سال 2025 میں بچوں سے زیادتی کے 663 مقدمات درج، کسی ملزم کو سزا نہ ہو سکی

فیصل آباد میں سال 2025 میں بچوں سے جنسی زیادتی کے سینکڑوں مقدمات درج ہونے کے باوجود اب تک ایک بھی ملزم کو سزا نہیں ہوئی ہے جس سے پراسیکیوشن اور انصاف کی فراہمی میں تاخیر پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران فیصل آباد ضلع کے 45 تھانوں میں بچوں سے جنسی زیادتی کے 663 مقدمات درج کیے گئے، ان مقدمات میں مجموعی طور پر 989 مشتبہ افراد ملوث پائے گئے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق ان میں سے 131 مقدمات کو ابتدائی تفتیشن کے دوران مختلف بنیادوں پر خارج کیا گیا۔
دریں اثنا 344 مقدمات میں چالان عدالتوں میں جمع کروائے گئے جبکہ 154 مقدمات نامکمل چالان کے ساتھ پراسیکیوشن برانچ کو بھجوائے گئے اور 18 مقدمات زیر تفتیش ہیں۔
فیصل آباد پولیس کے لائل پور ٹاؤن ڈویژن نے 58 مقدمات درج کیے جن میں 88 مشتبہ افراد شامل تھے۔ ان میں سے 13 مقدمات خارج، 21 چالان جمع کروائے گئے اور 23 نامکمل چالان پراسیکیوشن برانچ کو بھجوائے گئے۔
مدینہ ٹاؤن ڈویژن میں 203 ملزمان کے خلاف 152 مقدمات درج کیے گئے اور پولیس نے 34 مقدمات کو خارج کیا، 93 چالان جمع کروائے اور 15 نامکمل چالان بھیجے جبکہ 10 مقدمات کی تفتیش جاری ہے۔
اقبال ڈویژن میں 159 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں 238 مشتبہ افراد شامل تھے۔ ان میں سے 29 مقدمات خارج کیے گئے، 91 چالان جمع کروائے گئے اور 32 نامکمل چالان پراسیکیوٹرز کو بھجوائے گئے جبکہ دو کیسز زیر تفتیش ہیں۔
جڑانوالہ ڈویژن میں 222 ملزمان کے خلاف 149 مقدمات درج کیے گئے، پولیس نے 33 مقدمات خارج کیے، 69 مقدمات میں چالان جمع کروائے اور 38 نامکمل چالان پراسیکیوشن برانچ کو بھجوائے گئے جبکہ تین کیسز ابھی زیر تفتیش ہیں۔
اسی طرح صدر ڈویژن نے 145 مقدمات درج کیے جن میں 238 ملزمان شامل تھے۔ پولیس نے 22 مقدمات خارج کیے، 70 چالان جمع کروائے اور 46 نامکمل چالان آگے بھیجے، جب کہ تین مقدمات زیر التوا ہیں۔
علاوہ ازیں رواں سال کے پہلے مہینے میں بھی بچوں سے جنسی زیادتی کے 57 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں 76 مشتبہ افراد ملوث تھے۔ ان میں سے 2 مقدمات خارج کر دیے گئے، 19 چالان جمع کرائے گئے اور 13 نامکمل چالان پراسیکیوٹرز کو بھجوائے گئے، جب کہ 23 مقدمات کی تفتیش جاری ہے۔
اگرچہ 2025 کے دوران درج ہونے والے مقدمات میں کوئی سزا نہیں ملی، تاہم 2021 سے 2024 کے عرصے میں عدالتوں نے اس نوعیت کے چار مقدمات میں ملزموں کو سزائیں سنائیں تھیں۔
ان میں ڈی ٹائپ کالونی تھانے میں درج ہونے والے ایک مقدمے میں، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے ایک ملزم بلال کو 50 سال قید کی سزا سنائی، ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا اور اسے ایک لڑکی کے ساتھ زیادتی کے مقدمے میں شکایت کنندہ کو دو لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
اسی طرح رضا آباد تھانے میں درج ریپ اور قتل کے ایک مقدمے میں ملزم کو سزائے موت اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ دو دیگر مقدمات میں سے ایک میں ملزم کو عمر قید اور ایک میں دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں