ترشاوہ پھلوں کی پیداوار بڑھانے کے لئے کلائمیٹ اسمارٹ ترشاوہ پیداوار کے طریقوں کو اپنانا ضروری قرار

فیصل آباد: ترشاوہ پھلوں کی پیداوار کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کلائمیٹ اسمارٹ ترشاوہ پیداوار کے طریقوں کو اپنانا ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار ماہرین نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں منعقدہ انٹرنیشنل سیمینار بعنوان ”موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں ترشادہ پھلوں کی پیداوار کا مستقبل“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔ سیمینار کا انعقاد انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹیکلچر سائنسز زرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے چائنا پاکستان ہارٹیکلچر ریسرچ اینڈ ڈیمانسٹریشن سینٹر، ہواژونگ ایگریکلچرل یونیورسٹی چین، ووہان (چین پاکستان) بیلٹ اینڈ روڈ جوائنٹ لیبارٹری، سِٹرَس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سرگودھا اور ایگریکلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ترناب پشاور کے باہمی اشتراک سے کیا۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ ترشاوہ پاکستان کی اہم ترین پھل دار فصلوں میں سے ایک ہے جو زرعی ترقی اور غذائیت میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں نے ترشاوہ کی پیداوار، معیار اور پائیداری کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے باعث کلائمٹ اسمارٹ زرعی طریقوں کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تحقیق، جدت اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ یونیورسٹی جدید ٹیکنالوجی، کسانوں کی تربیت اور شواہد پر مبنی پالیسیوں کے فروغ کے لیے پرعزم ہے تاکہ ترشاوہ پھلوں کی پیداوار میں بڑھوتری کو یقینی بنائی جا سکے۔ ڈین کلیہ زراعت ڈاکٹر غلام مرتضیٰ نے بین الاقوامی مقررین کی جانب سے عالمی تجربات کے تبادلے کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ ایسے سیمینار تحقیق اور عملی کاشتکاری کے درمیان فاصلے کو کم کریں گے، جس سے کاشتکاروں اور قومی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔ ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹیکلچر ڈاکٹر احمد ستار نے ترشاوہ پھلوں کی برآمدی صلاحیت بہتر بنانے پر زور دیا اور جدید کاشتکاری طریقوں، تحقیق پر مبنی فصلوں اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ حکمتِ عملیوں کو اپنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ ہواژونگ ایگریکلچرل یونیورسٹی چین کے ڈاکٹر یونگ ژونگ لیو نے ترشاوہ پھلوں کی پیداوار میں بہتری کے لیے سائنسی انتظامی طریقوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، بہتر اقسام اور ڈیٹا پر مبنی کاشتکاری اپنا کر موسمی دباؤ کے باوجود پیداوار اور پھل کے معیار میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی امریکہ کے ڈاکٹر سجاد نے کہا کہ ترشاوہ پھلوں کی کاشت کسانوں اور دیہی آبادی کے لیے متعدد معاشی اور غذائی فوائد رکھتی ہے۔ ڈاکٹر محمد اعظم نے کہا کہ بڑھتے درجہ حرارت اور غیر متوقع موسمی حالات کے پیشِ نظر کلائمٹ اسمارٹ ترشاوہ پیداوار وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سیمینار میں ڈاکٹر محمد عثمان، ڈاکٹر عدنان یونس، ڈاکٹر رائے محمد آصف، ڈاکٹر ثمر عباس نقوی، ڈاکٹر راشد وسیم، ڈاکٹر افتخار احمد و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں