جس معاشرے میں کرپشن، چور بازاری اور رشوت خوری سکہ رائج الوقت بن چکی ہو وہاں آپ کو ہر سرکاری محکمے میں قدم قدم پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے اسٹنٹ ڈائریکٹر سرفراز چوہدری جیسے کردار نظر آئیں گے۔ سائبر کرائمز کی تفتیش کے لئے حال ہی میں قائم کی گئی اس پرائم ایجنسی کے ایک افسر پر لگنے والے الزامات کو شاید اس ملک کے عوام چند ہفتوں یا مہینوں بعد بھول جاتے لیکن سعدالرحمان المعروف ڈکی بھائی نے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی داستان کو ویڈیو میں بیان کرکے اس کردار کی اصلیت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تاریخ کے سینے میں محفوظ کر دیا ہے۔
یہ کیسا دلچسپ اتفاق ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک طرف رشوت خور افسر کی کرپشن، رشوت خوری اور لاقانونیت کی داستان گردش کر رہی ہے اور دوسری طرف اسی سوشل میڈیا پر ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت خاکروب کی ملازمت کرنے والی نصرت بی بی کی ایمانداری کے چرچے ہیں۔ ایک طرف وہ کرپٹ افسر ہے جس کی اعلی تعلیم، بڑا عہدہ، سرکاری مراعات اور اچھی تنخواہ بھی اسے حرام کھانے سے نہ روک سکی اور دوسری طرف خاکروب کی ملازمت کرنے والی وہ بلند کردار عورت ہے جس نے غربت کے اندھیروں کو بھی اپنی دیانت داری کے سامنے سر نہیں اٹھانے دیا۔
مملکت خداداد کے سرکاری محکموں میں موجود کالی بھیڑوں کی کرپشن، رشوت خوری اور لاقانونیت کا یہ کوئی پہلا یا آخری واقعہ نہیں ہے۔ ایسے ناسور ہر سرکاری محکمے میں بیٹھے ہیں جن سے عام شہریوں سے لے کر بڑے بڑے بااثر افراد تک عاجز ہیں لیکن کم ہی لوگ ایسے ہیں جو اس مافیا کے سامنے کھڑا ہونے یا آواز اٹھانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ایسے میں ڈکی بھائی نے اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے ظلم پر لب کشائی کرکے جوہڑ میں تبدیل ہوتے اس معاشرے کے تالاب میں امید کی جو لہر پیدا کی ہے اسے مزید توانا بنانے کی ضرورت ہے۔ سرکاری محکموں میں بیٹھے کرپٹ عناصر کی رشوت ستانی اور لاقانونیت کا شکار بننے والا ہر شہری اگر ان کالی بھیڑوں کو اسی طرح بے نقاب کرنے کا حوصلہ کر لے تو ان کی اندھیر نگری کا راج چوپٹ کرنا اتنا بھی مشکل نہیں ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ سرکاری محکموں میں موجود فرض شناس، محنتی اور کچھ کرنے کے متمنی عناصر کو بھی چاہیے کہ وہ کسی محفوظ گوشہ عافیت میں بیٹھ کر ریٹائرمنٹ آنے کا انتظار کرنے کی بجائے ایسے کرپٹ عناصر کی نشاندہی کے لئے وسل بلور کا کرداد ادا کریں تاکہ ان کی لاقانونیت کا گھیرا تنگ کیا جا سکے۔ صحافت کا ڈھول گلے میں ڈال کر اس طرح کے کرپٹ عناصر کے پبلسٹی آفیسر کا کردار ادا کرنے والے یوٹیومرز اور وی لاگرز کا محاسبہ بھی ضروری ہے.اس کے لئے سب سے پہلے دیانتداری کے ساتھ صحافت کرنے والے صحافیوں کو ہی آواز بلند کرنی پڑے گی تاکہ اس طرح کے بے ضمیر عناصر صحافت اور سچ کے نام پر عوام کو گمراہ نہ کر سکیں.
ہمیں اپنے معاشرے کے ان مصنوعی معیارات کو بھی چیلنج کرنا ہو گا جن کے مطابق عزت کا اصل معیار بڑا عہدہ، دولت اور اثر ورسوخ بن چکا ہے۔ اگر ہم نصرت بی بی جیسے دیانت دار اور محنت کش افراد کو حقیقی عزت دینا شروع کر دیں اور سرفراز چوہدری جیسے کرداروں کو معاشرتی نفرت کا سامنا کرنا پڑے تو شاید کرپٹ عناصر خود ہی حرام کھانے سے توبہ کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ اگر ہمیں دنیا کی مہذب اور ترقی یافتہ قوم میں شامل ہونا ہے تو ہمیں اپنے معاشرے کے ہیروز بدلنے ہوں گے۔ دیانت اور فرض شناسی کا مظاہرہ کرنے والے چھوٹے سے چھوٹے اہلکار کو بھی سر آنکھوں پر بٹھانا ہو گا اور کرپشن و لاقانونیت کا مظاہرہ کرنے والے بڑے سے بڑے عہدیدار کو بھی جوابدہ بنانے کے ساتھ ساتھ ان کے چہروں پر سماجی نفرت کی مہر ثبت کرنا ہو گی، تب ہی حقیقت میں پاکستان تبدیل ہوگا.
