فیصل آباد میں کینسر کے مریضوں کو درپیش مشکل کا حل کس کے پاس ہے؟

آبادی کے اعتبار سے فیصل آباد ملک کا تیسرا اور پنجاب کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ اس کا شمار پاکستان کے بڑے صنعتی مراکز میں ہوتا ہے۔ اس شہر سے حال ہی میں ن لیگ نے الیکشن جیتا ہے۔ وفاقی حکومت میں اس کو اپنے سائز سے زیادہ نمائندگی حاصل ہے۔ وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا تعلق فیصل آباد سے ہے جب کہ وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنااللہ بھی اسی شہر سے تعلق رکھتے ہیں۔
فیصل آباد بلاشبہ ارب پتی صنعت کاروں اور تاجروں کا شہر ہے لیکن اس سب کے باوجود فیصل آباد میں کینسر کے مریضوں کے لئے ایک ریڈیو تھراپی مرکز نہیں ہے۔ میڈیکل سائنس کی یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ سبھی اقسام کے کینسر کے علاج میں ریڈیو تھراپی کا حصہ چالیس فی صد ہے۔
حکومت کے زیر انتظام الائیڈ ہسپتال میں 1980 کی دہائی کا ریڈیو تھراپی یونٹ موجود ہے جو آوٹ آف ڈیٹ ہو چکا ہے اور کینسر کے علاج کے حوالے سے ہونے والی جدید تحقیق اور طریقہ علاج سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ اس لئےکینسر کے وہ مریض جنہیں ان کے معالج ریڈیو تھراپی کے سیشنز تجویز کرتے ہیں انھیں اس کے لئے کم و بیش 200 کلو میٹر کا سفر طے کرکے لاہور جانا پڑتا ہے اور یہ سفر کوئی ایک دن کے لئے نہیں ہوتا بلکہ 30 سے 40 مرتبہ مریض کو اس کے لئے لاہور جانا پڑتا ہے۔ ریڈیو تھراپی کے لئے 30، 40 مرتبہ لاہور جانے کے لئے کس قدر خرچہ ہوتا ہے یہ کسی کو بتانےکی ضرورت نہیں ہے۔ کینسر کا مریض جو پہلے ہی مہنگے علاج کے ہاتھوں پریشان ہوتا ہے فیصل آباد سے لاہور کا سفر اور اوپر سے مالی بوجھ اس کو مزید نڈھال اور مایوس کر دیتا ہے۔
پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے ترجیحی بنیادوں پر فیصل آباد میں ریڈیو تھراپی یونٹ کی تنصیب کی تجویز دی ہے لیکن اس پر ابھی تک عمل درآمد ہونا باقی ہے۔ وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے استدعا ہے کہ نمائشی منصوبوں کو ایک طرف کرتے ہوئے عوام کی سہولت اور بہتری کے لئے حقیقی کام کریں۔ فیصل آباد میں ریڈیو تھراپی یونٹ کا قیام ایسا ہی ایک حقیقی کام ہے۔
جہاں تک پنجاب حکومت کا تعلق ہے تو اس سے یہ مطالبہ جاری رہے گا لیکن اس مسئلے کو ایک دوسرے زاوئیے سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے اور وہ ہے فیصل آباد کے سرمایہ دار اور صنعتکار۔ کیا یہ خود اپنے وسائل سے ریڈیو تھراپی یونٹ قائم نہیں کر سکتے ہیں؟ مدینہ فاونڈیشن جیسا خیراتی ادارہ جو داتا دربار کے مزار کی توسیع کے لئے اسحاق ڈار کے ساتھ انڈرسٹینڈنگ کا معاہدہ کرتا ہے کیا وہ اپنے وسائل سے فیصل آباد کو ریڈیو تھراپی یونٹ مہیا نہیں کر سکتا ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ یہ کام کرکے اسے شہرت ملنے کی توقع نہیں ہے۔ یہ فاونڈیشن نمائشی کاموں میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے ایسے کام جن سے عوام کی واہ واہ ملے۔

Author

  • لیاقت علی ایڈووکیٹ سینئر وکیل ہیں اور سماجی و قانونی معاملات پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں.

اپنا تبصرہ لکھیں