ایڈز سے بچاو کا عالمی دن کل یکم دسمبر کو منایا جائے گا۔ اس سلسلے میں پاکستان سوسائٹی فار انٹرنل میڈیسن کے فیصل آباد چیپٹر، فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی اور پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے اشتراک سے آگاہی واک کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ آگاہی واک الائیڈ ہسپتال فیصل آباد کے او پی ڈی سے شروع ہو کر فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی پر اختتام پذیر ہو گی۔ واک کی قیادت پروفیسر ظفر چوہدری، پروفیسر ڈاکٹر عامر شوکت، ڈاکٹر محمد عرفان، ڈاکٹر فہیم یوسف اور ڈاکٹر نازیہ کریں گی۔
فیصل آباد میں پاکستان سوسائٹی فار انٹرنل میڈیسن کے سربراہ ڈاکٹر محمد عرفان کے مطابق عالمی سطح پر ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد 40.8 ملین ہے جبکہ بالغ افراد میں اس مرض کی شرحِ 0.7 فیصد ہے۔ اسی طرح پاکستان میں ایڈز کے پھیلاو کی شرح بڑھ کر 0.2 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور تقریباً 3.5 سے 4.8 لاکھ افراد اس مرض کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور ماہانہ ایک ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیر سے تشخیص اور علاج میں تاخیر کے باعث ایڈز کے مریضوں میں جان لیوا پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں جن میں انفیکشنز، ٹی بی، نمونیا، کرپٹوکوکل میننجائٹس، کینسر، ویسٹنگ سنڈروم، وزن میں شدید کمی اور ملٹی آرگن فیلئیر شامل ہیں۔ ڈاکٹر عرفان کے مطابق بروقت اور مستقل اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی سے مریض معمول کے مطابق صحت مند زندگی گزار سکتا ہے اور وائرس کی منتقلی کا خطرہ بھی تقریباً ختم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں “ایچ آئی وی” کے بڑھتے ہوئے کیسز ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔ ملک میں لاکھوں متاثرین کے باوجود بہت سے افراد تشخیص اور علاج تک نہیں پہنچ پاتے جس سے نہ صرف بیماری بگڑتی ہے۔ ڈاکٹر عرفان نے اس بات پر زور دیا کہ جلد تشخیص، آگاہی، رسک گروپس تک رسائی، اور اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی کے بروقت آغاز سے اموات اور پھیلاؤ میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سوسائٹی فار انٹرنل میڈیسن فیصل میں میں ایچ آئی وی ٹیسٹنگ، علاج اور عوامی شعور بیدار کرنے کے پروگراموں کو مزید وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر عامر شوکت نے کہا ہے کہ ایچ آئی وی ایک ایسا مرض ہے جسے مناسب احتیاط، تعلیم اور صحت مند رویوں کے ذریعے مکمل طور پر قابلِ بچاؤ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں وائرس کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات میں غیر محفوظ انجیکشن، ناکافی بلڈ سکریننگ، منشیات کا استعمال، اور معاشرتی بدنامی شامل ہیں جس کی وجہ سے لوگ ٹیسٹنگ سے گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ محفوظ سرنج کا استعمال، خون کی مکمل سکریننگ، محفوظ رویے، وقت پر ایچ آئی وی ٹیسٹنگ اور علاج تک رسائی کو یقینی بنا کر نئے کیسز میں ڈرامائی کمی لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ “اے آر ٹی” کے باعث مریض کا وائرس “ناقابلِ شناخت” ہو سکتا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ اسے دوسروں تک منتقل نہیں کرتا ہے۔
