راجہ نادر پرویز خان: مشکل حالات سے ہار نہ ماننے والے ایک بہادر فوجی اور غیر روائتی سیاستدان

ایک بے خوف، بہادر فوجی اور غیر روائتی سیاستدان کی پہچان رکھنے والے سابق وفاقی وزیر راجہ نادر پرویز خان برٹش دور سے فوجی بھرتی کے لئے مقبول علاقوں میں سے ایک گوجر خان کے علاقے مندرہ میں 11 نومبر 1942 کو پیدا ہوئے اور ان کی وفات 21 جنوری 2026 کو راولپنڈی میں ہوئی۔
اپنی زندگی کے آخری ایام میں وہ دوبارہ سے اسی ماحول کا حصہ بن چکے تھے جہاں سے انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ ان کے جنازے میں بہت سے ایسے افراد شامل تھے جو کبھی فوج میں ان کے ہمسفر رہے یا ان کی بہادری کے قصے سن کر فوج میں شامل ہوئے تھے۔
ان کی سیاسی جنم بھومی فیصل آباد میں بھی ان کی وفات پر لوگوں کی بڑی تعداد انہیں یاد کرتی نظر آئی۔ ان کے عقیدت مندوں نے جہاں ان کی سیاسی کامیابیوں اور بے لاگ انداز سیاست کو یاد کیا وہیں فوج اور سیاست میں ان کی بے مثال کامیابیوں کے باوجود دونوں شعبوں میں ان کے کیرئیر کا غیر متوقع اختتام بھی گفتگو کا موضوع رہا۔

فوجی کیرئیر کے آغاز پر ہی 1965ء کی جنگ کے دوران انہوں نے ایک بازو فریکچر ہونے کے باوجود رن آف کچھ کے محاذ پر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے جانے پر اپنے کمانڈنگ افسر سے ضد کی اور 1971ء میں بھی مشرقی پاکستان کے محاذ پر جنرل نیازی کی طرف سے ہتھیار ڈالنے کی دستاویز پر دستخط کے اگلے روز بھی وہ اپنے مورچے میں ڈٹے ہوئے تھے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ارض وطن سے محبت اور جرات و بہادری ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور اس پر فوج کا ڈسپلن یا سینئر کے ہر حکم پر یس سر کہنے کی تربیت بھی حاوی نہیں ہو سکی تھی۔
سقوط ڈھاکہ کے بعد جب دیگر ہزاروں فوجیوں کے ہمراہ انہیں بھی انڈیا کا جنگی قیدی بننا پڑا تب بھی انہوں نے حالات سے ہار نہیں مانی بلکہ اپنی بے خوف طبعیت اور بہادری کے سبب اپنے کزن طارق پرویز اور تین دیگر ساتھیوں کے ہمراہ انڈیا کی فتح پور جیل سے سرنگ کھود کر فرار ہونے کے بعد پاکستان واپس پہنچے میں کامیاب رہے۔
اس وقت ان کی شہرت کا سورج نصف النہار پر تھا اور وہ ان چند گنے چنے فوجی افسران میں شامل تھے جنہیں بے مثال بہادری پر افواج پاکستان کی طرف سے دو مرتبہ ستارہ جرات سے نواز گیا تھا۔

ایک ایسے وقت میں جب یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ وہ لازمی طور پر اپنے فوجی کیرئیر میں بہت ترقی کریں گے تب غیر متوقع طور پر پہلے انہیں سابق مشرقی پاکستان کے سب ڈویژن برگوآنہ میں قتل عام کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا جس سے وہ باعزت بری ہو گئے لیکن پھر 1974 میں انہیں ذوالفقار علی بھٹو کی سویلین حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑا۔
جس فوجی عدالت نے انہیں سزا سنائی اس کی سربراہی اس وقت کے میجر جنرل ضیا الحق کر رہے تھے جو اس کیس کے بعد وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی خوشنودی حاصل کرکے سینیارٹی میں آٹھویں نمبر پر ہونے کے باوجود پہلے آرمی چیف بنے اور پھر اسی سویلین حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قابض ہو گئے جس کے خلاف سازش کرنے کے الزام میں انہوں نے راجہ نادر پرویز کو سزا سنائی تھی۔
راجہ نادر پرویز خان کے اپنے الفاظ ہیں کہ کورٹ مارشل کی پوری کاروائی کے دوران ضیا الحق نے اپنے روئیے سے کبھی یہ ظاہر نہیں ہونے دیا تھا کہ وہ انہیں سزا سنانے والے ہیں بلکہ وہ بتاتے تھے کہ جس دن انہیں ان کے “ناکردہ” گناہوں کی سزا سنائی گئی اس سے ایک روز پہلے بھی فوجی عدالت میں ان کی پیسٹریز، سینڈوچز، بسکٹس اور چائے سے تواضع کی گئی اور ضیا الحق بڑی محبت کے ساتھ ان سے گلے ملے تھے۔
اقتدار سنبھالنے کے بعد اگرچہ ضیا الحق نے راجہ نادر پرویز کی سزا معاف کر دی تھی تاہم اس سے ان کا فوجی کیرئیر دوبارہ بحال نہ ہو سکا۔
راجہ نادر پرویز خان نے جس طرح کے کارنامے اپنی عسکری زندگی میں انجام دیئے تھے اگر وہ کسی اور ملک میں ہوتے تو ان پر فلمیں بنتی، کہانیاں لکھی جاتیں یا انہیں بچوں کے لئے ایک رول ماڈل کے طور پر نصاب میں شامل کیا جاتا لیکن اس کے برعکس ان کا فوجی کیرئیر ایک ایسے اختتام سے دوچار ہوا جس کے وہ کبھی بھی مستحق نہ تھے۔

ان کی جگہ کوئی اور شخص ہوتا تو شاید وہ ان حالات میں مایوس ہو کر باقی زندگی گوشہ نشینی میں گزارنے کو ترجیح دیتا لیکن انہوں نے فوج کی ملازمت کے دوران فیصل آباد میں ملنے والی زرعی اراضی کو آباد کرنے کی غرض سے یہاں مستقل سکونت اختیار کرکے سیاست کے میدان خارزار میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا اور پھر سیاست میں بھی اپنی افتاد طبع کے باعث بے مثال کامیابیاں سمیٹیں۔
راجہ نادر پرویز خان نے پہلی مرتبہ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں فیصل آباد کے این اے 69 سے الیکشن میں حصہ لیا اور اپنے وقت کے مقبول سیاستدان میاں زاہد سرفراز کو 17 ہزار سے زائد ووٹوں کی لیڈ سے شکست دے کر جونیجو حکومت میں وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ امور مقرر ہوئے۔
اس کے بعد 1990ء میں انہوں نے آئی جے آئی کے پلیٹ فارم سے این اے 62 چک جھمرہ کے ضمنی انتخاب میں سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی چھوڑی گئی قومی اسمبلی کی نشست پر بلامقابلہ کامیاب حاصل کی اور نواز شریف کی پہلی حکومت میں واٹر اینڈ پاور کے وفاقی وزیر بنے۔

بعدازاں 1993ء کے عام انتخابات میں وہ دوبارہ اسی حلقے سے پی پی پی کے امیدوار سردار دلدار چیمہ کو کڑے مقابلے میں شکست دینے کے بعد تیسری مرتبہ ایم این اے منتخب ہوئے۔
اسی طرح 1997ء کے عام انتخابات میں بھی انہوں نے اسی حلقے سے پی پی پی کے امیدوار غلام مصطفی باجوہ کے مقابلے میں 35 ہزار سے زائد ووٹوں کے بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کی اور نواز شریف کی دوسری حکومت میں وفاقی وزیر کمیونکیشن رہے۔
انہوں نے اپنا آخری الیکشن پرویز مشرف کے دور میں لڑا جب مسلم لیگ ن کے لئے حالات انتہائی ناگفتہ بہ تھے۔
اس کے باوجود انہوں نے این اے 85 سے کامیابی حاصل کی وہ ان 19 اراکین قومی اسمبلی میں شامل تھے جو مسلم لیگ ن کے انتخابی نشان پر الیکشن جیت کر رکن قومی اسمبلی بننے میں کامیاب ہوئے تھے۔
تاہم سیاست کے میدان میں ان کی کامیابیوں کا یہ تسلسل بھی ان کے فوجی کیرئیر کی طرح غیر متوقع طور پر ایک ایسے ڈرامائی واقعہ سے اختتام پذیر ہو گیا جو شاید اتفاق زمانہ کی وجہ سے رونما ہوا تھا۔

اس بارے میں بتایا جاتا ہے کہ جب مشرف دور میں مسلم لیگ ن کے سربراہ و سابق وزیر اعظم نواز شریف سعودی عرب میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔
انہی دنوں راجہ نادر پرویز کے بیٹے کی شادی کی تقریب میں پرویز مشرف بطور صدر پاکستان شریک ہوئے۔ اس پر سیاسی حلقوں میں سخت حیرانی کا اظہار کیا گیا اور چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔
تاہم راجہ نادر پرویز کے قریبی دوستوں کے مطابق فوج کی ملازمت کے دوران راجہ نادر پرویز اور پرویز مشرف میں دوستانہ مراسم تھے لیکن شادی کی تقریب میں انہیں خصوصی طور پر مدعو نہیں کیا گیا تھا بلکہ جب مہمانوں کی فہرست تیار ہوئی تو بطور صدر پاکستان ان کا نام بھی شامل کر لیا گیا۔ بعدازاں انہیں شادی میں شرکت کے لئے رسمی طور پر دعوت نامہ ضرور بھیجا گیا لیکن شرکت کی کوئی خصوصی درخواست یا یاددہانی نہیں کروائی گئی تھی لیکن وہ شادی میں شرکت کے لئے پہنچ گئے۔
اس واقعہ کو بنیاد بنا کر مسلم لیگ کی مقامی قیادت نے پارٹی میں ان کے خلاف محاذ قائم کر لیا اور 2008ء کے عام انتخابات میں انہیں پارٹی ٹکٹ دینے کی کھل کر مخالفت کی گئی.
اس کے بعد 2013 کے عام انتخابات سے قبل جب عمران خان جلسہ کرنے کے لئے فیصل آباد آئے تو مشترکہ دوستوں کے اصرار پر راجہ نادر پرویز تحریک انصاف میں شامل ہو گئے لیکن انہوں نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔
بعدازاں 2018ء کے عام انتخابات میں ان کے بیٹے راجہ اسد نے این اے 107 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے لیکن پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر وہ بھی خاموشی کے ساتھ سیاست سے کنارہ کش ہو گئے۔
راجہ نادر پرویز خان کی زندگی اس بات کی یاد دہانی کرواتی ہے کہ کس طرح میرٹ اور قربانیاں ہمیشہ زندگی میں انصاف یا تسلسل کی ضمانت نہیں ہوتی ہیں۔ اس کے باوجود ان کی شخصیت کا یہ پہلو اہم ہے کہ انہوں نے فوج اور سیاست میں ہمیشہ نتائج سے بے خوف ہو کر اپنے اصولوں کے مطابق زندگی گزاری۔
یہی وجہ ہے کہ آج انہیں ایک بہادری فوجی اور عزت نفس پر سمجھوتہ نہ کرنے والے سیاستدان کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے جس نے کبھی مشکل حالات سے ہار نہیں مانی تھی.

Author

  • نعیم احمد ایک تحقیقاتی صحافی ہیں جو سماجی مسائل پر لکھنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں خاص طور پر پسماندہ طبقات کے حقوق کی وکالت پر زور دیتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں