فیصل آباد: جیتو فیصل آباد شو میں شرکت کے لئے آنے والے شہریوں بالخصوص خواتین اور بچوں کو سکیورٹی کے ناقص انتظامات، بدنظمی اور دھکم پیل کے باعث پیش آنے والی صورتحال پر انتظامیہ کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ہاکی سٹیڈیم مدینہ ٹاون میں اتوار کی شام پیش آنے والے اس واقعہ کو 24 گھنٹے سے زیادہ کا وقت گزرنے کے باوجود اس حوالے سے انتظامیہ کا موقف سامنے نہیں آیا ہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ناقص انتظامات کے باعث “جیتو فیصل آباد شو” میں شرکت کے لئے آنے والوں کی بھیڑ کے باعث ایک داخلی گیٹ ٹوٹ گیا اور دھکم پیل کے باعث کئی خواتین اور بچے ہجوم تلے دب گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق شو میں شرکت کے لئے آنے والے شہریوں کی تعداد ہزاروں میں تھی اس دوران ایک گیٹ پر زیادہ رش جمع ہونے کی وجہ سے صورتحال خراب ہوئی جسے پولیس کی اضافی نفری بلا کر کنٹرول کیا گیا۔اس ایونٹ کے بعد سے انتظامیہ کو ہاکی سٹیڈیم کو بحال کرنے کی بجائے اس طرح کی تقریبات کے لئے استعمال کرنے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے انتظامیہ نے اقبال سٹیڈیم فیصل آباد کو اس طرح کی تقریبات کا مرکز بنایا ہوا تھا اور اب یہ سلسلہ ہاکی سٹیڈیم میں شروع کر دیا گیا ہے۔

دوسری طرف انتظامیہ کی جانب سے جاری سرکاری ہینڈ آوٹ کے مطابق اس ایونٹ میں شریک شہریوں میں قرعہ اندازی کے ذریعے تین عدد الیکٹرک سکوٹی، دو تولہ سونا، عمرہ کی ایک ٹکٹ اور دیگر انعامات تقسیم کئے گئے۔ کمشنر راجہ جہانگیر انور، سی ای او ستارہ گروپ میاں محمد ادریس اور سابق ایم پی اے ڈاکٹر نجمہ افضل سمیت دیگر اہم شخصیات بھی اس موقع پر موجود تھیں۔ تاہم شو میں شرکت کرنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ اس موقع پر دو تولے سونا یا عمرے کے ٹکٹ کی قرعہ اندازی نہیں کی گئی اور تین میں سے ایک الیکٹرک سکوٹی بھی انتظامیہ والے واپس لے گئے تھے۔ اس موقع پر شہریوں میں صرف دو الیکٹرک سکوٹی، دو موبائل فون اور ڈیڑھ سے دو درجن ان سلے سوٹوں کے علاوہ کوئی اہم انعام نہیں دیا گیا۔ واضح رہے کہ انتظامیہ کی جانب سے اس شو کے انعقاد کے لئے گزشتہ ماہ سے تشہیر کا سلسلہ جاری تھا اور اس سلسلے میں میڈیا سے وابستہ کئی افراد کی خدمات بھی حاصل کی گئی تھیں۔
