آج سے 86 سال قبل 23 مارچ 1940ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ منٹو پارک لاہور میں ایک قرار داد منظور کی گئی تھی جسے آج ہم’قرار داد پاکستان‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ اس قرار داد میں پہلی دفعہ مطالبہ پاکستان کو آئین اور قانون کی اصطلاحات میں بیا ن کیا گیا تھا۔ قبل ازیں مسلم علیحدگی پسندی بطور تحریک تو موجود تھی لیکن اس کے ممکنہ آئینی اور قانونی خدو خال واضح نہیں تھے۔ قرار داد لاہور میں مجوزہ پاکستان کو ہندوستان کے جن علاقوں، خطوں اور صوبوں پر مشتمل ہونا تھا ان کی نشاندھی بھی کی گئی تھی۔ اس قرار داد کا مصنف کون تھا اس بارے میں متضاد دعوے موجود ہیں۔ اس حوالے سے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد برطانوی سرکاری کے ایما پر سر ظفر اللہ خاں نے ڈرافٹ کی تھی اور اس کا مقصد کانگریس سے سیاسی سودے بازی تھا۔ معروف مسلم لیگی رہنما ڈاکٹر عاشق حسین بٹالوی مسلم لیگ کے اس اجلاس میں شریک تھے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ جس دن یہ قرار داد اجلاس میں پیش ہوئی تھی اس دن بھی یہ امر زیر بحث تھا کہ یہ قرارداد کس نے ڈرافٹ کی تھی کیونکہ اس قرارداد میں بڑے واضح انداز میں پنجاب اور بنگال کی تقسیم کی بات کی گئی تھی۔

اس قرارداد میں ہندوستان کے شمال مغربی اور شمال مشرقی علاقوں میں دو آزاد مسلمان ریاستوں کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن 9 اپریل 1946ء کو نئی دہلی میں مسلم لیگ کے مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کے نو منتخب ارکان اور لیگی عہدیداروں کے کنونشن میں قرار داد لاہور سے انحراف کرتے ہوئے ’ایک ریاست‘ کی قرارداد منظور کروا لی گئی حالانکہ اس کنونشن کو قرارداد لاہور کے مندرجات میں تبدیلی کا کوئی آئینی اختیا ر حاصل نہیں تھا۔ مزید براں لیگی کنونشن کی منظور کردہ اس قرار داد میں مذکورہ صوبوں کے علاقوں میں ردو بدل کا کوئی ذکر نہیں تھا جب کہ قرارداد لاہور میں کہا گیا تھا کہ مناسب علاقائی ردو بدل کے بعد شمال مغربی اور شمال مشرقی علاقوں میں دو آزاد اور خودمختار مسلم ریاستیں قائم کی جائیں۔
مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس لاہور میں منعقد کروانے اور اس اجلاس میں ’دو آزاد اور خودمختار ریاستوں‘ کے قیام کی قرار داد منظور کروانے میں دو شخصیتوں نے بہت اہم رول ادا کیا تھا۔ ان میں ایک پنجاب کے وزیر اعظم سر سکندر حیات اور دوسری شخصیت بنگال کے وزیر اعظم مولوی اے کے فضل الحق کی تھی۔ یہ دوسری عالمی جنگ کا زمانہ تھا سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد تھی اور ہندوستان کو برطانوی سرکار نے جنگی عمل کا حصہ بنا دیا تھا۔ برطانیہ کی اس پالیسی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کانگریس کی آٹھ صوبائی حکومتیں نومبر 1939ء میں مستعفی ہو چکی تھیں لیکن پنجاب اور بنگال کے وزرائے اعظم سر سکندر حیات اور مولوی اے کے فضل الحق نے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا تھا بلکہ یہ دونوں بڑھ چڑھ انگریز سرکار کی جنگی مساعی میں حصہ لے رہے تھے۔ پنجاب سے ہزاروں نوجوان برطانوی فوج میں بھرتی ہو کر جنگ کا ایندھن بن رہے تھے۔ ان حالات میں منٹو پارک لاہور میں مسلم لیگ کا سالانہ جلسہ ہونے جا رہا تھا۔ سٹیج پر صوبے کا وزیراعظم براجمان تھا لہذا حاضرین کی موجودگی کا تو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ سرکاری وسائل اور اہل کار جلسے میں حاضرین کو لانے کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے تھے۔ یہ آل انڈیا مسلم لیگ کا جلسہ نہیں بلکہ پنجاب حکومت کی طرف سے سیاسی طاقت کا اظہار تھا۔ یہ اجلاس ان سیاسی قوتوں کے خلاف منعقد ہو رہا تھا جو دوسری عالمی جنگ میں ہندوستان کی شمولیت کے خلاف تھیں اور اس کے منتظمین وہ تھے جو ہندوستان کی انگریز سرکار کے ایما پر دوسری عالمی جنگ میں بر طانیہ کو مدد و تعاون فراہم کرنے کے حامی تھے۔

قرار داد لاہور بنگال کے وزیر اعظم اے کے فضل الحق نے پیش کی تھی جنھیں عام طور پر ’شیر بنگال‘ بھی کہا جاتا تھا۔ متلون مزاجی، موقع پرستی اور سیماب پائی مولوی فضل الحق کی شخصیت کی اہم خصوصیات تھیں۔ مولوی فضل الحق نے اپنے کئیریر کا آغاز پہلے پہل کالج ٹیچر کے طور پر کیا تھا۔ بعدازاں وہ ڈپٹی مجسٹریٹ بھرتی ہو گئے اور پھر تھوڑے عرصے بعد انہوں نے ملازمت سے مستعفی ہو کر کلکتہ ہائی کورٹ میں وکالت شروع کر دی تھی۔ مولوی فضل الحق عوامی جلسوں میں حاضرین کے جذبات سے کھیلنے کا فن خوب جانتے تھے۔ وہ جذباتی اور لچھے دار تقریریں کرنے کے بہت ماہر تھے۔ اپنی چرب زبانی اور جذباتی انداز سیاست کی بدولت وہ 1913ء میں ڈھاکہ کے ایک صوبائی حلقے سے ضمنی الیکشن میں بنگال کونسل کے رکن منتخب ہو گئے تھے۔ 1913ء کے بعد مولوی فضل الحق کی سیاسی زندگی تضادات سے بھرپور رہی۔ سیاسی ہوا کے ہر جھونکے کے ساتھ اپنا رخ موڑ لینا اور سیاسی اور جماعتی وابستگی کی دھجیاں اڑانا ان کا مرغوب مشغلہ تھا۔ یہ اپنے وقتی شخصی مفادات کے پیش نظر مسلم لیگ، کانگریس، تحریک خلافت اور سوراج پارٹی سے منسلک رہے۔ انہوں نے کرشک پرجا پارٹی کے نام سے اپنی سیاسی جماعت بھی تشکیل دی تھی۔ یہ وزارتی عہدہ حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔ 1935ء میں وہ کلکتہ میونسپل کارپوریشن کے مئیر منتخب ہو گئے لیکن 1936ء میں انھیں مستعفی ہونا پڑا تھا کیونکہ کارپوریشن کے تمام مسلمان ارکان ان کے مخالف ہو گئے تھے۔
بعدازاں1937 ء کے صوبائی انتخابات مولوی فضل الحق نے اپنی سیاسی جماعت کرشک پرجا پارٹی کے پلیٹ فارم سے لڑے اور بنگال اسمبلی میں ان کی جماعت کو 40 نشستیں ملی تھیں۔ اس وقت ان کے اور محمد علی جناح کے مابین تعلقات انتہائی کشیدہ تھے کیونکہ نومبر 1936ء میں جناح نے مولوی فضل الحق کو مسلم لیگ کے مرکزی پارلیمانی بورڈ کی رکنیت سے برطرف کر دیا تھا۔ اسی بنا پر کرشک پرجا پارٹی کے امیدواروں نے مسلم لیگی امیدواروں کا انتخاب میں ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا۔
مولوی فضل الحق دوسری عالمی جنگ میں انگریزوں کی ہندوستان سے بھرتی اور خام مال کی شکل میں بھرپور مدد فراہم کرنے کے پرجوش حامی تھے۔ اس موقف کی بنا پر ان کے اور جناح کے مابین اختلافات شدید ہو گئے تھے۔ وہی’شیر بنگال‘ جو مارچ 1940ء میں علیحدہ ملک کے حصول کی قرارداد پیش کرتا ہے جون کے آتے آتے جناح کو ’بدترین آمر‘ قرار دے دیتا ہے۔ 29 ستمبر 1940ء کو پنجاب کے وزیر اعلی سر سکندر حیات نے بھی اپنے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ ’پاکستان کی سکیم کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے اور اس سلسلے میں ان کے خلاف غلط، بلا جواز اور بے بنیاد الزامات عائد کئے جارہے ہیں‘۔

مولوی فضل الحق کی جناح سے ناراضگی کا اندازہ ان کے 8 ستمبر 1941 کو لکھے گئے خط سے لگایا جا سکتا ہے جو انہوں نے مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری لیاقت علی خاں کے نام لکھا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مسلم لیگ میں جمہوریت اور خودمختاری کے اصولوں کو فرد واحد کی آمرانہ خواہشات پر قربان کیا جا رہا ہے‘۔
1946ء کا الیکشن جس کی بنیاد پر ہندوستان تقسیم اور پاکستان کا قیام ممکن ہوا تھا مولوی فضل الحق نے مسلم لیگ کی بجائے اپنی سیاسی جماعت کرشک پرجا پارٹی کے پلیٹ فارم سے لڑا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ ڈھاکہ منتقل ہو گئے تھے۔ پہلے وہ ایڈووکیٹ جنرل بن گئے پھر مستعفی ہو کر انہوں نے سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ جب مسلم لیگ کے خلاف مشرقی بنگال کی متعدد سیاسی جماعتوں نے یونائیٹڈ فرنٹ تشکیل دیا تو وہ اس کے قائدین میں شامل تھے۔ صوبائی الیکشن میں مسلم لیگ کو شکست دینے کے بعد وہ فرنٹ کی طرف سے مشرقی بنگال کے وزیر اعلی بنے لیکن جلد ہی ان کی حکومت کو توڑ دیا گیا اور مغربی پاکستان کی سول اور ملٹری بیورو کریسی نے انہیں’غدار‘ ڈیکلیر کر دیا۔ ایک ایسا شخص جس نے قرارداد پاکستان پیش کی تھی وہ پاکستان میں ’غدار‘ قرار دیا گیا۔ مولوی فضل الحق مشرقی بنگال کے گورنر اور وفاقی کابینہ میں وزیر داخلہ بھی رہے۔ مولوی فضل الحق 1962ء میں ایک مایوس انسان اور سیاست دان کے طور پر اس دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔
