لاہور میں 25 سال بعد بسنت کی واپسی: پنجاب میں ثقافتی سرگرمیوں کی بحالی کے لئے ایک اہم پیشرفت

لاہور میں 25 سال کے طویل وقفے کے بعد بسنت کی بحالی محض ایک تہوار کی واپسی نہیں ہے بلکہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کا یہ اقدام صوبے کی ثقافتی شناخت کو اجاگر کرنے کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے۔
بسنت کا تہوار صدیوں سے پنجاب کی اجتماعی خوشیوں، رنگوں، موسیقی اور سماجی ہم آہنگی کا مظہر رہا ہے۔ اس کی بحالی اس بات کا اظہار ہے کہ معاشرہ اب ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے ثقافت کو محفوظ اور ذمہ دارانہ انداز میں زندہ کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔
ماضی میں بسنت پر پابندی کے باعث پنجاب میں سردیوں کے آخری دنوں میں چھتوں پر اکٹھے ہو کر پتنگ اڑانے کے ساتھ ساتھ دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ موسیقی، کھانوں اور گپ شپ سے لطف اندوز ہونے کی روایت دم توڑ چکی تھی۔ بسنت کی واپسی نہ صرف لوگوں کو ایک بار پھر اکٹھا ہونے کا موقع فراہم کرے گی بلکہ سماجی تناؤ، مایوسی اور تنہائی کے شکار معاشرے میں خوشی اور امید کا پیغام بھی دے گی۔
یہ تہوار سیاحت کے فروغ کے لئے بھی اہم ہے کیونکہ لاہور پہلے ہی اپنی تاریخی عمارتوں، کھانوں کے روائتی مراکز اور قدیم تہذیب کا امین ہونے کے باعث سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ ایسے میں اندرون لاہور کے گھروں کی چھتوں پر بسنت منانے کا موقع مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کی لاہور آمد کے لئے مزید کشش کا باعث ثابت ہو گا۔
اس طرح کے تہوار ناصرف معاشرے میں خوشیاں، ہم آہنگی اور برداشت کے فروغ کا باعث بنتے ہیں بلکہ اس سے معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملتا ہے۔ معاشی ماہرین کے اندازوں کے مطابق لاہور میں تین روزہ بسنت کے دوران تین سے چار ارب روپے کی معاشی سرگرمیاں ہونے کی امید ہے۔
بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں اور دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے پتنگ بازی کے شوقین افراد کی بڑی تعداد میں آمد کی وجہ سے لاہور کے تمام ہوٹل، گیسٹ ہاوس اور ایئر بی این بی کی بکنگ فل ہو چکی ہے۔
اس موقع پر ریسٹورنٹس، بیکریز اور اسٹریٹ فوڈ وینڈرز کو بھی زبردست کاروبار ہونے کی امید ہے اور سب سے بڑھ کر پتنگ سازی اور ڈور بنانے والے طبقے کو طویل عرصے بعد روزگار کمانے کا اچھا موقع میسر آیا ہے۔
ان حالات میں بسنت کی کامیابی صرف حکومت یا انتظامیہ کی کوششوں پر منحصر نہیں ہے بلکہ اس میں شہریوں کا کردار سب سے اہم ہے۔ اس سلسلے میں شہریوں کو چاہیے کہ بسنت کے دوران پتنگ بازی کے لئے بنائے گئے قوائد و ضوابط کا احترام کریں اور بالخصوص ممنوع ڈور سے پتنگ اڑا کر کسی کی زندگی کو خطرے میں نہ ڈالیں۔
اس طرح بسنت کا تہوار خوشیوں کے ساتھ ساتھ محفوظ، منظم اور معاشرتی لحاظ سے ذمہ داری کے احساس پر مبنی مثبت تفریح اور ثقافتی شناخت کے فروغ کا ذریعہ بن سکے گا۔
بسنت کی بحالی کا اقدام اس سوچ کا عکاس ہے کہ خوشیاں بھی ایک اجتماعی ضرورت ہیں۔اگر تہوار محفوظ، منظم اور ذمہ داری کے ساتھ منائے جائیں تو وہ نہ صرف ثقافت کو زندہ رکھتے ہیں بلکہ معیشت، سیاحت اور سماجی ہم آہنگی کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔

Author

  • نعیم احمد ایک تحقیقاتی صحافی ہیں جو سماجی مسائل پر لکھنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں خاص طور پر پسماندہ طبقات کے حقوق کی وکالت پر زور دیتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں