
فیصل آباد: موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے اور مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیےپنجاب کی دیہی آبادی میں قابل تجدید اور مقامی توانائی کے ذرائع کو فروغ دینے کے لئے پنجاب بائیو انرجی انسٹی ٹیوٹ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے یونیورسٹی کے پروکہ فارم پر بائیو گیس کا نمائشی پلانٹ قائم کیا ہے۔ یہ پلانٹ بالخصوص دیہات کے لیے تیار کیا گیا ہے جو 35 گھروں کو گیس کی فراہمی کے ساتھ ساتھ 6 ٹیوب ویل چلانے کی استعداد رکھتا ہے۔ بائیو گیس پلانٹ کا افتتاح پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کیا۔ وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی، پیر مہر علی شاہ بارانی ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمرالزمان، ڈائریکٹر پنجاب بائیوانرجی انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹر محمد نوید اور ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد رضوان تبسم، ڈائریکٹر ریسرچ ڈاکٹر راؤ زاہد عباس، ڈاکٹر محمد اسلم، ڈاکٹر زین العابدین و دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ ملک کو قابلِ تجدید اور گرین انرجی کے ذرائع کی طرف منتقل ہونا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بائیو گیس ٹیکنالوجی ایک ماحول دوست اور کم لاگت حل ہے جو توانائی کے بحران پر قابو پانے، دیہی زندگی کو بہتر بنانے اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ بائیو گیس پلانٹ زرعی یونیورسٹی کے جدت، پائیداری اور کمیونٹی سروس کے عزم کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی نہ صرف زرعی شعبے کو درپیش مسائل حل کرنے کے لئے قابل گریجویٹس تیار کر رہی ہے بلکہ ایسی عملی ٹیکنالوجیز کو بھی فروغ دے رہی ہے جو ماحول دوست اور کسانوں کی معاون ہونے کے ساتھ ساتھ فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے اہم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ زرعی فضلہ اور مویشیوں کے گوبر کو بائیو گیس ٹیکنالوجی کے ذریعے صاف توانائی، کھاد اور معاشی مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر قمرالزمان نے کہا کہ اس نوعیت کے منصوبے پاکستان بھر کی جامعات کے لیے ایک مثالی ماڈل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کو قابلِ تجدید توانائی کے ساتھ مربوط کرنا پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر محمد نوید نے کہا کہ پاکستان میں بائیو گیس توانائی کے وسیع امکانات موجود ہیں خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں مویشی وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد رضوان تبسم نے کہا کہ یہ بائیو گیس پلانٹ ٹیکنالوجی کے فروغ کے ساتھ ساتھ تحقیق و ترقی کے لیے بھی استعمال ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ گرین انوویشن، ماحولیاتی اقدامات اور پائیدار ترقی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
