فیصل آباد: ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کو بڑھتے ہوئے موسمیاتی چیلنجز اور درآمدی ایندھن پر بڑھتے ہوئے انحصار کا سامنا ہے، ہنزہ شوگر ملز (پرائیویٹ) لمیٹڈ نے توانائی کے ایک پائیدار متبادل کے طور پر ایتھنول کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔کمپنی کے ایتھنول ڈسٹلری یونٹ نے پائیدار بایو انرجی اور ابھرتے ہوئے ایندھن پر ایک انڈسٹری – اکیڈیمیا ڈائیلاگ کا انعقاد کیا جس میں چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر رانا اقرار احمد خاں، وائس چانسلر، بابا گرو نانک یونیورسٹی ننکانہ صاحب پروفیسر ڈاکٹر شاہد عمران ، وائس چانسلر، جی سی ویمن یونیورسٹی فیصل آباد پروفیسر ڈاکٹر کنول امین، وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر اوگرا انجینئر راحیل پتافی اور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آپریشنز تحفظ ماحولیات پنجاب ڈاکٹر ظفر اقبال، پرنسپل یونیورسٹی آف ایجوکیشن فیصل آباد کیمپس پروفیسر ڈاکٹر رانا شاہد اقبال، ہیڈ آف کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ بابا گرو نانک یونیورسٹی ڈاکٹر سمیرا نعیم، حمزہ شوگر ملز گروپ ہیڈ بریگیڈئیر ریٹائرڈ شہباز رسول اور جنرل منیجر حمزہ شوگر ملز ایتھنول ڈسٹلری یونٹ شیخ محمد عثمان و دیگر شریک ہوئے.

اس موقع پر شرکا نے گنے سے چینی بنانے کے بعد بچنے والی باقیات سے بائیو ایتھانول کی تیاری، ایل این جی کے متبادل کے طور پر بائیو گیس سے آر ایل این جی کی پیداوار، ایتھنول کی برآمدی صلاحیت اور مستقبل میں قابل تجدید ایندھن کے طور پر فروغ کا جائزہ لیا۔ ماہرین نے نشاندہی کی کہ پیٹرول میں 10 فیصد ایتھنول شامل کرکے خام تیل کی درآمدات کو کم کرکے ناصرف قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکتا بلکہ کاربن کے اخراج میں بھی کمی ممکن ہے۔ تاہم ملک میں بائیو ایتھانول تیار کرنے والی تقریباً 20 ڈسٹلریز موجود ہونے کے باوجود ایتھانول کو پٹرول میں شامل کرنے کا فریم ورک موجود نہیں ہے۔ اس موقع پر درآمد شدہ ایل این جی کے قابل عمل متبادل کے طور پر میتھین کو قابل تجدید قدرتی گیس (RNG) میں تبدیل کرنے کے منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ماہرین تعلیم اور پالیسی سازوں نے صنعت اور تحقیقی اداروں کے درمیان مضبوط تعاون پر زور دیا اور کہا کہ طویل مدتی پالیسی سپورٹ، تحقیق، سرمایہ کاری اور ریگولیٹری سہولت ایتھنول کی پیداوار کو بڑھانے اور اپنانے کے لیے ضروری ہے۔ شرکاء نے E10 ایندھن (10 فیصد ایتھنول کے ساتھ ملا ہوا پیٹرول) متعارف کرانے کی سختی سے سفارش کی، جو ایندھن کی درآمدات کو کم کر سکتا ہے، زرمبادلہ کو بچا سکتا ہے، اور کاربن کے اخراج کو کم کر سکتا ہے۔ اس وقت پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور توانائی کے جاری بحران سے نبرد آزما ہے. اس لئے بائیو ایندھن خاص طور پر ایتھنول ایک صاف اور زیادہ پائیدار توانائی کے مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
