اسلام آباد: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 11ویں ایڈیشن کے لئے دو نئی ٹیموں کی نیلامی کا عمل پاکستان کرکٹ بورڈ کے زیرانتظام جناح کنونشن سنٹر میں مکمل ہو گیا ہے۔ اس نیلامی میں حیدر آباد اور سیالکوٹ کی دو نئی ٹیمیں بالترتیب 175 کروڑ اور 185 کروڑ روپے میں فروخت ہوئیں جبکہ فیصل آباد کی ٹیم کے لئے کوئی خریدار بولی دینے کے لئے سامنے نہیں آیا۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر فیصل آباد کے کرکٹشائقین جہاں افسوس کا اظہار کر رہے ہیں وہیں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ملک کے نامی گرامی سرمایہ داروں اور صنعتکاروں میں سے کوئی اپنے شہر کی کرکٹ ٹیم کی خریداری کے لئے بولی دینےسامنے کیوں نہیں آیا. اس حوالے سے فیصل آباد کے سرمایہ داروں اور صنعتکاروں کا زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کے لئے طویل عرصے سے ٹیکسٹائل اور پراپرٹی کے شعبوں پر انحصار، اپنے شہر کی اونر شپ نہ لینے اور اس کی بہتری سے لاتعلقی کے روئیے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے.علاوہ ازیں فیصل آباد کی ٹیم پی ایس ایل کا حصہ نہ بننے کے باعث پی ایس ایل 11 کے اقبال سٹیڈیم فیصل آباد میں ہونے والے متوقع میچز بھی خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ دوسری طرف سیالکوٹ کی ٹیم لاہور قلندرز اور ملتان سلطانز کے بعد پی ایس ایل میں شامل ہونے والی تیسری ٹیم بن گئی ہے جس کا تعلق پنجاب سے ہے۔ واضح رہے کہ علی ترین کے ملتان سلطانز سے الگ ہونے کے بعد اس ٹیم کی مینجمنٹ رواں برس پاکستان کرکٹ بورڈ خود چلائے گا۔ قبل ازیں پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے پاکستان سپر لیگ کے سیزن 11 میں شمولیت کے حوالے سے نئی ٹیموں کے لیے مجموعی طور پر چھ شہروں کے نام شارٹ لسٹ کیے گئے تھے جن میں فیصل آباد، گلگت، سیالکوٹ، حیدرآباد، راولپنڈی اور مظفرآباد شامل تھے۔

نئی ٹیموں کے لئے ہونے والی نیلامی میں پی ایس ایل کی ساتویں ٹیم حیدر آباد سے تعلق رکھنے والے ایف کے ایس گروپ کے فواد سرور نے ایک ارب 75 کروڑ روپے کی کامیاب بولی دے کر خریدی ہے۔ ان کا گروپ امریکہ میں بھی کرکٹ کی مختلف ٹیموں کا مالک ہے۔ اسی طرح پی ایس ایل کی آٹھویں ٹیم سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے اوزی ڈیویلپرز نے 185 کروڑ روپے کی کامیاب بولی لگا کر اپنے نام کی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق کامیاب بولیوں کی رقم دراصل سالانہ فیس ہے جو ساتویں اور آٹھویں ٹیم کے مالکان سالانہ بنیادوں پر پی سی بی کو ادا کریں گے۔ بولی جیتنے والی فرنچائزز کے مالکان حقوق دس برس کے لئے دیئے گئے ہیں اور یہ مدت 2035 میں مکمل ہو گی جس کے بعد انہیں فرسٹ رائٹ آف ریفیوزل (یعنی ترجیحی تجدید کا حق) بھی حاصل ہو گا۔ واضح رہے کہ پی ایس ایل کا آئندہ سیزن رواں برس مارچ میں شروع ہو رہا ہے جس میں پہلی مرتبہ چھ کی بجائے آٹھ ٹیمیں حصہ لیں گے۔ اس عرصے کے دوران نئی شامل ہونے والی ٹیموں کے مالکان اپنے اپنے ناموں کو حتمی شکل دیں گے اور لوگو تیار کریں گے۔
