گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال: برآمدی و درآمدی مال سے لدے ہزاروں کنٹینرز کی ترسیل رک گئی

فیصل آباد: پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے گڈز ٹرانسپورٹ مالکان کی جاری ملک گیر ہڑتال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سینئر وائس چیئرمین احمد افضل اعوان نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال فوری ختم کروائی جائے تاکہ برآمدی و درآمدی مال کی سپلائی بحال ہو سکے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ مزید تاخیر سے برآمدی شعبے کو بھاری نقصان کا اندیشہ ہے جس کی وجہ سے ملک کو درپیش معاشی مسائل مزید سنگین ہو جائیں گے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ برآمدی و درآمدی مال سے لدے ہزاروں کنٹینرز سڑکوں، بندرگاہوں اور فیکٹریوں میں پھنسے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے صنعتی شعبہ مکمل بندش کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رواں برس بدترین لاجسٹک بحران کی وجہ سے برآمد کنندگان کو بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔ احمد افضل اعوان کے مطابق لاکھوں ڈالر مالیت کے برآمدی آرڈرز فوری خطرے میں ہیں کیونکہ غیر ملکی خریدار طویل تاخیر برداشت نہیں کریں گے اور پاکستان اہم غیر ملکی گاہکوں سے محروم ہو جائے گا جنہیں دوبارہ واپس لانا بہت مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ برآمدی شعبہ پہلے ہی مہنگائی، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، توانائی بحران اور عالمی مسابقت کے دباؤ میں ہے ایسے میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال سے ٹیکسٹائل ویلیو چین مکمل طور پر جام ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیکٹریوں کو خام مال کی سپلائی بند ہونے اور تیار مال بندرگاہ تک نہ پہنچنے کی وجہ سے برآمدی آرڈرز کی بروقت ترسیل کا پورا شیڈول متاثر ہو چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ امپورٹرز کے کنٹینرز بھی بندرگاہوں پر پھنسے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے بھاری ڈیمریج چارجز اور کاروباری نقصان کا اندیشہ ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں