پنجاب کے سرکاری محکموں میں شفافیت اور گڈ گورننس کو فروغ دینے کے لئے پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013ء کو نافذ ہوئے 12 سال کا عرصہ ہو چکا ہے۔ اس عرصے کے دوران سرکاری محکموں کی طرف سے شہریوں کو معلومات تک رسائی میں بہتری کی بجائے بتدریج تنزلی میں اضافہ ہوا ہے۔ علاوہ ازیں اس قانون پر عملدرآمد یقینی بنانے اور شہریوں کو معلومات تک رسائی میں رکاوٹ بننے والے سرکاری افسران کے خلاف کاروائی کے لئے بنائے گئے پنجاب انفارمیشن کمیشن کی کارکردگی بھی بہتر ہونے کی بجائے بدتر سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے سال 2025 کو اس قانون کے نفاذ سے ابتک کا بدترین سال قرار دیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ مارچ 2025 میں سابق بیوروکریٹ محمد مالک بھلہ کے چیف انفارمیشن کمشنر بننے کے بعد سے ادارے میں جو بدانتظامی رائج ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پنجاب انفارمیشن کمیشن کی جانب سے نہ تو شہریوں کی طرف سے دائر کردہ اپیلوں پر سماعت ہو رہی ہے اور نہ ہی نئی اپیلوں کو کیس نمبر الاٹ کئے جا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں پی آئی سی سے معلومات کی فراہمی کے لئے جمع کروائی جانے والی آر ٹی آئی درخواستوں پر بھی ادارہ کوئی جواب دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ علاوہ ازیں سرکاری محکموں کی طرف سے معلومات کی فراہمی میں جعلسازی اور غلط معلومات کی فراہمی سے متعلق نشاندہی پر بھی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے۔
اس حوالے سے میں یہاں اپنا ذاتی تجربہ شیئر کرنا چاہوں گا کہ اس وقت میری 11 اپیلز ایسی ہیں جن کو فائل ہوئے کئی ماہ گزر چکے ہیں لیکن بار بار ریمائنڈر بھیجنے کے باوجود ان کو اپیل نمبر ہی الاٹ نہیں کئے گئے چہ جائیکہ کہ ان پر متعلقہ محکموں کے خلاف قانونی کاروائی کی جاتی اور انہیں معلومات کی عدم فراہمی پر جوابدہ بنایا جاتا۔ علاوہ ازیں میری 57 اپیلز اس کے علاوہ پنجاب انفارمیشن کمیشن میں سالہا سال سے زیر سماعت ہیں جن سے متعلق بھی بار بار ریمائنڈر بھیجنے کے باوجود کمیشن کی طرف سے تاحال نہ تو معلومات کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے اور نہ ہی متعلقہ سرکاری محکموں اور حکام کو جرمانہ یا کوئی سزا دی گئی ہے۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ میں اس حوالے سے دو مرتبہ فیصل آباد سے خود پنجاب انفارمیشن کمیشن کے دفتر لاہور کا چکر لگا چکا ہوں لیکن میری ان اپیلز پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ حتی کہ چیف انفارمیشن کمشنر محمد مالک بھلہ نے دفتر میں موجود ہونے کے باوجود میری درخواست پر مجھے ملاقات کا وقت نہیں دیا اور نہ ہی بعدازاں میری طرف سے ان کے ذاتی موبائل نمبر پر کئے گئے واٹس ایپ پیغامات کا کوئی جواب دیا گیا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب انفارمیشن کمیشن مکمل طور پر غیر فعال ہو چکا ہے اور اس کے افسران و عملے کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات پر خرچ ہونے والے پنجاب کے ٹیکس دہندگان کے کروڑوں روپے ضائع جا رہے ہیں۔ پنجاب کے موجودہ چیف انفارمیشن کمشنر معلومات تک رسائی کے اس قانون کو اس کی حقیقی روح کے مطابق نافذ کرنے میں کس حد تک رکاوٹ ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ادارے کا عملہ خود ان کے روئیے سے شاکی ہے اور اس دور کو یاد کرتا ہے جب پنجاب انفارمیشن کمیشن کے پہلے چیف انفارمیشن کمشنر مختار احمد علی اس منصب پر فائز تھے اور معلومات تک رسائی کے قانون پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جاتی تھی۔ اسی طرح موجودہ چیف انفارمیشن کمیشن سے پہلے اس منصب پر فائز رہنے والے محبوب قادر شاہ نے بھی اپنے دور میں معلومات تک رسائی کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے حتی المقدور کوشش کی اور اس حوالے سے قانون کے موثر نفاذ کے لئے ضلع کی سطح پر بھی آر ٹی آئی مراکز قائم کئے۔ علاوہ ازیں گزشتہ سال ریٹائر ہونے والے انفارمیشن کمشنر شوکت علی نے بھی اپنی ٹرم کے آخری دن تک اس حوالے سے سرگرم کردار ادا کیا۔ تاہم موجودہ چیف انفارمیشن کمیشن کے روئیے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں صرف اس عہدے سے حاصل ہونے والی مراعات اور بھاری تنخواہ کے علاوہ کسی بات سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ یہ صورتحال ناصرف ایک اہم ادارے کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے بلکہ اس سے معلومات تک رسائی کو یقینی بنا کر گڈگورننس اور شفافیت کو فروغ دینے کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔
ان حالات میں اگر فوری طور پر اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو پنجاب انفارمیشن کمیشن اور پنجاب میں نافذ معلومات تک رسائی کا قانون دونوں غیر متعلق ہونے کا خطرہ ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب انفارمیشن کمیشن میں انتظامی جوابدہی، شفاف قیادت اور حق اطلاعات قانون کو اس کی حقیقی روح میں نافذ کرنے کے لیے تجدید عہد کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013ء میں کیا گیا معلومات تک رسائی اور شفافیت کا وعدہ پورا نہیں ہو گا بلکہ اس سے حکومت اور جمہوریت پر شہریوں کا اعتماد مزید کم ہو گا۔
