سرگودھا: یونیورسٹی آف سرگودھا نے چین کے تین مختلف اداروں کے ساتھ باہمی تعاون کے معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔ یہ معاہدے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قیصر عباس کے دورہ چین کے دوران طے پائے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق تائیانجن زن ژیو ٹیک کمپنی کے ساتھ طے پانے والے ایم او یو کے تحت ٹیکنالوجیکل انوویشن، تحقیقی تعاون اور انڈسٹری پر مبنی تربیتی پروگراموں کو فروغ دیا جائے گا۔

تائیانجن بولنگ ایجوکیشن اینڈ کلچر انویسٹمنٹ کمپنی کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت بین الاقوامی سی فیئرر تربیتی پروگرام شروع کیا جائے گا۔ اس پروگرام کے تحت پاکستانی طلبہ کو عالمی میری ٹائم سیکٹر میں تعلیم اور روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔ علاوہ ازیں چین کی ہینان لیئین انویسٹمنٹ کمپنی کے ساتھ طے پانے والے معاہدے میں سانیا، ہینان میں یونیورسٹی آف سرگودھا کا بین الاقوامی کیمپس اور انٹرنیشنل ہسپتال قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس طرح یونیورسٹی آف سرگودھاچین میں کیمپس قائم کرنے والی پہلی پاکستانی یونیورسٹی بن جائے گی۔

اس سلسلے میں وائس چانسلر کی قیادت میں وفد نے سانیا میں کیمپس قائم کرنے کے لیے مجوزہ سائٹ کا بھی دورہ کیا اور بلڈنگ و دیگر انفراسٹرکچر کی تعمیر اور ترقی کے امکانات کا جائزہ لیا۔ یونیورسٹی آف سرگودھا کے وائس چانسلر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے تیان شان فورم برائے سنٹرل ایشیا تعاون اور کیریک تھنک ٹینک ڈویلپمنٹ فورم میں بھی شریک ہوئے جہاں علاقائی تعاون، پالیسی ڈائیلاگ اور مشترکہ تحقیقی امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس کے علاوہ یونیورسٹی کا وفد نَن کائی یونیورسٹی میں ہونے والے بین الاقوامی سائنسی سمپوزیم اور 2025 کی سالانہ اکیڈمک کانفرنس میں بھی شریک ہوئے جہاں یونیورسٹی آف سرگودھا اور نَن کائی یونیورسٹی کے مابین ایک بڑے تعلیمی اشتراک کو باضابطہ شکل دینے پر اتفاق کیا گیا۔یونیورسٹی وفد نے تائیانجن بائیو انوویشن سنتھیٹک بائیوٹیک کمپنی اور زیبو ہوجیے مشینری کمپنی کا دورہ بھی کیا جہاں زیبو کمپنی نے پاکستان میں میڈیکل آلات کی مینوفیکچرنگ فیکٹری قائم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے جو کہ پاکستان کی ہیلتھ ٹیکنالوجی انڈسٹری میں اہم پیش رفت ثابت ہو گی۔دورے کی کامیابی پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قیصر عباس نے کہا کہ یہ معاہدے اور شراکتیں یونیورسٹی آف سرگودھا کے عالمی سفر کا نیا باب ہیں۔
