جنگ عظیم اول کے وار فنڈ سے فروغ تعلیم کے لئے قائم لائلپور کا کیلہ گفٹ فنڈ ٹرسٹ خطرے میں

فیصل آباد کی ضلع کچہری میں ہر روز بلا مبالغہ ہزاروں افراد کی آمدو رفت ہوتی ہے لیکن ان میں سے بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ یہاں ایک صدی قدیم ثقافتی ورثہ آخری سانسیں لے رہا ہے۔
یہ ثقافتی ورثہ کیلہ گفٹ فنڈ ٹرسٹ بلڈنگ ہے جسے ضلعی انتظامیہ نے ایک دہائی قبل ثقافتی ورثہ قرار دے کر آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ بنانے کا وعدہ کیا تھا۔
تاہم آج ناصرف یہ تاریخی عمارت مناسب دیکھ بھال اور مرمت نہ ہونے کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے بلکہ اس سے کسانوں کے بچوں کو ملنے والے وظائف بھی بند ہو چکے ہیں۔
ضلع کچہری میں وکلاء کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ ساتھ ان کے منزل در منزل بلند ہوتے چیمبرز کے بالمقابل ہر گزرتے دن کے ساتھ خستہ حالی کا شکار ہوتی کیلہ گفٹ فنڈ ٹرسٹ کی تاریخی عمارت اپنی بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اس کے چاروں اطراف لگے قدیم درخت بھی حسرت و یاس کی تصویر بنے اس دور کو یاد کرتے محسوس ہوتے ہیں جب یہ عمارت اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ ہر گزرنے والے کو اپنی جانب متوجہ کر لیتی تھی۔
پاک و ہند میں یہ اپنی نوعیت کا واحد ٹرسٹ ہے جو جنگ کے لئے اکٹھی کی گئی رقم سے قائم کیا گیا اور تعلیم کے فروغ کا ذریعہ بنا۔

ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن فیصل آباد کے سابق صدر سلیم جہانگیر چٹھہ 1982 میں اس ٹرسٹ کے ٹرسٹی رہ چکے ہیں۔ اس سے پہلے ان کے مرحوم والد چوہدری شریف علی چٹھہ سابق صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن بھی کیلہ گفٹ فنڈ ٹرسٹ کے ٹرسٹی تھے۔
انہوں نے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 1914ء میں پہلی جنگ عظیم کے موقع پر دفاعی فنڈ کے طور پر گورنمنٹ آف برطانیہ نے کاشتکاروں سے فی ایکڑ کے حساب سے وار ٹیکس لیا تھا۔
“ایکڑ سے مراد کیلہ ہے۔ اس وقت لائلپور ضلع میں 16 لاکھ روپے اکٹھے ہوئے، بعد میں جب جنگ بند ہو گئی تو برطانوی حکومت نے حکم دیا کہ یہ رقم کسانوں کو واپس کر دی جائے۔”
انہوں نے بتایا کہ لائلپور کے اس وقت کے ڈپٹی کمشنر اے اے میکڈونلڈ نے خط لکھ کر اس وقت کے گورنر پنجاب سر مائیکل فرانسس ایڈوائر کو یہ تجویز پیش کی تھی کہ اگر اس رقم سے ٹرسٹ بنا کر ساری رقم بینک میں فکس ڈیپازٹ کروا دی جائے اور اس سے جو منافع ملے اس سے کاشتکاروں کے بچوں کو تعلیمی وظائف دیئے جائیں تو ضلع میں تعلیم کے فروغ میں بہت مدد ملے گی۔
وہ بتاتے ہیں کہ حکومت نے اس تجویز پر عمل کرتے ہوئے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے کیلہ گفٹ فنڈ ٹرسٹ بنا کر 16 لاکھ روپے کی یہ رقم اس کے بینک اکاونٹ میں جمع کروا دی جو کہ اب اربوں روپے ہو چکی ہے۔
“اس رقم میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا کیونکہ جب کیلہ گفٹ فنڈ ٹرسٹ معرض وجود میں آ گیا، لوگوں نے وظائف سے فوائد حاصل کئے اور اعلی تعلیم حاصل کی، اس وقت جو آدمی کیلہ گفٹ فنڈ سے وظیفہ لے کر پڑھتا تھا جب وہ جاب پر لگتا تھا تو وہ یکمشت ادائیگی واپس کر دیتا تھا اور وہ پیسے دوبارہ اس کیپٹل میں جمع ہو جاتے تھے۔”
سلیم جہانگیر چھٹہ کے مطابق 1936ء میں ڈپٹی کمشنر اے اے میکڈونلڈ نے ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے دو کنال سے زائد اراضی پر کیلہ گفٹ فنڈ ٹرسٹ کی بلڈنگ بھی بنوائی جس کا افتتاح 19 جولائی 1936 کو کمشنر ملتان ڈویژن سی وی سلسبری نے کیا تھا۔
“یہ عمارت آج بھی موجود ہے لیکن مناسب دیکھ بھال اور مرمت نہ ہونے کی وجہ سے شکستہ حالی کا شکار ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ کیلہ گفٹ فنڈ ٹرسٹ کو ہر سال سینکٹروں طلبہ کی طرف سے وظیفے کے لئے درخواستیں موصول ہوتی تھیں اور ہر سال تقریبا 500 سے 600 طلبہ کو وظائف دیئے جاتے تھے۔
“طالبات کو چھٹی کلاس سے جبکہ طلبا کو گیارہویں جماعت سے وظیفے کا اجراء شروع کیا جاتا تھا۔ جو ہائر ایجوکیشن میں چلے جاتے تھے، انجینئرنگ میں چلے گئے، میڈیکل کالجز میں چلے گئے یا کسی دوسری جگہ پر چلے گئے ان کو وظیفہ زیادہ دیا جاتا تھا اور ہاسٹل کا خرچہ بھی دیا جاتا تھا۔”
سلیم جہانگیر چھٹہ کے مطابق ابتک اس ٹرسٹ سے لاکھوں طلبہ کو اربوں روپے کی رقم بطور وظیفہ دی جا چکی ہے۔
“وہ رقم کیونکہ انٹیکٹ تھی اور اس پر باقاعدہ انٹرسٹ آتا تھا اور ایک آنے کا کیلہ گفٹ فنڈ ٹرسٹ کا خرچہ نہیں تھا کیونکہ ٹرسٹی اپنی جیب سے خرچ کرتے تھے۔ چائے کی پیالی کا کوئی ادھر سے روادار نہیں ہوتا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ نامعلوم وجوہات کی بنا پر 2019ء سے کیلہ گفٹ فنڈ ٹرسٹ سے طلبہ کو وظائف کی ادائیگی رکی ہوئی ہے اور کچھ گروپس نے اس کی عمارت پر بھی قبضے کی کوششیں شروع کی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے ٹرسٹ اور اس کی بلڈنگ کو بقاء کا خطرہ درپیش ہے۔
“میرے علم میں جب یہ بات آئی کہ اس پر نظریں بہت سارے گروپس کی پڑ گئی ہیں اور وہ الاٹ کروانا چاہتے ہیں اس وقت میں نے گورنر پنجاب اور ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کو درخواست دی ہے کہ اسے بحال کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔”
انہوں نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف اور گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سے اپیل کی ہے کہ وہ ذاتی دلچسپی لے کر اس ٹرسٹ سے تعلیمی وظائف کے اجراء کو دوبارہ بحال کرنے اور اس کی تاریخی عمارت کو ثقافتی ورثہ قرار دے کر محفوظ بنانے کے لئے اقدامات کریں۔
“گورنر پنجاب اس کے پیٹرن انچیف ہیں، ان کو پرسنل انٹرسٹ لینا چاہیے اور پرسنل انٹرسٹ لیتے ہوئے عوامی مفاد میں، کسان کے مفاد میں اور بچوں کے تعلیمی معیار کو بہتر کرنے کے لئے، آج بھی وہ بچے جس کسمپرسی میں ہیں بہت سارے بچے میٹرک میں ہی ادھر رہ جاتے ہیں اگر ان کو وظیفہ ملے تو وہ اچھے اداروں میں جا سکتے ہیں، وہ داخلہ لے سکتے ہیں، اس کو ایکٹو ہونا چاہیے۔”

اس سے ملنے والی سکالر شپ سے گزشتہ ایک صدی میں لاکھوں طلبہ نے استفادہ کیا اور ان میں سے بڑی تعداد آج زندگی میں اعلی عہدوں اور مقام پر ہے. یہ طالب علم بھی اپنے اس محسن ادارے کی حالت زار پر پریشان ہیں ۔
فیصل آباد کے اولین زرعی ہفتہ روزہ “لائل پور اخبار” کا دفتر بھی گزشتہ صدی سے کیلہ گفٹ فنڈ ٹرسٹ کی بلڈنگ میں واقع ہے۔
اس اخبار کے موجودہ چیف ایڈیٹر ظہور احمد ڈار کے مطابق عمارت کی دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے اس کی چھت بارشوں میں جگہ جگہ سے ٹپکنا شروع ہو جاتی ہے۔
“اس کی چھت پر مٹی کی تین سے چار فٹ موٹی تہہ ہے جس کے اوپر سالہا سال سے درختوں کے پتے، کچرا اور کاٹھ کباڑ جمع ہے۔ ہمارے دفتر کے پچھلی طرف ایک درخت دیوار میں دھنس گیا ہے جس کی وجہ سے چھت مزید کمزور ہو گئی ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ وہ ٹرسٹ کے واحد ملازم صغیر احمد اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو سے مل کر انہیں کئی مرتبہ عمارت کی خستہ حالی سے آگاہ کرکے مرمت کے لئے کہہ چکے ہیں لیکن اس سلسلے میں تاحال کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔
“ٹرسٹ کا اکلوتا ملازم خود غیر قانونی طور پر ملازمت کر رہا ہے، وہ اس عمارت پر قبضہ کرنے کے خواہشمند افراد سے ملا ہوا ہے اور کئی مرتبہ مجھے بھی یہ پیشکش کر چکا ہے کہ میں یہ دفتر اسے کرائے پر دیدوں۔”
انہوں نے بتایا کہ عمارت کے زیادہ تر حال اور کمرے مختلف بااثر افراد نے معمولی کرائے پر اپنے تصرف میں لئے ہوئے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ ان کے پاس جو دو کمرے ہیں وہ بھی خالی کروائے جائیں۔
“اس عمارت سے ملحق کینٹین اور سرکلر روڈ کی طرف واقع کروڑوں روپے کی کمرشل دکانیں بھی انتظامیہ نے ملی بھگت سے معمولی کرائے پر دے رکھی ہیں اور ان کاروباری افراد کی بھی کوشش ہے کہ وہ مارکیٹ کے مطابق کرایہ دینے کی بجائے ویسے ہی دکانوں پر مزید تعمیرات کرکے ان پر مستقل قبضہ کر لیں۔”
ان کا کہنا تھا کہ ٹرسٹ کی کروڑوں روپے کی آمدن کہاں جا رہی ہے اس کے بارے میں بھی کوئی کچھ بتانے کے لئے تیار نہیں ہے جس کی وجہ سے کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات کو تقویت ملتی ہے۔

اس بارے میں حقائق جاننے کے لئے کیلہ گفٹ فنڈ ٹرسٹ بلڈنگ میں واقع ٹرسٹ کے دفتر میں موجود اکلوتے ملازم کلرک صغیر احمد سے رابطہ کیا گیا۔
تاہم انہوں نے کیلہ گفٹ فنڈ ٹرسٹ کے موجودہ ٹرسٹیز کے نام اور رابطہ نمبر دینے اور ٹرسٹ کے مالی و انتظامی امور سے متعلق کسی بھی قسم کی معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔
اس سلسلے میں مصدقہ معلومات کے حصول کے لئے کیلہ گفٹ فنڈ ٹرسٹ کے چیئرمین ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کو بھی رائٹ ٹو انفارمیشن کے تحت درخواست دی گئی تھی لیکن مقررہ مدت گزرنے کے باوجود کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں اور اب اس حوالے سے اپیل پنجاب انفارمیشن کمیشن میں پینڈنگ ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناصرف شہر کا قدیم ثقافتی ورثہ خطرے میں ہے بلکہ ہر سال سینکڑوں طلبہ کی تعلیم کا ذریعہ بن سکنے والی کرڑوں روپے کی رقم بھی مبینہ کرپشن کی نذر ہو رہی ہے۔

Author

  • نعیم احمد ایک تحقیقاتی صحافی ہیں جو سماجی مسائل پر لکھنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں خاص طور پر پسماندہ طبقات کے حقوق کی وکالت پر زور دیتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں