فیصل آباد کے علاقے ملک پور میں واقع کرسٹل کیمیکل فیکٹری میں دھماکے سے 20 افراد کے جاں بحق ہونے کا واقعہ پیش آنے کے بعد فیکٹریوں میں سیفٹی سے متعلق اقدامات کو یقینی بنانے کے لئے پنجاب حکومت نے بوائلرز اور پریشر ویسلز کی استعداد کار کا ازسر نو جائزہ لینے کے لئےصنعتی یونٹس اور فیکٹریوں کی جامع انسپکشن کا فیصلہ کیا ہے۔ انسپکشن کے دوران صنعتی یونٹس کی جیو ٹیگنگ ولوکیشن کے ساتھ این او سیز کی موجودگی بھی چیک کی جائے گی۔ اس سلسلے میں چار نجی کمپنیوں کو 90 دن کا وقت دیا گیا ہے۔ کمشنر فیصل آباد راجہ جہانگیر انور کے مطابق ایک محتاط اندازے کے مطابق ڈویژن کے صنعتی یونٹس میں 12 سو سے زائد بوائلرز اور6 ہزار سے زائد پریشر ویسلزموجود ہیں جن کی استعداد کار کااندازہ لگانا انتہائی ضروری ہے کیونکہ ایسے بوائلر اور پریشر ویسلز کی معیاد ختم ہونے پر ان کے پھٹنے اور خدانخواستہ انسانی جانوں کے ضیاع کا اندیشہ ہوتا ہے اسی مقصد کے لئے یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔کمشنر نے کہا کہ ڈویژنل انتظامیہ نے انفورسمنٹ کمیٹی بھی قائم کی ہے اور نجی کمپنیز کی طرف سے روزانہ کی بنیاد پرانسپکشن رپورٹ پر این او سیز کی عدم موجودگی سمیت دیگر ایس اوپیز کی تکمیل میں کوتاہی یا عدم توجہی پر صنعتی یونٹ کو سیل کردیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی(فیڈمک) کی انتظامیہ کو بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنی حدود میں قائم تمام صنعتی یونٹس،فیکٹریوں میں بوائلرز/پریشر ویسلز کی درکار تقاضوں اور ان کی استعداد کار کو جانچ کرجامع رپورٹ 30 ایام میں کمشنر آفس کو بھجوائیں۔
