پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے”پاکستان-برطانیہ گرین کمپیکٹ(UK-Pak Green Compact)” معاہدہ تحفظ ماحولیات کے لئے ایک تاریخی دستاویز ہے .اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے موسمیاتی بحران سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کے لیے طویل المدتی شراکت داری پر اتفاق کیا ہے۔ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ”یوکے پاکستان گرین کمپیکٹ”معاہدے پر دستخط کی تقریب پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمیشن کے زیر انتظام اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ برطانیہ کی وزیر برائے پلاننگ ڈویلپمنٹ جینیفر چیپمین(Jenefer Chapman)، پاکستان میں برطانیہ کی سفیر جین میریٹ(Jane Marriot) ، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی روابط ڈاکٹر مصدق ملک، وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر شذرہ منصب کھرل، وزیر اعظم پاکستان کی کوآرڈنیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی رومینہ خورشید عالم، سیکرٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی عائشہ حمیرا موریانی، وفاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی کے جوائنٹ سیکرٹریز شہباز مصطفی، نازیہ زیب علی، خالدہ بشیر، برطانیہ ہائی کمیشن اسلام آباد پاکستان کے پو لیٹیکل آفیسر برائے کلائمیٹ اینڈ اکانومی سربجیت سنگھ، برطانیہ ہائی کمیشن کی ڈپٹی کمونیکشن ہیڈ سنیہا لالہ اور دیگر متعلقہ حکام اس تقریب میں خصوصی طور پر شریک ہوئے۔
پاکستان برطانیہ گرین کمپیکٹ معاہدے کا مقصد پاکستان کو موسمیاتی آفات کی تیاری اور گرین انرجی کی جانب منتقلی میں مدد فراہم کرنا ہے۔ پاکستان کو موسمیاتی تحفظ اور گرین انرجی کے لیے 35 ملین پاؤنڈ (تقریبا 12 ارب روپے) دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ یہ خطیر رقم پاکستان کے موسمیاتی منصوبوں اور ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات میں استعمال ہو گی۔ اس میں سے 1.5 کروڑ پاؤنڈ سے ”پاکستان کلائمیٹ فنانسنگ” فیسیلٹی قائم ہو گی۔ یہ فیسیلٹی سستی اور گرین بجلی کی پیداوار کو فروغ دے گی تاکہ کوئلے اور تیل پر انحصار کم کیا جا سکے۔ دو کروڑ پاؤنڈ مینگرووز کی حفاظت پر خرچ ہوں گے اور اس فنڈ سے پاکستان کے ساحلی جنگلات کی بحالی اور تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا تاکہ ماحولیاتی توازن کے لیے اہم مینگرووز ساحلی شہروں کے لئے ”پہلی دفاعی لائن” بن سکیں۔ یہ مینگرووز سمندری طوفانوں اور ساحلی کٹاو سے کراچی سمیت دیگر شہروں کو ڈوبنے سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
معاہدے کے تحت شمسی اور ہوا (Solar/Wind)سے بجلی بنانے کے جدید منصوبے لگیں گے۔ گرین کمپیکٹ نجی سرمایہ کاری کو راغب کر کے قابل تجدید توانائی (Renewable Energy)کے میدان میں انقلاب لائے گا۔ گرین کمپیکٹ کا فوکس ”یوتھ اور انوویشن” پر ہے۔ نوجوانوں کو ماحول دوست آئیڈیاز اور گرین سٹارٹ اپس کو ترقی دینے کے لیے پلیٹ فارم اور سپورٹ فراہم کی جائے گی۔ برطانیہ نے کلائمیٹ چینج کمپیٹیشن کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس مقابلے کا مقصد نوجوانوں کے تخلیقی اور ماحول دوست حل کو تلاش کرنا اور انہیں سرمایہ کاروں سے ملوانا ہے۔

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی وماحولیاتی روابط ڈاکٹر مصدق ملک نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک اور موسمیاتی آفت پوری جی ڈی پی (GDP)کو صفر کر سکتی ہے۔ 2022کے سیلاب کے نقصانات کا تخمینہ پاکستان کے جی ڈی پی کا ساڑھے نو فیصد تھا جو بے انتہا زیادہ ہے۔ ملک معاشی بحالی کی کوششوں کے دوران ایک اور بڑے سیلاب یا آفت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا ہے۔ ماضی کے سیلابوں میں 4,700 جانیں ضائع ہوئیں اور چار کروڑ لوگ بے گھر ہوئے۔ وفاقی وزیر نے پاکستان پر موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کی ”گروانڈ ریئیلٹی”عوام کے سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ پاکستان شدید ترین موسمیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہے۔ رواں سال اور 2022کے سیلاب نے پاکستان کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سیلابی صورتحال کیوجہ سے متاثرہ علاقوں میں کئی ماہ تک معمولات زندگی بحال نہیں ہو سکے، بچے سکولوں میں نہ جا سکے۔ وفاقی وزیر نے یوکے پاکستان گرین کمپیکٹ منصوبے کی لانچنگ کو ہوا کا تازہ جھونکا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم برطانیہ کے مشکور ہیں کہ وہ ان مسائل سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی معاونت کر رہا ہے۔
برطانیہ کی وزیر برائے پلاننگ ڈویلپمنٹ جینیفر چیپمین نے اپنے خطاب میں کہا کہ اب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کی قیمت کچھ کرنے سے کہیں زیادہ ہو گی۔ جینیفر چیپمین نے فوری طور پر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستان کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ پاکستان گرین کمپیکٹ معاہدہ ماحولیات کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک اس پروگرام کے تحت مل کر کام کریں۔ لانچنگ تقریب کے دوران پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں، ماحولیاتی مسائل اور وائلڈ لائف پر کام کرنے والے اداروں نے بھی اپنے سٹالز لگا رکھے تھے۔ ان اداروں کی جانب سے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں بارے اقدامات کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی جس میں شرکاء نے خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا۔ برطانیہ کی وزیر برائے ترقی جینیفر چیپمین نے بھی تمام سٹالز کا دورہ کیا۔ اس موقع پر پاکستان میں برطانیہ کی سفیر جین میریٹ اور دیگر مہمان بھی ان کے ہمراہ تھے۔
