لائلپور سے اٹھنے والی پیپلز پارٹی کی لہر کا پنجاب میں عروج و زوال


جب ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ “پنجاب اور سندھ کی چابیاں میرے پاس ہیں”
یہ گذشتہ صدی کی ساٹھ کی دہائی کا واقعہ ہے، ابھی پیپلزپارٹی کی باضابطہ طور پر بنیاد نہیں رکھی گئی تھی۔ ذوالفقارعلی بھٹو گاڑی میں لاہور سے فیصل آباد جو اُس وقت لائلپور تھا کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ جہاں اُنھیں عوامی جلسہ نہیں محض بار روم سے خطاب کرنا تھا۔ اُن کی گاڑی شیخوپورہ پہنچی تو ہمہ وقت ٹریفک کے بوجھ تلے دَبی رہنے والی سڑک ویرانی کا منظر پیش کر رہی تھی۔ لائلپور، جو حقیقی معنوں میں مزدورں کا شہر تھا، اس کے مزدور طبقے تک جب یہ خبر پہنچی کہ بھٹو اُن کے شہر آ رہے ہیں تو وہ اتنی تعداد میں جمع ہو گئے کہ لاہور سے لائلپور آنے والی سڑک پر ٹریفک کا رواں رہنا محال ہو گیا۔
مولانا کوثر نیازی نے اپنی کتاب ذوالفقار علی بھٹو میں لکھا لائلپور میں میر عبدالقیوم مرحوم کی کوٹھی تک پہنچنے میں پانچ میل کا فاصلہ طے کرنے میں ساڑھے چار گھنٹے لگے۔ ہر طرف یہ نعرے گونج رہے تھے کہ “ماریں گے، مَر جائیں گے، بھٹو کو لائیں گے”۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے ایک گھر کی چھت پر کھڑے ہو کر خطاب کیا۔ اُن کی آواز زیادہ دُور تک نہیں جا پا رہی تھی کہ عوام ہی کے نعروں کا شور آڑے آ رہا تھا۔ یہی وہ مقام تھا جہاں بھٹو نے کنونشن لیگ سے علیحدگی کا رسماً اعلان بھی کیا۔ پھر جب 1970 کے انتخابات ہوتے ہیں تو پیپلزپارٹی، پنجاب میں جہاں خاطر خواہ کامیابی سمیٹتی ہے وہاں لائلپور کی جملہ قومی اسمبلی کی نشستوں پر بھی کامیاب رہتی ہے۔ اُن انتخابات کی کامیابی کے بعد ہی ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا “پنجاب اور سندھ کی چابیاں میرے پاس ہیں۔”

کیا بلاول اپنے نانا کی چابیوں سے پنجاب کا زنگ آلود قفل کھول پائیں گے؟
وہ لائلپور جو بعد میں فیصل آباد کا رُوپ دھار گیا۔ اس میں بھٹو کی پارٹی گذشتہ دو انتخابات میں قومی اسمبلی کی ایک سیٹ بھی نہیں جیت پائی۔ علاوہ ازیں جس پارٹی کی بنیاد پنجاب میں رکھی گئی، یعنی پیپلز پارٹی نے پنجاب سے سندھ کی جانب سفر کیا تھا اور بھٹو نے جس کی چابیاں اپنے پاس ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس وقت کہاں کھڑی ہے؟ کیا بلاول بھٹو زرداری، جو پنجاب کو ایک بار پھر پیپلزپارٹی کا گڑھ بنا کر پنجاب کا سیاسی منظرنامہ تبدیل کرنے کا مشن رکھتے ہیں، اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کی پنجاب کی چابی سے زنگ آلود قفل کھول پائیں گے؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ بلاول کے پاس، وہ چابیاں ہیں بھی یا نہیں؟ بلاول بھٹو زرداری پنجاب میں پیپلزپارٹی کی بحالی کا کیا منصوبہ رکھتے ہیں اور اُن کے لیے چیلنجز کیا ہیں؟ اس پر بحث سے پہلے پنجاب میں پیپلزپارٹی کی سیاست پر تاریخی انداز سے نظر ڈالنا ضروری ہے۔

پنجاب میں پیپلز پارٹی کے عروج و زوال کے ادوار
پنجاب میں پیپلزپارٹی کی سیاست کو چار ادوار میں تقسیم کرکے عروج و زوال کا تجزیہ ممکن العمل ہو سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی کا پہلا دَور اپنے قیام سے 1977کے الیکشن تک کا ہے۔ یہ وہ دَور ہے جس میں ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت کا سحر عوام کے بڑے طبقے پر چھایا رہا اور پارٹی کی پارلیمانی سیاست کو بھی عروج حاصل رہا۔ 1970 اور1977کے انتخابی نتائج، پیپلزپارٹی کی مقبولیت کا آئینہ دار رہے۔ اس عرصہ میں ملک بھر کی طرح پنجاب پیپلزپارٹی کا گڑھ رہا۔
پیپلزپارٹی کا دوسرا دَور ضیاء کے مارشل لا اور ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے 1988 کے عام انتخابات تک جاتا ہے۔ یہ سارا عرصہ پیپلز پارٹی کے لیے کڑا وقت رہا۔ پارٹی کے لیے سب سے بڑا سانحہ یہ تھا کہ اُن کا لیڈر پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔ علاوہ ازیں اسٹیبلشمنٹ نے پارٹی کو توڑنے کی کوئی کسر نہ چھوڑی۔ یہ دَور پیپلز پارٹی کے کارکنان پر بھی بہت بھاری رہا۔
پیپلز پارٹی کی سیاست کا تیسرا دَور 1988کے انتخابات سے 1997 کے انتخابات تک کا قرار دیا جاسکتا ہے۔اَسی کی دہائی میں پیپلز پارٹی کو جس انداز سے کچلنے کی کوشش کی گئی وہ تاریخ کا حصہ ہے مگر 1988 کے انتخابات میں عوام نے ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو پر اعتماد کا اظہار کیا۔ وفاق میں پیپلزپارٹی حکومت سازی میں تو کامیاب ہوئی مگر پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ نوے کی دہائی میں دونوں بڑی پارٹیوں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے مابین جہاں کشمکش رہی وہاں یہ دونوں پارٹیاں اسٹیبلشمنٹ سے محاذ آرائی میں بھی اُلجھی رہیں۔ تاہم پیپلزپارٹی نے 88 کے بعد 93 میں حکومت سازی کی اور پنجاب میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
پیپلز پارٹی کا چوتھا دَور درحقیقت بے نظیر کی ناگہانی موت سے شروع ہو کر عصر حاضر تک محیط ہے۔1997 کے الیکشن سے 2008 کے انتخابات کے درمیان میں 2002 کے آمریت کے سائے میں ہونے والے الیکشن بھی آتے ہیں جس میں پیپلزپارٹی کو توڑا گیا۔بے نظیر کی وفات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب الیکشن کی آمد آمد تھی۔ ملک بھر کے عوام کی طرح پنجاب کے ووٹرز نے بھی اُن کی اندوہ ناک موت کے درد کو محسوس کیا اور الیکشن میں ووٹ کی صورت اُس کا جواب بھی دیا۔ مسلم لیگ ن کے فیصل آباد کے قومی اسمبلی کے اُس وقت ایک اُمیدوار نے مجھے بتایا “میرے حلقے میں 2008 کے الیکشن میں ووٹرز پر بے نظیر بھٹو کی وفات کا اثر واضح طور پر محسوس ہوا۔ اُس وقت جو ہمارے دیرینہ کارکن تھے اُنھوں نے بھی پیپلزپارٹی کو ووٹ دینے کی ٹھان لی تھی۔”
تاہم2008 کے بعد پنجاب کے ووٹرز کے رویہ میں واضح تبدیلی محسوس کی گئی جس کا ثبوت 2013 اور 2018 کے عام انتخابات ہیں۔ اگر 8 فروری کی بات کی جائے تو پنجاب میں پیپلزپارٹی کے پاس ایسے اُمیدواروں کی کمی دیکھی گئی جو سیٹ نکالنے کی اہلیت رکھتے تھے۔ حالیہ عرصے میں پی ٹی آئی کو چھوڑنے والے اُمیدواروں کو پیپلزپارٹی نے اپنی پارٹی میں جگہ دینے کی بھی کوشش کی لیکن اس میں کامیابی نہ ہو سکی۔

پنجاب کے سیاسی خاندان اور پیپلز پارٹی
اکیسویں صدی کی سیاست میں پاکستان تحریکِ انصاف نے خیبرپختونخوا، پنجاب اور وفاق میں حکومتیں بنائیں یوں وہ ایک بڑی سیاسی جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی جس کی وجہ سے پیپلزپارٹی پنجاب میں دوسرے سے تیسرے نمبر پر آ گئی۔ قومی اسمبلی کی نشستیں جہاں سکڑیں، وہاں پنجاب کی صوبائی سیاست میں 2008 کے الیکشن کے بعد پارٹی محض چند صوبائی سیٹوں پر کامیابی تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ اس ساری مُدت میں پنجاب کے سیاسی خاندانوں کی پیپلزپارٹی ترجیح نہ رہی۔ پیپلز پارٹی کا حصہ رہنے والے پنجاب کے ایسے اُمیدوار جو بعد میں دوسری پارٹیوں کا حصہ بنے، انہوں نے بھی پیپلز پارٹی میں واپسی کی بجائے دیگر سیاسی جماعتوں میں شمولیت کو ترجیح دی۔
پنجاب کے اہم ترین شہر فیصل آباد کی بات کریں تو یہاں سے نواب شیر وسیر نے پیپلزپارٹی کو چھوڑ کر پی ٹی آئی کو جوائن کیا مگر جب بعدازاں پی ٹی آئی کو بھی چھوڑنا پڑا تو واپس پیپلز پارٹی کو جوائن نہ کیا۔ اسی طرح فیصل آباد سے مزید مثالیں راجہ ریاض، ڈاکٹر نثار جٹ جن کے سسر الیاس جٹ مرتے دم تک پیپلز پارٹی سے وابستہ رہے۔ اسی طرح رضا نصر اللہ گھمن اور فیض اللہ کموکا کی بھی مثال دی جا سکتی ہے۔ تاہم حالیہ عرصہ میں ایک مثال ندیم افضل چن کی بھی ہے جو پارٹی کو چھوڑ کر واپس اُسی کا حصہ بنے۔ تجزیہ کاروں کے خیال کے مطابق 1985 کے غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے والے الیکشن میں پیپلزپارٹی نے اپنے اُمیدوار نہ اُتارے جس کا اسے نقصان ہوا جبکہ نواز شریف اور دیگر افراد نے اس کا فائدہ اُٹھایا۔ بعدازاں برادریوں کی سطح پر کمپین کی گئی، سیاسی خاندانوں کو ساتھ ملایا گیا اور پیپلز پارٹی سے علیحدہ کیا گیا۔

پنجاب میں پیپلز پارٹی پہلے سے دوسرے اورپھرتیسرے نمبر کی پارٹی کیسے بنی؟
پیپلزپارٹی کی بنیاد لاہور میں رکھی گئی۔ پنجاب سے پیپلز پارٹی سندھ کی طرف گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کا تعلق چونکہ سندھ سے تھا تو ایک سوال اُٹھتا ہے کہ آخر سندھ میں پارٹی کی بنیاد کیوں نہ رکھی گئی، اس کے لیے پنجاب کے مرکزی شہر لاہور کا انتخاب ہی کیوں کیا گیا؟ واضح رہے کہ جب ایک موقع پر ذوالفقار علی بھٹو نے کراچی میں اپنے چند احباب کے سامنے پیپلز پارٹی کے قیام کی خواہش کا اظہار کیا تو ایک سینئر سیاست دان نے کچھ اس طرح طنز کیا۔ مولانا کوثر نیازی اُس سینئر سیاست دان کے بھٹو کی خواہش پر ردِعمل کو یوں بیان کرتے ہیں “چند لڑکوں کا ہجوم دیکھ کر بھٹو کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ بھلا یہ لڑکے بالے اور تانگے ریڑھے والے سیاست پر کیا اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ چند دنوں کی بات ہے بھٹو خود راہِ راست پر آ جائے گا۔”
ایک ایسی سیاسی جماعت جسے پنجاب کے عوام نے پذیرائی بخشی، آخر مُرورِ ایام کے ساتھ وہ اس سے فاصلہ کیونکر اختیار کر گئے؟ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کے زیرِ عتاب رہی، پارٹی کو بار بار توڑا گیا۔بے نظیر بھٹو کا قتل بھی پنجاب میں ہوا۔ اس جماعت کے لاہور سے تعلق رکھنے والے اہم رہنما گورنر سلمان تاثیر بھی قتل ہوئے۔ ایسا ہی خیال پنجاب سے پیپلز پارٹی کے اہم رہنما چودھری منظور احمد کا بھی ہے۔ اُنھوں نے مجھ سے کہا “ہر الیکشن سے پہلے پیپلز پارٹی کو یہاں توڑا گیا۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ ستر کے بعد، پی پی پی پنجاب میں حکومت نہ بنا سکی۔ اَسی کی دہائی میں پیپلز پارٹی کے خلاف آئی جے آئی بنائی گئی۔ پنجاب میں ضیاء کی سوچ کے حامل لوگوں کو یہاں مسلط کیا گیا۔ ایسی جماعت اور سیاست دانوں کو بھرپور طریقے سے ہمیشہ سپورٹ کیا جاتا رہا۔”

پنجاب کا جیالا کدھر گیا؟
ذوالفقار علی بھٹو پر پنجاب کے کارکن جان چھڑکتے تھے مگر یہ آہستہ آہستہ پارٹی سے دُور ہوتے چلے گئے۔ پارٹی کی سطح پر نظریاتی کارکنان کو نظر انداز کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ بھٹو جب لاہور میں جلسہ کرتے تھے، لوگ اُمڈ آتے تھے۔ مگر آج کے لیڈر چھوٹا سا جلسہ کرنے کی بھی عوامی حمایت نہیں رکھتے ہیں۔ پارٹیوں کے کارکنان، پارٹیوں سے وفاداری کے صلہ میں صرف اونرشپ چاہتے ہیں، یا زیادہ سے زیادہ چھوٹی موٹی نوکریوں کی خواہش رکھتے ہیں۔ پیپلز پارٹی جو کسانوں، مزدوروں اور چھوٹے طبقے کی جماعت سمجھی جاتی ہے۔ اس وقت پیپلزپارٹی کی زنبیل میں اِن طبقات کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں ہے۔

بلاول کے لیے پنجاب میں پارٹی کی بحالی کے امکانات
اب شاید ملک میں نیشنل سطح کی سیاست نہیں رہی، اس کا ادراک پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کو ہو گیا تھا۔ اُنھوں نے خود اور پارٹی کو سندھ تک اور پنجاب کے محفوظ حلقوں تک محدود کر لیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پنجاب میں زرداری صاحب نے پیپلز پارٹی کا صفایا کیا، حالانکہ اُنھوں نے وقت کی رفتار کو بھانپ کر پارٹی کو ریجن تک محدود کرکے اپنی سیٹوں اور پارٹی کو بچایا(یہ میرا تجزیہ ہے)۔ پیپلز پارٹی کو جو بات سمجھ آئی، وہ پنجاب میں ن لیگ کو نہ آئی، ن لیگ پورے پنجاب پر جپھہ ڈالنے کی کوشش میں جی ٹی روڈ کے اپنے محفوظ حلقوں میں بھی تھریٹ پر چلی گئی۔ اب ن لیگ کی پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ کو یہ بات شاید سمجھ آ گئی ہے اور وہ خود کو مخصوص علاقوں تک محدود رکھ کر شاید اپنی جماعت کو ریجن تک لے جائے(یہ بھی میرا خیال ہے)۔ تاہم زرداری صاحب کے سامنے ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ پنجاب میں خاطر خواہ سیٹیں لیے بغیر وہ اپنی پارٹی کا وزیرِ اعظم نہیں بنوا سکیں گے۔ یوں اس کا شاید یہ حل نکالا جائے کہ اس کا کوئی فارمولا طے کیا جائے، ایک بڑی پارٹی کے ساتھ، کہ آدھا وقت اُن کا وزیرِ اعظم اور آدھا وقت اِن کا وزیرِ اعظم، اگر میرا یہ تجزیہ ٹھیک نہیں تو پھر پنجاب سے سیٹیں نکالنا پڑیں گی۔ اس کے لیے بلاول کو پنجاب میں خود کو ریلیونٹ رکھنا ہو گا، اس کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں۔ فی الحال سال ڈیڑھ سال الیکشن کو گزرنے کے بعد تک بلاول کی پنجاب میں ایسی کوئی کوشش دکھائی نہیں دیتی ہے۔

نوٹ: اس سے اگلے مضمون میں آصف علی زرداری اور اُن کی طرزِ سیاست کا جائزہ پیش کیا جائے گا۔

Author

  • احمد اعجاز سینئر صحافی اور سیاسی امور کے ماہر ہیں۔ وہ ملک کے معروف اخبارات اور ٹی وی چینلز سے وابستہ رہنے کے علاوہ عالمی نشریاتی اداروں کے لئے بھی سیاسی موضوعات پر لکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں