لیبر تنظیموں کا محکمہ سوشل سیکیورٹی کے افسران کے لئے بلاسود قرضوں کی منظوری پر اعتراض

فیصل آباد: پنجاب ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (PESSI) میں افسران کے لیے متعارف کرائی گئی بلاسود وہیکل فنانسنگ اسکیم نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ مزدوروں کے علاج معالجے اور فلاحی اخراجات کے لیے قائم ادارے میں گریڈ 17 سے 20 کے افسران کو 60 لاکھ سے 1 کروڑ 20 لاکھ روپے تک کے بلاسود قرضوں کی منظوری پر لیبر تنظیموں کی طرف سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اسکیم گورننگ باڈی کے 176ویں اجلاس میں منظور کی گئی ہے جس کے تحت افسران کو 10 سالہ آسان اقساط پر قرض فراہم کیا جائے گا جس کا مقصد افسران کی “موبلٹی” بہتر بنانا ہے تاکہ انتظامی امور مؤثر انداز میں انجام دیے جا سکیں۔ تاہم پاکستان لیبر قومی موومنٹ کے چیئرمین اور حقوقِ خلق پارٹی پنجاب کے صدر بابا لطیف انصاری نے کہا ہے کہ سوشل سیکیورٹی فنڈز بنیادی طور پر مزدوروں اور آجران کی کنٹری بیوشن سے جمع ہوتے ہیں اور ان کا اولین مصرف مزدوروں کی طبی سہولیات ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب اسپتالوں میں ادویات اور سہولیات کی کمی کی شکایات موجود ہیں افسران کے لیے کروڑوں روپے کے بلاسود قرضوں کی منظوری پالیسی ترجیحات پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں میں وہ افسران بھی شامل ہیں جو پہلے سے سرکاری گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں یا ڈیپوٹیشن پر تعینات ہیں۔ انہوں نے اس معاملے کی شفاف تحقیقات کروانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسکیم پر نظرثانی نہ کی گئی تو اسے عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ انہوں نے حکومتِ پنجاب سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ مزدوروں کے فنڈز کے استعمال سے متعلق واضح پالیسی اور احتساب کا مؤثر نظام یقینی بنایا جائے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں