فیڈمک کا لیزنگ ماڈل برآمدی صنعتوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گا، پی ایچ ایم اے

فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی (فیڈمک) کی جانب سے صنعتی پلاٹس لیزنگ ماڈل کے تحت الاٹ کرنے کی تجویز برآمد کنندگان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گی اور اس سے صنعتی ترقی کا عمل سست پڑنے کا اندیشہ ہے۔ یہ بات پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نارتھ زون کے سینئر نائب چیئرمین احمد افضل اعوان نے کہی ہے۔ انہوں نے پنجاب حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ مجوزہ منصوبے پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے ملکیتی بنیادوں پر پلاٹس کی الاٹمنٹ کا نظام برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ صنعتی پلاٹس کی قیمتوں میں اضافہ برآمدی صنعتوں کے لئے ہرگز قابل قبول نہیں ہو گا کیونکہ فیڈمک کے صنعتی زونز میں پلاٹس کی قیمتیں پہلے ہی بہت زیادہ ہیں اور ان میں مزید اضافہ سرمایہ کاروں پر اضافی مالی بوجھ ڈالے گا جس سے صنعتی توسیع اور نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے گزشتہ دورۂ فیصل آباد کے دوران یقین دہانی کروائی تھی کہ صنعتی ترقی اور برآمدات کے فروغ کے لیے یہ پلاٹس برآمد کنندگان کو مفت فراہم کیے جائیں گے اس لئے اب وہ اپنا وعدہ پورا کریں۔ انہوں نے کہا کہ لیزنگ ماڈل کے نفاذ سے غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کی حوصلہ شکنی ہو گی کیونکہ برآمدکنندگان کو پہلے ہی مہنگی توانائی، سرمائے کی قلت اور سخت عالمی مسابقت کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ برآمد کنندگان کو بڑی سرمایہ کاری، جدید مشینری کی تنصیب، انفراسٹرکچر کی بہتری اور بین الاقوامی معیار کی تعمیل کے لیے ملکیت کا تحفظ اور طویل مدتی استحکام درکار ہوتا ہے۔ احمد افضل اعوان کے مطابق صنعتی ملکیت کو محدود کرنے والی کوئی بھی پالیسی برآمدی حجم، روزگار اور زرمبادلہ کی آمدنی پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ افسر شاہی کے اس طرح کے اقدامات سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائیں گے اور برآمد کنندگان اپنے یونٹس محدود کرنے یا منتقل کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پالیسی میں تسلسل، کاروبار میں آسانی اور سرمایہ کار دوست فیصلے معاشی بحالی کے لیے ناگزیر ہیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں