اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی طرف سے سولر انرجی پر منتقل ہونے والے صارفین کی جانب سے نیشنل گرڈ میں فراہم کی جانے والی اضافی بجلی کے معاوضے کی شرح میں کی گئی نمایاں کمی پر ماہرین نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ نئے قوانین کے تحت 2015 کے نیٹ میٹرنگ رولز کو تبدیل کرکے گراس میٹرنگ کا نظام متعارف کروایا جا رہا ہے جس کا مقصد صارفین کو اپنے منظور شدہ بجلی کے لوڈ کے اندر سولر پینل لگانے تک محدود رکھنا ہے۔ اس پالیسی کے تحت مجوزہ قوانین نیٹ میٹرنگ کے موجودہ صارفین پر معاہدے کی سات سال کی مدت مکمل ہونے کے بعد لاگو ہوں گے۔ علاوہ ازیں نئی پالیسی کے تحت سولر صارفین سے سرپلس یونٹس تقریباً 11 روپے فی یونٹ کی نیشنل انرجی پرچیز پرائس پر خریدے جائیں گے جو کہ موجودہ ریٹ 27 روپے فی یونٹ کے مقابلے میں 50 فیصد سے بھی زیادہ کم ہے۔
پاکستان میں کلین انرجی کو فروغ دینے کے لئے کام کرنے والے پالیسی تھنک ٹینک اور ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آلٹرنیٹ ڈویلپمنٹ سروسز (اے ڈی ایس) کے سی ای او امجد نذیر نے کہا ہے کہ گراس میٹرنگ کا نظام نافذ کرنے سے سولر انرجی پر منتقل ہو کر نیٹ میٹرنگ کا حصہ بننے والے صنعتی، کمرشل اور گھریلو صارفین کو حاصل ہونے والے فوائد ختم ہو جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس پالیسی کا بنیادی مقصد صنعتی، کمرشل اور گھریلو صارفین کو دوبارہ نیشنل گرڈ پر لانا ہے لیکن اندیشہ یہ ہے کہ اس پالیسی کی وجہ سے زیادہ تر صارفین مکمل طور پر آف گرڈ ہو جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیٹ میٹرنگ میں ایک میٹر لگتا ہے جس کے ذریعے صارفین نیشنل گرڈ کو بجلی دے بھی رہے ہوتے ہیں اور نیشنل گرڈ سے بجلی لے بھی رہے ہوتے ہیں لیکن گراس میٹرنگ میں دو میٹر لگیں گے جس کے تحت سولر پینل لگانے والے صارفین پہلے نیشنل گرڈ کو بجلی دیں گے اور پھر نیپرا کی نئی شرائط پر نیشنل گرڈ سے بجلی واپس لیں گے جس سے لاگت بڑھ جائے گی اور صارفین کو ملنے والا فائدہ کم ہو جائے گا جس کی بنا پر صارفین مکمل طور پر آف گرڈ جانے کو ترجیح دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو درپیش موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے فوسل فیول پر انحصار کم کرنے اور برآمدی مسابقت بڑھا کر صنعتی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے فوری اصلاحات ضروری ہیں۔ امجد نذیر کے مطابق ورلڈ بنک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک جیسے عالمی مالیاتی ادارے بھی روائتی بنکوں کی طرح صرف انہی منصوبوں کے لئے قرض فراہم کرتے ہیں جو ان کے لیے سب سے زیادہ منافع بخش ہوں۔ انہوں نے عالمی مالیاتی اداروں کی فنانسنگ کو قومی ترجیحات سے ہم آہنگ کرنے، ٹیکسٹائل سیکٹر میں شمسی توانائی اپنانے کے رجحان کو فروغ دینے اور موسمیاتی انصاف کے تحت ملک پر قرضوں کا مزید بوجھ ڈالنے سے بچنے کے لیے قرضوں سے نجات اور رعایتی فنانسنگ کے لئے کام کرنے پر زور دیا تاکہ پاکستان کے دو ارب ڈالر ماہانہ بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے موجودہ بوجھ میں مزید اضافہ نہ ہو۔
علاوہ ازیں نیپرا کی کمپیٹیٹو ٹریڈنگ بائیلٹرل کانڑیکٹس مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) کے حوالے سے ماہر معیشت و توانائی ڈاکٹر عافیہ ملک ودیگر ماہرین نے پالیسی میں سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کے لئے زیادہ مواقع پیدا کرنے پر زور دیا۔ ماہرین نے یورپی یونین کے لئے برآمدات پر عائد “کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکنزم” کے حوالے سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتی اداروں (ایس ایم ایز) کو شمسی توانائی پر منتقل ہو کر کاربن کے اخراج میں کمی کے حوالے سے درپیش مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرمائے کی قلت، تکنیکی و مالیاتی تعاون کی عدم موجودگی جیسے مسائل سے نمٹنے کے لئے بڑے صنعتی گروپس کے ساتھ ساتھ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بھی ایس ایم ایز کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ انرجی سسٹم ان انجینئرنگ، یو ایس پی کیس کے سربراہ ڈاکٹر علی عباس کاظمی کی سربراہی میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان اپنی ضرورت کی 87 فیصد بجلی قابل تجدید ذرائع سے حاصل کر سکتا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق صنعتوں کی شمسی توانائی پر منتقلی سے کاربن کے اخراج میں سالانہ 1.6 سے 1.76 ارب کلو گرام کمی ممکن ہے جو کہ یورپی یونین میں برآمدات کو جاری رکھنے کے لئے کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم (سی بی اے ایم) کی تعمیل کے لیے اہم ہے۔ اس سلسلے میں پیش کی گئی سفارشات میں ٹائرڈ ویلنگ چارجز، سولر پلس سٹوریج انسینٹوز اور گرین مارکیٹ سٹیبلائزیشن فنڈز کے قیام پر زور دیا گیا ہے۔
