ارنستو سباتو 1911ء میں ارجنٹینا کے ایک چھوٹے سے گاؤں “روجاس” میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے ہی ملک سے حاصل کی اور اعلی تعلیم کے سلسلے میں پیرس منتقل ہو گئے۔ وہاں انھوں نے طبعیات کے علم میں دسترس حاصل کی، تحقیق و تدریس اور تخلیق کو زندگی کا مقصد بنایا اور یونیورسٹی میں طبعیات کی پروفیسر شپ پر فائز ہوئے۔ طبعیات کے ساتھ ساتھ سائنس کے دیگر مضامین میں بھی ان کی معلومات حیرت انگیز تھیں۔ انھیں شروع ہی سے ادب سے دلچسپی تھی۔ اس لیے ان کے مضامین ادبی جرائد کے صفحات کی زینت بنتے رہتے تھے۔ ان کے کئی ادبی مضامین ارجنٹینا کے معروف ادبی جریدے SUR میں اشاعت پذیر ہوئے، جسے بیسویں صدی میں ہسپانوی ادب کے مؤقر جرائد میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔ یہ وہی جریدہ ہے جس کے مدیر سے افسانہ نگار اور شاعر خورخے لوئس بورخیس کا بھی دوستانہ رہا ہے۔ دیکھا جائے تو ارنستو سباتو کی ابتدائی تحریروں میں بورخیس کے فکشن کے نمایاں اثرات موجود ہیں۔ بعدازاں اس نے بورخیس پر مخالفانہ تبصرے رقم کیے جس میں اس نے بورخیس پر فنی الزامات بھی عائد کیے۔ ارنستو سباتو کے تنقیدی مضامین کے مجموعے بھی اشاعت پذیر ہو چکے ہیں۔ “سرنگ” (The Tunnel) کے علاوہ “سورماؤں اور مقبروں پر (On Heroes and Tombs)” اور “ظلمت کا فرشتہ” (Angel of Darkness) بھی اس کے معروف ناول ہیں جنھیں ہسپانوی ادب میں اہم مقام حاصل ہے۔ ارنستو سباتو نے ایک سو سال زندہ رہنے کے بعد 2011ء میں وفات پائی۔

“سرنگ” ارنستو سباتو کا پہلا ناول ہے جو 1948ء میں شائع ہوا۔ اس کا شمار بیسویں صدی کے مختصر ناولوں کی فہرست میں اوّل درجے کے ناولوں میں کیا جاتا ہے۔ اس ناول کا دنیا کی تمام بڑی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور دنیا کے اہم فکشن نگار جن میں توماس مان، البرٹ کامیو اور گراہم گرین جیسے نام شامل ہیں، نے اس کے بارے میں تعریفی کلمات قلم بند کیے ہیں۔ “سرنگ” کا پہلا انگریزی ترجمہ عدم دستیابی کا شکار ہے۔ مئی 1988ء میں اس کا دوسرا انگریزی ترجمہ سئیرز پیڈن نے کیا جو امریکا میں شائع ہوا تو اس کی رسائی نئے قارئین تک ہوئی۔ اردو کے معروف مترجم آصف فرخی نے جب اس ناول کو اردو قالب میں منتقل کیا تو ان کے سامنے بھی سئیرز پیڈن کا ہی انگریزی ترجمہ رہا۔ اس ترجمے کو فکشن ہاؤس ،لاہور نے 2016ء میں شائع کیا ہے۔
مذکورہ ناول مصور حوان پابلو کاستیل کی ذہنی اور وجودی کیفیات کا بیانیہ ہے۔ مرکزی کردار خود ہی ناول کی کہانی کا راوی ہے جو جیل میں قید ہے اور اپنے جرم کا ماجرا رقم کر کے اسے شائع کرنے کا خواہاں ہے۔ ناول کا ابتدائیہ تصویری نمائش سے شروع ہوتا ہے۔ اس تصویری نمائش میں کاستیل نے بھی اپنی تصویریں آویزاں کر رکھی ہیں جس میں ایک تصویر “مامتا” کے عنوان سے شامل ہے۔ ناقدین کو اس تصویر میں احساسِ تعمیر اور ٹھوس پن دکھائی دیتا ہے لیکن تصویر کے بائیں جانب کونے میں ایک کھڑکی ہے۔ اس کھڑکی میں ایک منظر قید ہے۔ سنسان ساحل اور سمندر کی جانب دیکھتی ہوئی ایک تنہا عورت۔ یہ عورت کیا دیکھ رہی ہے اور اسے کس کا انتظار ہے؟ سلگتی، دل کو چیرتی اور تفکر سے لبریز اداس تنہائی، جو اس تصویر سے عیاں ہے، اسے کوئی نہیں دیکھتا۔ ناظرین آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں اس تصویر کی اداسی اور تنہائی کی جانب کسی کی توجہ مبذول نہیں ہوتی۔ اسی دوران میں ایک اجنبی عورت نمودار ہوتی ہے جو اس تصویر کا بغور جائزہ لیتی ہے۔ وہ اس اداسی اور تنہائی کو محسوس کرتی ہے جسے اس تصویر میں اجاگر کیا گیا ہے۔ وہ تصویر دیکھ کر چلی جاتی ہے۔اس کے جانے کے بعد کاستیل کو احساس ہوتا ہے کہ وہ واحد ہستی ہے جو اس کو سمجھ سکتی ہے۔
ناول کے آغاز ہی میں راوی، قاری پر منکشف کر دیتا ہے کہ اس نے اس عورت کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ناول تکنیک کے اعتبار سے دیگر ناولوں سے اس لیے بھی مختلف ہے کہ ناول جس واقعے سے شروع ہوا تھا اسی پر اس کا اختتام ہوتا ہے۔ انجام معلوم ہونے کے باوجود قاری اس ناول کو پوری دلچسپی اور انہماک سے پڑھ ڈالتا ہے کیوں کہ وہ اس واقعے کی توجیہہ جاننے کا متلاشی ہے۔ ناول کی کہانی کو اگر سرنگ سے تشبیہ دی جائے تو یہ سرنگ چکر کاٹ کر وہیں جا پہنچتی ہے جہاں سے اس کے دہانے کا سراغ ملا تھا۔آصف فرخی اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: “کہانی کیا ہے؟ ایک گردابِ بلا ہے۔ دیوانہ وار اسی چکر میں گھومتے رہیے، اس لیے کہ قاتل مصور بھی یہی کر رہا ہے، کہ یہی اس کا عذاب ہے۔۔۔اس ناول کی کہانی بھنور کی طرح چلتی ہے۔ یعنی آپ سمجھتے ہیں کہ ماجرا آگے بڑھ رہا ہے جب کہ آپ گردش میں ہیں اور بھنور کی گہرائی میں پھنستے جا رہے ہیں۔ لاکھ ہاتھ پاؤں مارئے، ڈوبنا مقدر ٹھہرا۔”
ناول کی کہانی آگے بڑھتی ہے اور کاستیل اس عورت کی تلاش شروع کر دیتا ہے۔ وہ اس کی تلاش کے کئی امکانات پر غور کرتا ہے اور پھر اپنی ذہنی کیفیت کے زیرِ اثر ان میں سے کئی ایک کو رد کرتا چلا جاتا ہے۔ سوچ بچار اور تفکر کی عادت نے اس میں تشکیک کا زہر بھر دیا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو اسے ماریا کا قتل کراتی ہے۔ اس کی نکتہ چینی اور امکانات کی باریک بینی اس قدر حیران کن ہے کہ قاری کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کب ہوش مندی سے بے خودی یا جنون کی کیفیت میں داخل ہو گیا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ ماریا نے آئندے سے شادی کیو ں کی؟ ہنٹر سے اس کے تعلقات کس طرح کے ہیں؟ کیا وہ اس سے حقیقی پیار کرتی ہے؟ وہ تین لوگوں سے ایک ہی وقت میں کس طرح ملوث ہے؟ دھیرے دھیرے ناول کا بیانیہ ہمیں اس کے ذہنی خلفشار کے قریب تر لے جاتا ہے۔ ارنستو سباتو کا کمال ہے کہ وہ کردار کی نفسیاتی کشمکش اور کیفیات کے اتار چڑھاؤ سے قاری کے ذہن کو جکڑ کر رکھتا ہے۔ ناول میں لغویت اور لایعنیت کے باوجود بوریت اور یکسانیت کا احساس نہیں ہونے پاتا۔
ناول میں ارنستو سباتو نے اس کے احساسِ جمال اور اس کے تخلیقی شعور کو منفرد انداز میں قاری کے سامنے پیش کیا ہے۔ وہ اپنی تخلیقات پر ناقدین کی آرا سے برہم ہو جاتا ہے جس سے اس کی فنکارانہ انانیت پسندی ظاہر ہوتی ہے۔ اس طرح کی انانیت پسندی تقریباً ہر تخلیق کارکے ہاں پائی جاتی ہے، بس صرف درجے کا فرق ہوتا ہے۔ناقدین کے خلاف اس کا رویہ ناول میں کچھ انداز سے پیش ہوا ہے: “نقاد:۔ یہ لوگ ایسا طاعون ہیں جسے میں تو کبھی سمجھ نہیں پایا۔ اگر میں بڑے پائے کا جراح ہوتا اور میرے سامنے ایک ایسا شخص لایا جاتا جس نے زندگی میں کبھی ہاتھ میں نشتر تک نہیں پکڑا، جو ڈاکٹر بھی نہیں تھا اور جس نے بلی کے ٹوٹے ہوئے پنجے کی پٹی تک نہیں کی تھی اور وہ شخص مجھے بتانے لگے کہ میں نے جراحی کے دوران کیا غلطی کی تھی، تو لوگ بھلا کیا کہیں گے؟ یہی مصوری کے ساتھ ہے۔”
کاستیل کے کردار کو ناول میں آدم بیزار اور کلبیت پسند فنکارکے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس کا عشق اور احساسِ جمال اس کے مزاج کی وحشت سے ہم آمیز ہیں جنھیں الگ کیا جانا ممکن نہیں۔ یہ کردار قاری پر یہ حقیقت ظاہر کرتا ہے کہ ہر انسان میں ایک وحشی درندہ اور ایک معصوم فرشتہ بیک وقت موجود ہوتے ہیں۔ یہ کیفیت دنیا کے کئی ناولوں میں بیان ہوئی ہے لیکن “سرنگ” میں یہ تضاد انتہائی مربوط شکل میں موجود ہے۔ اس خصوصیت کی بنیاد پر اس ناول کو جدید انسان کا Parable قرار دیا گیا ہے۔ جدید انسان جو کئی طرح کے نفسیاتی مسائل اور المناک الجھنوں کا شکار ہے۔ وہ آسانی سے اپنی تصویر اس کردار کے آئینے میں دیکھ سکتا ہے۔ بظاہر یہ عام سی کہانی ہے لیکن اس کے باطن میں گہری معنویت پوشیدہ ہے جو باریک بین ذہنوں کو اپنی جانب ملتفت کر لیتی ہے۔
آصف فرخی نے مذکورہ ناول کو بڑی خوب صورتی سے اردو قالب عطا کیا ہے۔ اس طرح انھوں نے ارنستو سباتو کو اردو قارئین سے متعارف کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس سے پہلے گبرائیل گارشیا مارکیز، خورخے لوئس بورخیس، ماریو برگس یوسا، حوزے سارا ماگو اور کارلوس فوئنتیس جیسے ہسپانوی فکشن نگاروں کا فکشن اردو میں ترجمہ ہو کر، اردو فکشن کے قارئین سے داد وصول کر چکا ہے۔
