پاکستان میں شجرکاری اور ہائیڈرولوجیکل توازن کی بحالی ایک ایسا علمی اور تحقیقی موضوع ہے جسے ماہرینِ ماحولیات، ہائیڈروولوجی، جنگلات اور موسمیات کے شعبوں میں مسلسل بڑھتی ہوئی اہمیت حاصل ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی، شہرکاری، صنعتی سرگرمیوں، جنگلات کی کمی اور بدلتے ہوئے موسمی پیٹرنز نے نہ صرف قدرتی آبی ذخائر کو دباؤ میں ڈالا ہے بلکہ زیرِ زمین پانی، بارش کے نظام، دریائی بہاؤ اور زمینی سطح پر پانی کے قدرتی چکر کو بھی شدید عدم توازن کا شکار کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں شجرکاری کو محض ایک ماحولیاتی سرگرمی یا گرین کور بڑھانے کا ذریعہ سمجھنا ایک بڑی غلطی ہو گی، کیونکہ درخت دراصل ہائیڈروولوجیکل نظام کے وہ بنیادی ستون ہیں جو پانی کے چکر (Water Cycle)، فلٹریشن، جذب، زمینی بہاؤ، ری چارج، بخارات اور بارش (precipitation) جیسے عوامل کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔ پاکستان میں ہائیڈرولوجیکل توازن کے بگاڑ کو سنجیدہ سائنسی مشاہدات، بین الاقوامی تحقیقی رپورٹس اور مقامی ماحولیاتی تناظر کے تحت سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ شجرکاری کے کردار کو ایک سائنسی پیرائے میں دیکھا جا سکے۔
درختوں کے وجود سے بارش کے پانی کے زمین پر گرنے کے بعد اس کے رویے میں بنیادی تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ جب بارش کسی وسیع جنگلاتی علاقے پر ہوتی ہے تو درختوں کے مضبوط تاج (canopy) اس کی شدت کو کم کرتے ہیں، جس سے نہ مٹی کو نقصان پہنچتا ہے نہ پانی فوری طور پر بہہ کر ضائع ہوتا ہے۔ اسی پانی کا ایک بڑا حصہ پتیوں اور شاخوں کے ذریعے آہستہ آہستہ زمین تک پہنچتا ہے جس سے ارتکازِ بارش کی شدت کم ہو جاتی ہے۔ یہ عمل ہائیڈرولوجیکل نظام میں درختوں کی پہلی بڑی مداخلت ہے۔ بعد ازاں درختوں کی جڑیں پانی کو گہرائی میں جانے کے قابل بناتی ہیں، مٹی کی ساخت کو مسام دار (porous) کرتی ہیں اور زمین کے اندر پانی کی رسائی کو بڑھاتی ہیں۔ یہی پانی زیرِ زمین آبی ذخائر کو ری چارج کرتا ہے جو کہ پاکستان جیسے ملک میں نہایت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ مختلف تحقیقی مطالعات کے مطابق ملک میں زیرِ زمین پانی کی سطح سالانہ 0.5 سے1 میٹر تک کم ہو رہی ہے۔ ایسے ماحول میں شجرکاری وہ قدرتی عمل ہے جو پانی کے ذخائر کو مسلسل بھرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
پاکستان کے میدانی اور شہروں کے قریب واقع علاقوں میں بڑے پیمانے پر زمینیں کنکریٹ، سیمنٹ اور دوسرے غیر مسام دار مواد سے ڈھک چکی ہیں جس نے بارش کے پانی کی زمین میں نفوذ کی صلاحیت کو شدید متاثر کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق بڑے شہروں میں60 فیصد سے زائد بارش کا پانی براہِ راست سطحی بہاؤ (runoff) کی شکل میں نالوں یا دریاؤں میں چلا جاتا ہے اور زیرِ زمین پانی میں شامل نہیں ہو پاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور، کراچی، فیصل آباد اور ملتان جیسے بڑے شہروں میں ”ٹیوٹلینکس” تیزی سے خشک ہو رہے ہیں۔ شجرکاری، خصوصاً اربن فارسٹ اس مسئلے کے حل کے لیے ایک سائنسی بنیاد رکھتے ہیں۔ درخت نہ صرف زمین کی سطح کو نرم رکھتے ہیں بلکہ شہری ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ کو کم کر کے بارش کے نظام کو مستحکم کرنے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔
ہائیڈرولوجیکل توازن کے لیے مٹی کا استحکام بھی ایک ناگزیر عنصر ہے، اور یہی وہ مرحلہ ہے جہاں درختوں کی جڑیں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ درخت مٹی کو بکھرنے سے بچاتے ہیں، بارش کے دوران کٹاؤ کو کم کرتے ہیں اور دریاؤں میں جانے والی مٹی کی مقدار محدود کرتے ہیں۔ پاکستان میں تربیلا، منگلا، چشمہ اور وارسک جیسے بڑے ذخائر میں سلٹنگ کے بڑھتے ہوئے مسائل ایک سنگین حقیقت ہیں۔ متعدد سائنسی مطالعات کے مطابق پاکستان کے بڑے ڈیمز اپنی اصل گنجائش کا تقریباً 20 سے 30 فیصد تک کھو چکے ہیں (WAPDA Sedimentation Survey, 2019)۔ جنگلات اس عمل کو مؤثر طریقے سے روک سکتے ہیں کیونکہ ان کی موجودگی دریاؤں کے کناروں پر فلٹر بیریئر کی طرح کام کرتی ہے، پانی کے معیار کو بہتر بناتی ہے اور ذخائر کی عمر بڑھاتی ہے۔
ہائیڈرولوجیکل توازن کی بحالی میں جنگلات کا کردار صرف زمین تک محدود نہیں بلکہ فضا تک پھیلا ہوا ہے۔ درخت اپنی پتیوں اور تنوں کے ذریعے بخارات خارج کرتے ہیں جو ہوا میں نمی کے تناسب کو بڑھاتے ہیں۔ یہی نمی مقامی بارش کے نظام کی تشکیل میں مدد دیتی ہے۔ جن علاقوں میں بڑے جنگلات ہوتے ہیں وہاں بارش کے پیٹرنز نسبتاً مستحکم رہتے ہیں۔ بین الاقوامی تحقیق کے مطابق جنوبی ایشیا میں جنگلات کی 10 فیصد کمی بارش میں اوسطاً تین سے پانچ فیصد تک کمی پیدا کر سکتی ہے۔ پاکستان میں بالخصوص شمالی وادیوں اور کوہستانی علاقوں میں جنگلات کی کٹائی نے نہ صرف مقامی آب و ہوا کو متاثر کیا ہے بلکہ دریائے سندھ کے مجموعی ہائیڈرولوجیکل نظام پر بھی مضر اثرات مرتب کئے ہیں۔
شجرکاری کے بڑے منصوبوں، جیسے بلین ٹری سونامی، نے اس سلسلے میں اہم سیکھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں اس منصوبے کے بعد زمینی درجہ حرارت میں کمی، پانی کی سطح میں بہتری اور سیلابی خطرات میں کمی کی نشاندہی متعدد آزاد تحقیقی مطالعات میں کی گئی ہے۔ اگرچہ ایسے منصوبوں میں انتظامی خامیاں بھی موجود ہو سکتی ہیں لیکن مجموعی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ منظم اور سائنسی بنیادوں پر کی گئی شجرکاری ہائیڈرولوجیکل توازن کو بحال کرنے میں حقیقی کردار ادا کر سکتی ہے۔
پاکستان میں ہائیڈرولوجیکل عدم توازن صرف بارش اور زیرِ زمین پانی تک محدود نہیں بلکہ سیلابی شدت میں اضافے کی صورت میں بھی اپنا اثر دکھاتا ہے۔ گزشتہ دہائی میں پاکستان کو متعدد شدید سیلابوں کا سامنا کرنا پڑا جن میں2010 اور 2022 کے سیلاب نمایاں ہیں۔ مختلف سائنسی رپورٹس کے مطابق ان سیلابوں کی شدت میں جنگلات کی کمی ایک اہم عنصر تھی۔ جہاں درخت موجود نہ ہوں وہاں پانی تیزی سے بہہ کر دریاؤں میں شامل ہو جاتا ہے جس سے اچانک سیلابی موجیں بنتی ہیں۔ اس کے برعکس جنگلاتی علاقے پانی کے بہاؤ کی رفتار کم کرتے ہیں، سطحی پانی کو جذب کرتے ہیں اور پانی کی تقسیم کو متوازن کرتے ہیں۔
ان تمام عوامل کے پیش نظر یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں شجرکاری محض ماحولیاتی خوبصورتی یا کاربن ذخیرہ کرنے کا کام نہیں کرتی بلکہ یہ ہائیڈروولوجیکل نظام کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر ملک نے مستقبل میں پانی کے بحران، شدید سیلابوں، خشک سالیوں اور ماحولیاتی بگاڑ سے بچنا ہے تو ہائیڈروولوجیکل توازن کی بحالی کو قومی منصوبہ بندی کا حصہ بنانا ہو گا۔ اس کے لیے سائنسی بنیادوں پر شجرکاری، مقامی انواع کے درختوں کا انتخاب، دریاؤں کے کناروں کی بحالی، اربن فارسٹ پروگرام اور پانی کے ذخائر کے گرد جنگلات کا قیام نہایت ضروری ہے۔ پاکستان کی پائیدار ترقی، غذائی تحفظ، ماحولیاتی استحکام اور معاشی بقا کا انحصار براہِ راست اس حقیقت پر ہے کہ ہم شجرکاری کو صرف ماحول دوست مہم نہ سمجھیں بلکہ اسے پانی کے پورے نظام کا سائنسی حل مان کر اس کی طرف عملی توجہ دیں۔
