فیصل آباد : پاکستان میں پولٹری کی صنعت کو بیماریوں کے باعث پیداواری صلاحیت میں کمی اور اموات کی وجہ سے سالانہ 30 کروڑ روپے کا بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس پر قابو پانے کے لئے جدید تشخیصی ٹیکنالوجی، علاج اور حفاظتی اقدامات کا فروغ ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار ماہرین نے چوتھے دو روزہ قومی تربیتی کورس بعنوان ”جدید طریقوں کے ذریعے پولٹری بیماریوں کی تشخیص“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس تربیتی کورس کا انعقاد ڈیپارٹمنٹ آف پیتھالوجی فیکلٹی آف ویٹرنری سائنسز زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور ورلڈ ویٹرنری پولٹری ایسوسی ایشن (پاکستان برانچ) کے اشتراک سے کیا گیا تھا۔

افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ ٹیکسٹائل کے بعد پولٹری ملک کی دوسری سب سے بڑی صنعت بن چکی ہے جو عوام کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولٹری کے لیے ایسی خوراک پر تحقیق کی ضرورت ہے جو مختلف بیماریوں کے خلاف مدافعتی نظام کو مضبوط کرے۔ ڈین فیکلٹی آف ویٹرنری سائنس ڈاکٹر شاہد محمود نے کہا کہ ماضی میں پولٹری بیماریوں کے علاج میں ”ہٹ اینڈ ٹریٹ” طریقہ کار استعمال ہوتا تھا لیکن اب ہمیں جدید تشخیص کی طرف منتقل ہونا ہوگا۔

ورلڈ ویٹرنری پولٹری ایسوسی ایشن (پاکستان برانچ) کے نمائندے خالد نعیم خواجہ نے کہا کہ یہ تربیت ویٹرنیرینز کو جدید تشخیصی طریقوں سے استفادہ کرنے کی جانب ایک قدم ہے جو پولٹری سیکٹر کی ترقی میں ٹھوس نتائج لائے گا۔چیئرمین پیتھالوجی اور سیکریٹری ڈبلیو وی پی اے پاکستان ڈاکٹر محمد کاشف سلیم نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی پیتھالوجی لیب کسانوں کو 70 مختلف ٹیسٹوں کی سہولت فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولٹری فیڈ کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے یونیورسٹی نے سویا بین کی کاشت کے فروغ کے لیے 1000 کھیتوں پر کاشت شروع کروائی ہے۔
