسائی آسان بنانے کے لئے ریمپ یا لفٹ کی سہولت فراہم کی جائے۔
