پاکستان میں اڑھائی لاکھ سے زائد ایڈز کے مریض علاج سے محروم، مرض کے پھیلاو کا ذریعہ بن گئے

فیصل آباد: ایڈز سے بچاو کے عالمی دن پر پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن، فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی اور پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام کے اشتراک سے آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا جس کی قیادت پروفیسر ظفر علی چوہدری، پروفیسر عامر شوکت، ڈاکٹر محمد عرفان اور ڈاکٹر نازیہ کر رہے تھے۔ آگاہی واک الائیڈ ہسپتال ون کی او پی ڈی سے شروع ہوئی اور فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر آفس پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔ اس موقع پر شرکاء نے ایچ آئی وی سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر پر مبنی بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کے فیصل آباد چیپٹر کے سربراہ ڈاکٹر محمد عرفان نے کہا کہ ایچ آئی وی اور ایڈز میں واضح فرق ہے، ایچ آئی وی ایک وائرس ہے جیسے ہیپاٹائٹس بی اور سی کے وائرس ہوتے ہیں جبکہ ایڈز اس انفیکشن کی ایسی پیچیدگی ہے جس میں مدافعتی نظام انتہائی کمزور ہو جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا میں ایچ آئی وی کے مریضوں کی تعداد چار کروڑ ہے جن میں سے تین لاکھ 30 ہزار مریضوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صرف 81 ہزار مریض نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام میں رجسٹرڈ ہیں اور محض 58 ہزار باقاعدگی سے ادویات لے رہے ہیں جبکہ باقی غیرعلاج یافتہ مریض بیماری کے پھیلاؤ کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ پروفیسر عامر شوکت نے کہا کہ ’’احتیاط علاج سے بہتر ہے‘‘ اور ایچ آئی وی سے بچاؤ کے لیے بنیادی حفاظتی اقدامات جیسے اسکریننگ کو معمول بنانا، غیر محفوظ جنسی تعلقات سے پرہیز، ایک سے زائد ساتھی رکھنے سے گریز، خون کی منتقلی ہمیشہ اسکرینڈ خون سے کرنا، سرنج اور انجیکشن دوبارہ استعمال نہ کرنا، حجامت اور ڈینٹل آلات ہمیشہ جراثیم سے پاک استعمال کرنا، نشہ آور ادویات خصوصاً آلودہ انجیکشن شیئر کرنے سے مکمل پرہیز، اور دورانِ حمل و پیدائش ماں سے بچے میں منتقلی کی روک تھام شامل ہیں۔ ڈاکٹر نازیہ نے کہا کہ ایڈز کنٹرول پروگرام الائیڈ ہسپتال میں مریضوں کے لیے علاج بالکل مفت فراہم کیا جاتا ہے جہاں مریضوں کے رشتہ داروں کی اسکریننگ بھی بلا معاوضہ کی جاتی ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں