ادیب اور شاعر کے باطن میں جنم لینے والے خیالات و جذبات کو ادب کی کسی بھی صنف میں بیان کرنے کا نام اظہار ہے اور اظہار کے عمل کو اظہاریت سے موسوم کیا جاتا ہے۔ جدید ادب میں اظہاریت (Expressionism)، موضوعی صورتِ حال کو معروضی صورتِ حال کے بیان، پر زیادہ ترجیح دیتی ہے۔ اس طرزِ اظہار میں محض قلبی اور باطنی جذبات ادبی تحریر کا حصہ بنتے ہیں۔ اس میں ظاہری رنگ و روپ اور دوسری صفات کو معنی خیز طور پر مسخ کر دیا جاتا ہے تاکہ خاص منظر کی حقیقت کو دھندلا یا جا سکے۔ اس کا مقصد شے کی جذباتی ماہیت تک رسائی حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اظہاریت تجزیہ کرتی ہے اور شے کی ہئیت اور ماہیت کے پاتال میں اترنے کی خواہاں ہوتی ہے تاکہ فنکار اپنے مشاہدے میں گم ہو جائے اور اپنے وجود سے زیادہ کسی اور زیادہ بااختیار شے کا روپ دھار لے۔ اس طرح کی قلبِ ماہیت متنوع رنگ اختیار کرتی ہے۔ کبھی فنکار اپنے آپ کو فطرت کی پنہائی سے تعبیر کرتا ہے تو کبھی کسی شہر، عفریت یا جانور سے خود کو ہم آہنگ پاتا ہے۔ اظہاریت پسند مصوروں کا موضوع زیادہ تر دکھ اور غم رہا ہے لیکن اس کی نوعیت شخصی سے زیادہ اجتماعی رہی ہے۔
اظہاریت کی اس تحریک کا آغاز جرمنی میں بیسویں صدی کے اوائل میں ہوا اور بعدازاں یہ پورے یورپ میں پھیل گئی۔ ادب میں ڈراما، شاعری اور فکشن کی اصناف نے اس سے خاص طور پر اثرات قبول کیے۔ یوجین اونیل، ایلمر رائس، برتولت بریخت، ارتھر ملر اور سموئیل بکٹ نے ڈراما کی صنف میں اسے رواج دیا۔ گاٹفریڈ بین، جارج ہیم، ریلکے اور ٹی ایس ایلیٹ نے اپنی شاعری اور فرانز کافکا، ایلفریڈ ڈبلن، ڈی ایچ لارنس، ولیم فاکنر اور جیمز ہینلے نے اسے اپنی نثری تصنیفات میں جگہ دی۔ موسیقی اور فنِ تعمیر میں بھی اس کے نمونے دریافت کیے جا سکتے ہیں۔ اظہاریت پسندوں نے علامت نگاری اور خواب جیسی فضا پیدا کرکے حسی دنیا کے معروضی خدوخال کو مسخ کرکے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ناقدین کی ایک بڑی تعداد اظہاریت کو حقیقت پسندی اور فطرت پسندی کے خلاف بغاوت خیال کرتی رہی ہے جو بیرونی واقعات کو منطق میں ڈھالنے کے بجائے نفسیاتی اور روحانی سطح پر جا کر مس کرتی ہے۔
چوں کہ اس تحریک کا آغاز جرمنی میں ہوا، اس لیے اظہاریت پسند مصنفین نے جرمنی میں نیا مستقبل تیار کرنے کی کوشش کو دکھایا ہے۔ اس دور کے لکھاری نئے آدمی، نئی بصارت اور نئے سماج کے متلاشی ہیں۔ آپ ٹولر کے ڈرامے “ٹرانسفارمیشن” کی مثال لے سکتے ہیں جہاں یہ دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ایک فرد کی روحانی تجدید اس ملک کے باز پیدائش کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔اس زمانے کے ڈراموں میں ہیرو حالات و تجربات کی بھٹی سے گزر کر نئی زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔ یوں ایک طرح کی نشاۃ ثانیہ کا خواب دیکھا گیا ہے۔
اظہاریت پسند ادیب زندگی میں معنویت تلاش کرنے والے کرداروں کی مدد سے اظہاریت کے مفہوم کو واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ان کےہاں پیش کردہ کردار، اکثر اس احساس کا شکار ہوتے ہیں کہ وہ اب تک جو زندگی گزارتے آئے ہیں وہ محض دھوکا یا سراب تھی اور وہ اپنے ارادے اور حالات کی بدولت اس کو تبدیل کرنے کی خواہش کرتے ہیں۔ ذہن میں رہے کہ اظہاریت میں منزل سے زیادہ سفر اہم ہے۔ جنس اور جنسیت کے معاملے میں اظہاریت پسندوں نے معاشرے کے منافقانہ طرزِ عمل کو موضوع بنایا۔ ان کے خیال میں جنسی تحریک کو دبا کر معاشرہ انسانی قوتِ حیات کو بانجھ بنا دیتا ہے۔ ایک اور موضوع جو اظہاریت پسندوں کے ہاں نمایاں ہے وہ لاتعلقی اور بیگانگی ہے۔ پہلی عالمی جنگ سے پہلے کے ادب میں ان کے ہاں ایسے نوجوانوں کے کردار ملتے ہیں جو اپنے خاندان اور سماج سے لاتعلق ہو جاتے ہیں۔ جنگ کے بعد انھوں نے ایسا ادب تخلیق کیا جس میں کردار خاندان یا معاشرے سے لاتعلق ہونے کے بجائے ریاست یا ملک سے لاتعلق ہوتے دکھائے گئے ہیں۔ اس صورتِ حال کی عکاسی کافکا کے ہاں نمایاں ہوئی ہے۔ اس کے زیادہ تر کردار اس لیے خاندان سے نکال دیے جاتے ہیں کہ وہ خاندان کی توقعات اور روایات سے موافق نہیں ہیں۔
اظہاریت پسندوں کے ہاں تجریدیت کا رجحان بھی موجود ہے۔ وہ اس رجحان کو اس لیے اپناتے ہیں کہ ان کے نزدیک تجرید حقیقت کو کشید کرکے جوہر حا صل کرنے کا نام ہے۔ وہ انسان کی حقیقی دنیا کے بجائے اُس دنیا کو پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کا تعلق انسان کے جذبات و احساسات سے ہے۔ اسی لیے وہ “مونو لوگ” کی تکنیک کا سہارا لیتے ہیں۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اظہاریت فرد کی حقیقی دنیا کی نسبت تصوراتی دنیا کو زیادہ اہمیت دیتی ہے۔ جب یہ کردار خود سے ہم کلام ہوتے ہیں تو ان کی داخلی کیفیات سے قاری باخبر ہوتا ہے۔
مختصراً کہا جا سکتا ہے کہ اظہاریت ایک ایسا فنکارانہ انداز ہے جس میں فنکار معروضی کے بجائے موضوعی حقیقت کو پیش کرتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد اس ردِ عمل کا اظہار ہے جو اشیا اور واقعات فرد کے باطن میں پیدا کرتے ہیں۔ اس موضوعی حقیقت کے اظہار کے لیے فنکار کسی بھی ادبی پیرائے کا استعمال کر سکتا ہے۔ عام طور پر فنتازی، مبالغہ آرائی، تحریف، علامت، استعاریت اور فرد کی جھنجھلاہٹ کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔
