روس اور یوکرین کے ماضی سے جڑے نکولائی گوگول کےناول ” تاراس بلُبا” کا جائزہ

بیلا روس، روس، یوکرین اوربحرِ بلقان پر مشتمل خطہ ایک ہی طرح کی ثقافت اور معاشرت کا حامل ہے۔ روس اور یوکرین کی چپقلش کی کیا وجوہات ہیں اس سے قطع نظر، یوکرین کو دیکھیں تو مغربی اور مشرقی یوکرین ایک دوسرے سے خاصے مختلف نظر آتے ہیں۔ مذکورہ بالا خطے میں عیسائیت ایک غالب مذہب کے طور پر موجود رہی ہے یہی وجہ ہے کہ یوکرین میں حضرتِ عیسیٰ کے پیروکاروں کی وسیع تعداد موجود ہے لیکن ان میں سے اکثر روسی آرتھوڈاکس کی بجائے متحدہ کلیسا یا مشرق کے کیتھولک کلیسا سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ اپنی مذہبی رسومات یوکرینی زبان میں ادا کرتے ہیں اور پوپ کو اپنا روحانی پیشوا خیال کرتے ہیں۔ یوکرین کا ایک حصہ “کریمیا” بھی ہے جس کی ثقافتی جڑیں یونانی اور تاتاری ہیں۔ عالمی جنگ کے اختتام پر جوزف سٹالن نے یوکرین پر قبضہ جما لیا تھا۔ بعدازاں سوویت یونین نے جمہوریہ یوکرین کو اپنا حصہ بنا لیا۔ سٹالن نے یہاں 1930ء میں زرعی اصلاحات نافذ کیں جس کے بعد یہاں قحط پڑا اور اس کے نتیجے میں 35 سے 50 لاکھ لوگ مارے گئے۔ تاریخ میں اس واقعےکو ہولودومور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یوکرین میں قحط کے بعد سٹالن نے ایک بڑی تعداد میں لوگوں کو یوکرین منتقل کیا تاکہ وہاں آبادی کے تناسب کو موزوں کیا جا سکے۔ ان میں بہت سارے باشندے یوکرینی زبان تک سے ناواقف تھے۔ مختصراً یوں کہا جا سکتا ہے کہ روس اتنے اقدام کرنے کے باوجود بھی یوکرین کی ثقافت اور لوگوں کے دلوں پر غلبہ حاصل کر نے میں ناکام رہا۔
روس اور یوکرین مشترکہ تاریخ کے باوجود اس وقت ایک دوسرے کے مدِمقابل ہیں اور اس جنگ میں ہزاروں انسان سرحد کے دونوں جانب مارے جا رہے ہیں۔ نکولائی گوگول (Nikolai Gogol) کا تعلق بھی اسی سرزمین سے ہے جہاں وہ انیسویں صدی کے پہلے عشرے میں پیدا ہوا۔ وہی یوکرین جس نے 1991ء میں روس سے آزادی حاصل کر لی تھی۔ گوگول نے جوانی کا کچھ وقت سینٹ پیٹرز برگ میں گزارا اور پھر ایک دن حکومتی عہدے کے حصول میں ناکامی کے بعد ماں کی رہن رکھی رقم میں خرد برد کر کے جرمنی جا پہنچا۔ اُسے تگ و دو کے بعد سرکاری ملازمت مل تو گئی لیکن اس نے اسے جلد ہی خیرباد کہ دیا اور لکھاری بننے کا فیصلہ کر لیا۔ 1831ء سے 1832ء میں اُس نے کہانیوں کی دو جلدیں شائع کیں جن میں یوکرین کی محبت اور مذہب سے بے لوث پیار اجاگر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کے بعد اسے ملکی سطح پر شہرت نصیب ہوئی۔ اسی دوران میں اُس کی دوستی رُوسی ادیب الیگزینڈر پُشکن سے ہوئی۔ 1835ء میں اس نے قزاقوں کے بارے میں تاریخی ناول “تاراس بُلبا” تحریر کیا جس نے اسے اس علمی و ادبی حلقوں میں اعتبار اور وقار بخشا۔ “انسپکٹر جرنل” میں اس نے نوکر شاہی کو طنز کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اس پر رُوسی سرزمین تنگ ہو گئی اور اس نے اٹلی میں جلا وطنی اختیار کر لی۔ اٹلی میں قیام کے دوران میں اس نے ایک اور ناول “مردہ روحیں” تخلیق کیا۔ آخری عمر میں اس کا رجحان مذہب اور اخلاقیات کی جانب ہو گیا جس کی وجہ سے وہ خود کو گناہ گار تصور کرنے لگا۔ خبطِ گناہ میں مبتلا ہو کر وہ 1852ء میں اس دنیا سے رخصت ہو گیا لیکن اس کے فکشن کے فن نے عظیم فن کاروں کو متاثر کیا۔ نکولائی گوگول کے بارے میں اپنے تاثرات رقم کرتے ہوئے پُشکن نے لکھا تھا کہ روس کا فکشن گوگول کے”اورکوٹ” کی دین ہے۔
صابرہ زیدی نے اس ناول کو اردو روپ دیا ہے جو ماسکو کتاب گھر، روس سے شائع ہوا۔ وہ لکھتی ہیں کہ سولھویں اور سترھویں کی یوکرینی جنگِ آزادی نے گوگول کو خاصا متاثر کیا۔ اس دور کے واقعات کو وہ غیر معمولی دلچسپی سے پڑھا کرتا تھا۔ اسے یوکرینی سر زمین کی کہانیوں اور لوک گیتوں سے بھی عشق تھا۔ گوگول نے ایک جگہ لکھا ہے کہ “ہر گیت لوک تاریخ کا ٹکڑا ہے۔ ۔ ۔ جیتا جاگتا، روشن و تابندہ، رنگ اور صداقت سے بھرپور اور عوام کی پوری زندگی کا آئینہ دار، جو ادیب عہدِ پارینہ کی روح کو محسوس کرنے کا خواہش مند ہو اس کے لیے گیت ایک بیش بہا خزانہ ہیں۔” اس چیز نے اس کو یوکرینی قوم کی زندگی، اس کی جرات، حوصلہ، ہّمت اور وطن سے محبت کی حقیقت پسندانہ منظر کشی میں مدد کی۔ 1569ء کا لُبلین معاہدہ جس نے یوکرین کو عوامی خواہشات کے برعکس پولینڈ سے نتھی کر دیا۔ اس کے بعد پولینڈ کے رؤسا نے یوکرینی زمینوں پر قبضہ جمانا شروع کر دیا۔ بے رحمی سے مقامی لوگوں کا استحصال کرنے لگے اور پولستانی زندگی کے عادات و اطوار مقامی لوگوں پر نافذ کرنا شروع کر دیے۔ حتیٰ کہ یوکرینیوں کو غلام بنانے کی خاطر ان کی زبان کو غیر قانونی قرار دیا۔ کیتھولک پادریوں نے جبراً اپنے عقیدے کو یہاں نافذ کرنے کی کوشش کی اور شرقی کلیسا کے پیروں کاروں (ملحدوں) پر مظالم کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اس کا شدید ردِعمل دیکھنے کو ملا۔ ژاپورژئی سیچ کے قزاقوں نے اس میں اہم کردار ادا کیا۔ ژاپورژئی سیچ انسانوں کی ایک ایسی جماعت پر مشتمل تھا جو اپنے آقاؤں کے مظالم سے تنگ آ کر یہاں پناہ اختیار کر لیتے تھے۔ کئی سالوں تک یہ قزاق آزادی کی جنگوں میں حصہ لیتے رہے جو ترکوں، تاتاریوں اور پولستانیوں کے لیے مستقل دردِ سر تھا۔ نکولائی گوگول کا تاراس بُلبا بھی ایک قزاق ہے جو آزادی پسند یوکرینی باشندوں کا مثالی نمایندہ بن کر اس ناول میں سامنے آیا ہے۔ اس ناول کی کہانی سترھویں صدی کے پہلے نصف کے زمانے میں وقوع پذیر ہوتے دکھائی گئی ہے۔ ناول کا ہیرو تاراس بُلبا اپنے دو بیٹوں اینڈرے اور اوسٹیپ کو کیو اکیڈمی بھیجتا ہے جو آرتھوڈوکس کی معروف اکیڈمی ہے، جہاں وہ مذہبی تعلیم اور جنگی تربیت حاصل کر کے لوٹتے ہیں۔ کچھ دن گھر قیام کر نے کے بعد ان کا باپ انھیں سیچ لے جاتا ہے جو یوکرین کا جنوبی علاقہ ہے۔ اس جگہ قزاق قبیلے کے لوگ اپنے دشمنوں سے لڑنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ وہ تینوں باپ بیٹے ان کے ساتھ مل کر پولینڈ کے ملک سے جنگ لڑتے ہیں۔ تاراس کا بیٹا اینڈرے پولینڈ کی اعلیٰ طبقے کی ایک عورت کے عشق میں مبتلا ہو کر مخالف فوج میں شامل ہو جاتا ہے۔ دورانِ جنگ تاراس بلبا سے اس کا جب سامنا ہوتا ہے تو وہ اسے اپنے ہاتھوں سے موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ اس کا دوسرا بیٹا اوسٹیپ گرفتار کر لیا جاتا ہے اور کچھ عرصے بعد اسے سرِ عام پھانسی دی جاتی ہے جسے تاراس دیکھ رہا ہوتا ہے۔ وہ ایک بار پھر پولینڈ پر حملہ آور ہوتا ہے اس بار وہ خود بھی پکڑا جاتا ہے اور دشمن اسے آگ میں جلا دیتا ہے۔ تاراس کی پوری عمر یوکرین کی آزادی، وطن سے محبت اور قوم سے وفاداری پر مبنی ہے۔ وہ اپنی دولت، اولاد اور حتیٰ کہ خود کو بھی اس زمین کے لیے قربان کر دیتا ہے۔ ناول میں ترکوں اور تاتاریوں کو انتہائی سفاک اور ظالم ظاہر کیا گیا ہے جو دوسروں کی سر زمینوں اور اقتصادی ذرائع کو اپنے قبضے میں لینے کے لیے جنگیں لڑتے رہتے ہیں۔ اسی لیے تاراس کے ہاں اُن کے لیے شدید نفرت اور غصہ ہے۔ ناول میں یہودی مخالف عنصر بھی شامل ہے۔ اس میں یہودی کردار، موقع پرست اور سرمائے کے دلدادہ دکھائے گئے ہیں۔
مذکورہ ناول میں مصنف نے دھرتی سے محبت اور وفاداری کے جذبے کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے جس نے کہانی کو قوت عطا کی ہے۔ تاراس بلبا ایک قومی ہیرو کے طور پر سامنے آیا ہے جو دولت، گھربار، زندگی کا سکون اور اولاد تک کو اپنی قوم اور ملک کی حفاظت کے لیے قربان کر دیتا ہے۔ اس طرح کے ناولوں کے ذریعے عموماً قومی احساس کے جذبے کو نمایاں کیا جاتا ہے جس میں قومی ثقافت، تاریخ اور روایات کو استعمال میں لایا جاتا ہے۔ گوگول نے بھی مذکورہ ناول میں یوکرینی ثقافت، تاریخ اور روایات کو ناول میں اس طرح گوندھا ہے کہ وہ غیر فطری اور پُرتصنع محسوس نہیں ہوتا ہے۔ حب الوطنی اور قوم پرستی ناول میں ایک غالب موضوع کے طور پر موجود ہیں۔ تاراس کا بیٹا اوسٹیپ باپ ہی کی طرح ملک و قوم کی محبت سے سرشار ہے اسی لیے مصنف نے اس میں تاراس کے کردار کی طرح ہیرو کی وہ تمام خصوصیات وابستہ کی ہیں جو ہیرو کو ہیرو بناتی ہیں۔ جب کہ اینڈرے اس کے برعکس مہربان اور لچکدار طبیعت کا مالک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پولینڈ کے اعلا گھرانے کی عورت سے عشق لڑا بیٹھتا ہے جو اسے پولینڈ کے فوجی دستوں میں شامل ہونے پر مجبور کرتی ہے۔ وہ ان سے مل کر پرانے ساتھیوں کو مارنے پر راضی ہو جاتا ہے۔ وہ خارج سے زیادہ باطن کی آواز کو سنتا ہے اور وہ کرتا ہے جو اس کا دل کہتا ہے۔ یہ بات قزاق قبیلے کی روایات کے خلاف ہے۔ اسی لیے تاراس کو جب بیٹے اور ملک وقوم کی محبت میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے تو وہ ملک وقوم کو ترجیح دیتے ہوئے بیٹے کو اپنے ہاتھوں سے قتل کر دیتا ہے۔ اس کے قومی ہیرو ہونے میں اس کا یہ عمل مہرِ تصدیق ثبت کر دیتا ہے۔ وہ نہ صرف دوسرا بیٹا بلکہ اپنی جان بھی قوم کی آزادی کی خاطر قربان کر دیتا ہے۔ یوں وہ خود کو ایک سچا قزاق ثابت کر دیتا ہے۔
بعض ناقدین نے تاراس بُلبا کے کردار کو ایک طرح کا پروٹوٹائپ ہیرو خیال کیا ہے جس میں ایسی خصوصیات داخل کی گئی ہیں جو اُسے عام انسانوں سے مختلف بناتی ہیں۔ ایسے کردار قوموں کی اخلاقی بدحالی اور سستی کو دور کرنے کے لیے تخلیق کیے جاتے ہیں جو امید کا منبع بن کر لوگوں کے سامنے آتے ہیں۔ تاراس بلبا کا کردار بھی اپنی قوم کے لیے اندھیروں میں روشنی کی کرن بن کر ابھرا ہے۔ وہ صحیح معنوں میں اپنے عہد، سماج، قوم اور قبیلے کا حقیقی نمایندہ ہے۔ گوگول نے اس کردار کی تخلیق میں محنت صرف کی ہے اور اسے اپنے ہاتھ میں کٹھ پُتلی بننے سے بچا لیا ہے۔ وہ اپنی فطرت کے مطابق دیگر کرداروں کے تعاون اور تصادم سے اپنا راستا خود بناتا چلا گیا ہے۔ اس کردار کے ذریعے زندگی کا تحرک سامنے لایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قاری ناول کے دیگر عناصر کو فراموش کر سکتا ہے لیکن تاراس بلبا کے کردار کو فراموش کرنا اس کے بس سے باہرہے۔

Author

  • ڈاکٹر عبدالعزیز ملک گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ اردو میں اسٹنٹ پروفیسر ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں