گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال سے اربوں روپے کے برآمدی آرڈرز کی بروقت ترسیل خطرے میں پڑ گئی

فیصل آباد: پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے پیٹرن چیف خرم مختار نے کہا ہے کہ پانچ روز سے جاری گڈز ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال کے باعث اربوں روپے مالیت کے برآمدی آرڈرز کی بروقت ترسیل خطرے میں پڑ گئی ہے. انہوں نے کہا ہے کہ ان باؤنڈ اور آؤٹ باؤنڈ لاجسٹکس کی مکمل معطلی کے باعث ہزاروں کنٹینرز راستے میں پھنسے ہوئے ہیں اور تمام بڑی برآمدی صنعتوں میں سپلائی چین شدید متاثر ہوئی ہے۔ خرم مختار کے مطابق شاہراہوں اور بندرگاہوں پر پھنسے برآمدی سامان پر بھاری ڈیمریج چارجز اور بڑے پیمانے پر بین الاقوامی آرڈرز کی منسوخی کا خطرہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ خلل ایک قابل اعتماد عالمی سورسنگ پارٹنر کے طور پر پاکستان کی ساکھ کو سنگین نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدی شعبہ پہلے ہی بلند انرجی ٹیرف، ریفنڈز کی واپسی میں تاخیر اور لاگت میں اضافے کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال ملک کے لئے ناقابل برداشت ہو چکی ہے اس لئے گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال ختم کروانے کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے فوری اور فیصلہ کن مداخلت ضروری ہے۔ انہوں نے حکومت اور دیگر سٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ اس بحران کا فوری اور دیرپا حل نکالا جائے۔ نہوں نے کہا کہ ہر گھنٹے کی تاخیر برآمد کنندگان کے مالی نقصان میں اضافے کا باعث بن رہی ہے اور برآمدی ویلیو چین سے جڑے لاکھوں افراد کا روزگار خطرے میں ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں