فیصل آباد میں 23 نومبر کو قومی اسمبلی کے دو حلقوں این اے 96، این اے 104 اور صوبائی اسمبلی کے تین حلقوں پی پی 98، پی پی 115 اور پی پی 116 میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن نے واضح مارجن سے کامیابی حاصل کی ہے۔
پی ایم ایل ن کی اس کامیابی میں جہاں دیگر عوامل کارفرما رہے وہیں فیصل آباد کی کرسچن کمیونٹی کے ووٹرز نے بھی اس کی جیت میں اہم کردار ادا کیا ہے بالخصوص این اے 96 جڑانوالہ اور پی پی 115 فیصل آباد سٹی میں کرسچن کمیونٹی کا قابل ذکر ووٹ بنک موجود ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ان دو حلقوں سے کامیاب ہونے والے پی ایم ایل ن کے امیدواروں کو کم ٹرن آوٹ کے باوجود فروری 2024 کے عام انتخابات کے مقابلے میں زیادہ ووٹ پڑے ہیں جبکہ دیگر تین حلقوں سے جیتنے والے اس کے امیدواروں نے فروری 2024 کے عام انتخابات میں ملنے والے ووٹوں کے مقابلے میں کم ووٹ لئے ہیں۔
واضح رہے کہ فروری 2024 کے عام انتخاب میں تقریبا 50 فیصد ٹرن آوٹ کے ساتھ این اے 96 سے پی ایم ایل ن کے امیدوار کو 92504 ووٹ ملے تھے جبکہ ضمنی انتخابات میں26.46 فیصد ٹرن آوٹ کے باوجود پی ایم ایل این کے امیدوار کو 93009 ووٹ پڑے ہیں۔
اسی طرح پی پی 115 میں پی ایم ایل ن کے امیدوار میاں طاہر جمیل کو 2024 میں 50 فیصد ٹرن آوٹ کے وقت 39365 ووٹ ملے تھے اور اس مرتبہ 22.73 فیصد ٹرن آوٹ کے باوجود 49046 ووٹ پڑے ہیں۔
علاوہ ازیں حالیہ ضمنی انتخابات میں فیصل آباد کے تین دیگر حلقوں این اے 104، پی پی 98 اور پی پی 116 سے جیتنے والے پی ایم ایل ن کے امیدواروں کو 2024ء کے عام انتخابات کے مقابلے میں بالترتیب 43 فیصد، آٹھ فیصد اور سات فیصد ووٹ کم پڑے ہیں۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 16 اگست 2023 کو جڑانوالہ میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے الزام کے بعد ہونے والے فسادات میں ملوث ملزموں کے خلاف انصاف کی عدم فراہمی اور بعض متاثرین کو معاوضے کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ابتدائی طور پر کرسچن کمیونٹی نے ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا۔
اس سلسلے میں کرسچن کمیونٹی کی طرف سے سانحہ جڑانوالہ کے دو سال مکمل ہونے پر 16 اگست 2025 سے جڑانوالہ کے کرسچن ٹاون اور فیصل آباد شہر میں کرسچن کمیونٹی کی سب سے بڑی آبادی وارث پورہ کے پینٹو گراونڈ میں تقریبا تین ماہ سے احتجاجی دھرنہ بھی جاری تھا۔
تاہم فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے پی ایم ایل ن کے سینیٹر اور سابق صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار خلیل طاہر سندھو کی کوششوں کے باعث پولنگ سے ایک ہفتے قبل کرسچن کمیونٹی نے ناصرف ضمنی انتخاب کا بائیکاٹ اور دھرنا ختم کر دیا تھا بلکہ پی ایم ایل ن کے امیدواروں کی مکمل حمایت کا بھی اعلان کیا تھا۔
اس سلسلے میں خلیل طاہر سندھو نے جڑانوالہ میں این اے 96 سے امیدوار وزیر مملکت برائے داخلہ امور طلال چوہدری کے بھائی بلال بدر اور فیصل آباد میں پی پی 115 سے امیدوار میاں طاہر جمیل کے ہمراہ کرسچن کمیونٹی کی طرف سے جاری دھرنے میں خود جا کر پبلک کے سامنے سانحہ جڑانوالہ کے متاثرین کی امداد کے لئے ری ایسسمنٹ کمیٹی بنانے اور اس سلسلے میں درج مقدمات کی ری انویسٹی گیشن کی یقین دہانی کروائی تھی۔
سانحہ جڑانوالہ کے متاثرین میں شامل مائنارٹی رائٹس موومنٹ کے رکن شکیل بھٹی نےسے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ “یہ بہت بڑا واقعہ تھا — 27 گرجا گھر، بائبل کی بے شمار کاپیاں، اور گھروں کو جلایا اور لوٹا گیا — مگر کوئی مؤثر تفتیش نہیں ہوئی۔ کوئی ہمیں سننے کو تیار نہیں۔ دوسری طرف کوئی بھی گروہ یا پارٹی ایسی کارروائی بغیر رکاوٹ کے کر سکتی ہے۔”
اس حوالے سے عدالتوں میں جاری مقدمات کے متعلق انہوں نے بتایا کہ ایف آئی آر نمبر 78/23 کے کیس میں انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج نے ‘مال مقدمہ’ کے بارے میں پوچھا، اور جب شکایت کنندہ نے جواب دیا کہ یہ پولیس کی ذمہ داری ہے، تو جج نے جیل بھیجنے کی دھمکی دی۔
شکیل نے سوال اٹھایا، “اگر ججوں کا یہ رویہ ہے تو ہم جیسے لوگ انصاف کے لیے کہاں جائیں؟”
انہوں نے مزید بتایا کہ متاثرین کو تفتیشی افسران کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا، جبکہ ان کی اپنی اور چار دیگر ایف آئی آرز کو جج نے سیل کر دیا۔
شکیل نے کہا کہ وہ 15 سے 20 مرتبہ آر پی او کے دفتر گئے تاکہ تفتیش تبدیل ہو، مگر کچھ نہیں ہوا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ متاثرین کے نقصان کا ازالہ کرنے کے لئے بنائی گئی کمیٹی میں بھی متاثرین یا دیگر سٹیک ہولڈرز کو فریق نہیں بنایا گیا جبکہ متاثرین کو امدادی رقم بھی وعدے کے مطابق فی فیملی کی بجائے فی گھر کے حساب سے دیا گیا جس کی وجہ سے بہت سے متاثرین کو تاحال امداد نہیں مل سکی ہے۔
“ایک ایک گھر میں دو دو، تین تین اور چار چار تک فیملیز رہائش پذیر تھیں لیکن اس طرح کے متاثرین میں سے زیادہ تر کو ایک ہی گھرانہ شمار کیا گیا جس کی وجہ سے ان کے نقصان کا ازالہ بھی نہیں ہوا اور انہیں انصاف بھی نہیں ملا۔”
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو سال میں کسی منتخب عوامی نمائندے نے کرسچن کمیونٹی کے ساتھ ہونے والے اس ظلم کا مداوا کرنے کے لئے ان کا ساتھ نہیں دیا۔
“لیگل ایڈ کے نام پر عدالتوں میں ہماری پیروی کرنے والوں نے بھی ہمیں انصاف نہیں دلوایا۔ ان سے بھی پوچھا جانا چاہیے کہ وہ کن کے لئے کام کر رہے ہیں۔”
ان کا کہنا تھا کہ جس طرح خلیل طاہر سندھو نے حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے متاثرین کو انصاف کی فراہمی اور نقصان کے ازالے کی یقین دہانی کروائ ہے انہیں امید ہے کہ وہ اس پر ضرور عملدرآمد کروائیں گے۔
“وہ ہماری کمیونٹی سے ہیں، اس سے پہلے مینارٹیز کے صوبائی وزیر بھی رہ چکے ہیں، وہ ذاتی طور پر اس سانحے کے ذمہ داران سے متعلق آگاہ ہیں۔ اگر وہ بھی یہ کام نہ کر سکے تو پھر شاید کرسچن کمیونٹی کی مایوسی میں مزید اضافہ ہو گا کیونکہ وہ پہلے ہی اس ملک میں خود کو دوسرے درجے کا شہری سمجھتے ہیں۔”
پی ایم ایل ن کے سینیٹر خلیل طاہر سندھو نے بتایا کہ وہ اپنے وعدے کے مطابق سینیٹ کے آئندہ اجلاس میں سب سے پہلے سانحہ جڑانوالہ کے مقدمات کی ری انویسٹیگیشن اور تمام متاثرین کو حکومت کی طرف سے اعلان کردہ کمپنسیشن کی ادائیگی یقینی بنانے کے لئے بات کریں گے۔
“این اے 96 سے نومنتخب ایم این اے بلال بدر اور پی پی 115 سے نومنتخب ایم پی اے میاں طاہر جمیل نے بھی یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ حلف اٹھانے کے بعد سب سے پہلے اس ایشو پر آواز بلند کریں گے۔”
خلیل طاہر سندھو کے مطابق یہ کرسچن ووٹرز کی وجہ سے ممکن ہوا ہے کہ ان دو حلقوں میں مسلم لیگ ن کے امیدواروں کو کم ٹرن آؤٹ کے باوجود فروری 2024 کے عام انتخابات کے مقابلے میں زیادہ ووٹ ملے ہیں۔
“اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان دو حلقوں کے کرسچن ووٹرز نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے یہ اب ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ان سے کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔”
انہوں نے بتایا کہ سانحہ جڑانوالہ کے ملزموں کو سزاوں میں تاخیر کی بنیادی وجہ پولیس کی ناقص تفتیش ہے۔
“پولیس نے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں جن ملزموں کو قصوروار قرار دیا ہے نچلی عدالتوں میں انہیں بیگناہ قرار دے کر بری کر دیا گیا ہے جو کہ سراسر قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اسی لئے ہم چاہتے ہیں کہ ان مقدمات کی دوبارہ شفاف تفتیش کی جائے۔”
ان کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 25 کے مطابق تمام پاکستانی برابر کے شہری ہیں اور حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ سانحہ جڑانوالہ کے ملزموں کو قانون کے مطابق سزا ملے اور جن متاثرین کو کمپنسیشن نہیں ملی انہیں معاوضے کی ادائیگی کی جائے۔
سماجی کارکن نسیم انتھونی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ “کسی کو پیچھے نہ چھوڑو” کا جذبہ ایسے ماحول کا مطالبہ کرتا ہے جہاں خاص طور پر انتخابی عمل کے ذریعے سماجی شمولیت کی ضمانت دی جائے۔
انہوں نے دلیل دی کہ “علامتی نمائندگی” کے بجائے حقیقی سیاسی شرکت کمیونٹیز کے درمیان دقیانوسی تصورات کو توڑنے اور سماجی ہم آہنگی کو مضبوط کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سانحہ جڑانوالہ کے مجرموں کو جوابدہ ٹھہرانے کے حوالے سے اپنی ذمہ داری ادا کرکے ریاست اپنے تمام شہریوں کے تحفظ کا وعدہ پورا کر سکتی ہے جس کے مذہبی اقلیتوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
“سانحہ جڑانوالہ کے متاثرین کی بحالی اور مدد کے لئے حکومت اور سول سوسائٹی نے اقدامات کئے ہیں لیکن انصاف کی فراہمی کا وعدہ تاحال پورا نہیں ہو سکا ہے۔
انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ واضح ویڈیو ثبوت ہونے کے باوجود کئی اہم ملزمان ضمانت حاصل کر چکے ہیں۔
“اس سے انتہا پسند عناصر کو نفرت پھیلانے کا حوصلہ ملا ہے۔ موثر پراسیکیوشن، نفرت انگیز تقاریر پر پابندی اور گواہوں کو تحفظ فراہم کرنا کمیونٹی کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے ضروری ہے۔”
نسیم انتھونی نے مذہبی اقلیتوں کے ساتھ روا رکھنے جانے والے امتیازی سلوک کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ اس تصور کو تقویت دیتا ہے کہ وہ دوسرے درجے کے شہری ہیں۔
انہوں نے امتیازی سلوک کے خلاف پالیسیوں کے نفاذ، میرٹ پر مبنی روزگار اور ایک ایسے نظام تعلیم کا مطالبہ کیا جو اقلیتوں کو قوم کی تاریخ اور ترقی میں مساوی شراکت دار کے طور پر تسلیم کرے۔
