فیصل آباد: کیمیکل فیکٹری میں دھماکے سے 14 افراد جاں بحق 7 زخمی

فیصل آباد: ملک پور میں ایک کیمیکل فیکٹری میں ہونے والے زوردار دھماکے اور آتشزدگی سے فیکٹری کی چھتیں اڑ گئیں اور قریبی مکانات منہدم ہو گئے۔ترجمان ریسکیو 1122 پنجاب فاروق احمد کے مطابق کنٹرول روم کو صبح5 بج کر 28 منٹ پر اطلاع موصول ہوئی کہ شہاب ٹاؤن کبڈی اسٹیڈیم گراؤنڈ کے قریب ملک پور کینال روڈ پر ایک کیمیکل فیکٹری میں گیس لیکج کے باعث دھماکہ ہو گیا ہے۔ ریسکیو 1122کی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں نے حادثے کی اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ کر جدید مشینری اور آلات کی مدد سے 24 متاثرین کو ملبے سے نکالنے کا کام شروع کر دیا. ان میں سے 10 افراد پہلے ہی جاں بحق ہو چکے تھےجبکہ چار افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے بعد میں دم توڑ گئے ہیں. ترجمان کے مطابق اس جگہ پہ چار فیکٹریاں اکٹھی بنی ہوئی تھیں اور حادثہ صمد بونڈ بنانے والی فیکٹری میں ہوا ہے جبکہ باقی تین فیکٹریوں میں گلو، سیلیکون اور ایمبرائیڈری کا کام ہوتا ہے جو کہ اس وقت بند تھیں.ترجمان کے مطابق اس حادثے میں متاثرہ فیکٹری سے ملحقہ نو گھر وں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں بھی زیادہ تعداد اس علاقے کے رہائشیوں کی ہے .


مرنے والوں میں ایک ماں 40 سالہ فاخرہ بی بی اور اس کے دو بچے تین سالہ بیٹی جنت، ایک سالہ بیٹا علی حسنین، ایک باپ 40 سالہ محمد عرفان اور اس کے دو بچے 12 سالہ محمد ریحان اور 13 سالہ مقدس جبکہ دو بھائی 24 سالہ محمد بلال اور 22 سال عمر بھی شامل ہیں۔ اس حادثے میں جاں بحق ہونے والے دیگر افراد میں 22 سالہ محمد عبید، 62 سالہ محمد شفیق، دس سالہ محمد احمد، چار سالہ اذان، 62 سالہ مقصوداں بی بی اور 50 سالہ عاشق حسین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں زخمیوں میں شامل 32 سالہ رفعت، 65 سالہ یونس، 17 سالہ معظم، 55 سالہ لیاقت علی، 30 سالہ عدنان، 16 سالہ ندیم اور 15 سالہ اشرف کو الائیڈ ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر احتشام واہلہ کے مطابق ریسکیو آپریشن میں 31 ایمرجنسی وہیکل اور 145 سے زائد ریسکیور نے حصہ لیا. ریسکیو ٹیمیں تاحال جائے وقوع پر موجود ہیں اور ملبے تلے دبے ہوئے افراد کی تلاش و امدادی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ دھوئیں اور آگ سے متعلقہ خطرات کی نگرانی کر رہی ہیں۔علاوہ ازیں آئی جی پنجاب ڈاکٹر انور کی ہدایت پرفیصل آباد پولیس اور ٹریفک پولیس کےافسران و اہلکار بھی امدادی سرگرمیوں میں معاونت فراہم کرنے کے لئے موقع پر موجود رہے اور زخمیوں کو حادثے کے مقام سے جلد ازجلد ہسپتالوں میں منتقل کرنے کے عمل کی چیف ٹریفک آفیسر ناصر جاوید رانا خود نگرانی کرتے رہے. ضلعی انتظامیہ کے مطابق متعقہ حکام نقصان کا اندازہ لگا رہے ہیں اور دھماکے کی وجوہات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

نوٹ: یہ خبر آخری مرتبہ دوپہر 2 بج کر 15 منٹ پر اپ ڈیٹ کی گئی ہے.

Author

اپنا تبصرہ لکھیں