بھارت اور یورپی یونین کے مابین فری ٹریڈ ایگریمنٹ، پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کو نقصان کا اندیشہ

فیصل آباد: بھارت اور یورپی یونین کے مابین فری ٹریڈ ایگریمنٹ سے یورپ میں پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ہوزری برآمدات میں کمی کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔ پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (نارتھ زون) کے سینئر وائس چیئرمین احمد افضل اعوان نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یورپی یونین میں پاکستان کے برآمدی مفادات کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات کریں۔ واضح رہے کہ یورپ میں اس وقت پاکستان کو جی ایس پی پلس سکیم کے تحت ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہے لیکن اگر بھارت ایف ٹی اے کے ذریعے اس نوعیت کی ٹیرف رعایتیں حاصل کر لیتا ہے تو پاکستانی ایکسپورٹرز کو بھارت سے مسابقت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس 27 بین الاقوامی کنونشنز پر سختی سے عمل درآمد سے مشروط ہے جن میں انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیات اور گورننس شامل ہیں جس سے برآمد کنندگان کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس بھارت کو فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی بدولت ایسی مسلسل اور سخت تعمیلی ذمہ داریوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ احمد افضل اعوان کے مطابق صرف ٹیرف میں برابری مسابقت کی ضمانت نہیں دیتی کیونکہ پاکستان میں پیداواری لاگت پہلے ہی زیادہ ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بھارت کو سستی توانائی، کم مالیاتی لاگت، بڑے پیمانے پر پیداوار، مربوط سپلائی چین اور بہتر لاجسٹکس کی سہولت حاصل ہے جس کے باعث بھارتی برآمد کنندگان یورپی منڈی میں اپنی مصنوعات پاکستانی مصنوعات سے کم قیمت پر فروخت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ماضی میں امریکا کی جانب سے عائد کیے گئے ٹیرف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے برآمد کنندگان کو ساختی کمزوریوں اور بروقت پالیسی سپورٹ کی کمی کے باعث پہلے ہی نقصان کا سامنا ہے۔ انہوں نے خبر دار کیا کہ اگر بھارت اور یورپی یونین کے فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے معاملے پر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کی صنعتی اور برآمدی ترقی مزید کمزور ہو سکتی ہے اس لئے حکومت کی فوری اور فیصلہ کن مداخلت ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی برآمدکنندگان سے ایڈوانس ٹیکس کے علاوہ برآمدی زرمبادلہ کی وصولی پر 2.5 فیصد ٹیکس بھی کاٹا جاتا ہے جبکہ بھارت اپنے برآمدکنندگان کو کم ٹیکس اور سالانہ برآمدی نمو سے منسلک کارکردگی پر بھی مراعات فراہم کرتا ہے۔ احمد افضل اعوان نے پاکستان کے برآمدی شعبے کی طویل المدت پائیداری اور مسابقت کو یقینی بنانے کے لیے ایکسپورٹ فرینڈلی پالیسی سازی اور مالیاتی اصلاحات کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں