اسلام آباد: پاکستان کو درپیش موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے فوسل فیول پر انحصار کم کرنے اور برآمدی مسابقت بڑھا کر صنعتی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے فوری اصلاحات ضروری ہیں۔ یہ سفارشات مختلف شعبوں کے ماہرین نے “پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کی شمسی توانائی پر منتقلی میں کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں (ایم ڈی بی) کے کردار” کے موضوع پر منعقدہ سمینیار میں پیش کی ہیں۔ سیمینار کا انعقاد پاکستان میں کلین انرجی کو فروغ دینے کے لئے کام کرنے والے ادارے الٹرنیٹ ڈویلپمنٹ سروسز (اے ڈی ایس) کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس موقع پر اے ڈی ایس کے سی ای او امجد نذیر کی میزبانی میں اکیڈیمیا، انڈسٹری، معیشت، توانائی، مالیات، پالیسی سازی اور سول سوسائٹی کے 50 سے زائد ماہرین نے ایم ڈی بی فنانسنگ کو قومی ترجیحات سے ہم آہنگ کرنے، ٹیکسٹائل سیکٹر میں شمسی توانائی اپنانے کے رجحان کو تیز کرنے اور موسمیاتی انصاف کے تحت ملک پر قرضوں کا مزید بوجھ ڈالنے سے بچنے کے لیے قرضوں سے نجات اور رعایتی فنانسنگ کے لئے سفارشات پیش کیں اور ایڈووکیسی پر زور دیا۔

نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ انرجی سسٹم ان انجینئرنگ، یو ایس پی کیس کے سربراہ ڈاکٹر علی عباس کاظمی اور اے ڈی ایس کے انرجی ٹرانزیشن آفیسر عثمان بن احمد نے فیصل آباد اور ملتان کی 80 ٹیکسٹائل ملوں سے حاصل کردہ ابتدائی ڈیٹا پر مبنی تحقیقی مطالعہ پیش کیا جس میں 237 میگاواٹ کی نصب شدہ سولر کیپیسٹی کا جائزہ لیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس ڈیٹا کے ٹیکنو اکنامک تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اپنی ضرورت کی 87 فیصد بجلی قابل تجدید ذرائع سے حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کی شمسی توانائی پر منتقلی سے کاربن کے اخراج میں سالانہ 1.6 سے 1.76 ارب کلو گرام کمی ممکن ہے جو کہ یورپی یونین میں برآمدات کو جاری رکھنے کے لئے کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم (سی بی اے ایم) کی تعمیل کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے اپنی سفارشات میں ٹائرڈ ویلنگ چارجز، سولر پلس سٹوریج انسینٹوز اور گرین مارکیٹ سٹیبلائزیشن فنڈز کے قیام پر زور دیا۔

کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں (ایم ڈی بی) کی پالیسیوں پر تحقیقی مطالعہ مرکزی مصنف توانگر کاظمی نے پیش کیا۔ یہ تحقیقی مطالعہ ورلڈ بینک گروپ کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک اور ایشیائی ڈویلپمنٹ بینک کی کنٹری پارٹنرشپ سٹریٹجی کی پاکستان کے قومی فریم ورکس جیسے این ڈی سی 3.0، آئی جی سی ای پی اور نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن پالیسی کے تجزئیے پر مشتمل تھا۔ انہوں نے میٹرکس، اصلاحات کی ترتیب، ادارہ جاتی صلاحیت اور جسٹ ٹرانزیشن سیف گارڈز میں کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اس پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب گرین ڈویلپمنٹ پروگرام کی کیس اسٹڈی نے 100 میں سے صرف 45 فیصد ہم آہنگی اسکور کیا جو مضبوط مانیٹرنگ، رپورٹنگ اور ویریفکیشن (ایم آر وی) سسٹمز کی ضرورت کو واضح کرتا ہے۔ انہوں نے اپنی تجاویز میں سول سوسائٹی کی زیر قیادت “ایم ڈی بی سکور کارڈز”، ملٹی اسٹیک ہولڈر ورکنگ گروپس اور آرٹیکل 6 کاربن مارکیٹ تیاری کی ایڈوکیسی پر زور دیا۔

نیپرا کی کمپیٹیٹو ٹریڈنگ بائیلٹرل کانڑیکٹس مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) کے تحت شمسی توانائی کے فروغ میں حائل رکاوٹوں اور مواقع کے موضوع پر ہونے والے سیشن میں ماہر معیشت و توانائی ڈاکٹر عافیہ ملک، قرۃ العین چیمہ (سی ای او، جی ای این II) اور عامر عمران (مینجر کمپلائنس اینڈ سسٹین ایبلٹی، کوہ نور ٹیکسٹائل ملز) نے یوز آف سسٹم چارجز (یو او ایس سی) اور پاور پرچیز ایگریمنٹس (پی پی اے) میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بہتری کے لئے تجاویز پیش کیں۔ عامر عمران نے کوہ نور ٹیکسٹائل کی کیس سٹڈی کے تناظر میں یورپی یونین کے لئے برآمدات پر عائد “کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکنزم” کے حوالے سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتی اداروں (ایس ایم ایز) کو شمسی توانائی پر منتقل ہو کر کاربن کے اخراج میں کمی کے حوالے سے درپیش مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ سرمائے کی قلت، تکنیکی و مالیاتی تعاون کی عدم موجودگی جیسے مسائل سے نمٹنے کے لئے بڑے صنعتی گروپس کے ساتھ ساتھ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بھی ایس ایم ایز کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔

صنعتوں میں کاربن کے اخراج میں کمی کے لئے کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں (ایم ڈی بی) کی ترجیحات سے متعلق سیشن میں ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک پالیسی ایڈوائزر زبیر فیصل عباسی نے تحقیقی مطالعہ کی تعریف کرتے ہوئے مائیکرو لیول سروے اور انرجی ٹرانزیشن میں بحالی انصاف پر زور دیا۔ انہوں نے ایم ڈی بی کی نیو لبرل اپروچ پر تنقید کرتے ہوئے اسے زیادہ منصفانہ بنانےکو بھی ضروری قرار دیا۔ ڈیبٹ اینڈ ڈویلپمنٹ ایکسپرٹ عبدالخالق نے کہا کہ 70 فیصد موسمیاتی فنانسنگ قرضوں کی شکل میں آتی ہے جس سے گلوبل ساؤتھ کے ممالک پر قرضوں کا بوجھ ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹری ڈیبٹ آڈٹ کمیشن قائم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے “موسمیاتی فنانس” کو “موسمیاتی انصاف” کہنے پر زور دیا۔ ماہر معیشت و توانائی ڈاکٹر عافیہ ملک نے کہا کہ ایم ڈی بی کی پالیسیاں پاکستان کی زمینی حقیقتوں سے مطابقت نہیں رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر قرضے مختلف شکلوں میں دوبارہ قرض دینے والے مالیاتی اداروں یا ممالک کے پاس واپس چلے جاتے ہیں۔ سماجی محقق اور اے این پی کے کلچرل سیکرٹری ڈاکٹر خادم حسین نے ضرورت سے زیادہ پیداوار، بین الاصوبائی عدم مساوات اور اشرافیہ کو دی جانے والے سبسڈیز پر تنقید کرتے ہوئے ان مسائل کے حل پر زور دیا اور کہا کہ اس سلسلے میں عوامی زبان میں بات کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک آگاہی پہنچائی جا سکے۔ سیشن کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ورلڈ بنک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک جیسے عالمی مالیاتی ادارے بھی روائتی بنکوں کی طرح صرف انہی منصوبوں کے لئے قرض فراہم کرتے ہیں جو ان کے لیے سب سے زیادہ منافع بخش ہوں۔

اے ڈی ایس کے سی ای او امجد نذیر نے سیمینار کے اختتام پر شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان کے توانائی بحران کو سیاق و سباق میں رکھتے ہوئے مربوط پالیسیاں تشکیل دینے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سیمینار میں پیش کئے گئے تحقیقی مطالعے کاربن کے اخراج میں کمی کے لئے کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں کی پالیسیوں میں بہتری کے لئے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے “ڈیبٹ جسٹس” کو موسمیاتی ایکشن کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں قرضوں سے بڑھ کر گرانٹس کے لئے ایڈوکیسی کرنی چاہیے تاکہ پاکستان کے 2 ارب ڈالر ماہانہ بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے موجودہ بوجھ میں مزید اضافہ نہ ہو۔
