پنجاب حکومت کی طرف سے لاہور میں سموگ کے خاتمے اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی کے لئے قابل ذکر اقدامات کئے جا رہے ہیں جس پر وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی تحفظ ماحولیات کی عالمی کانفرنس کوپ-30 میں تحسین بھی کی گئی ہے۔ تاہم فیصل آباد پنجاب کا وہ بدقسمت شہر ہے جہاں ناصرف انسداد سموگ بلکہ تحفظ ماحولیات کے اقدامات بھی زبانی جمع خرچ سے زیادہ نہیں ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ فیصل آباد میں انتظامیہ انسداد سموگ اقدامات پر عملدرآمد کی بجائے خود اس میں اضافے کی بڑی وجہ بنی ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ فیصل آباد میں گزشتہ کئی سال سے جاری سموگ کا مسئلہ تاحال برقرار ہے بلکہ اس مرتبہ یہ مسئلہ واسا کی طرف سے سالانہ ترقیاتی منصوبے پر عملدرآمد کے باعث مزید تشویشناک ہو گیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ شہر میں چھ اکتوبر کے بعد سے تاحال بارش نہیں ہوئی ہے اور دوسری طرف واسا کی طرف سے شہر کے مختلف علاقوں میں واٹر سپلائی اور سیوریج سکیموں پر عمل درآمد کے لئے پائپ لائن ڈالنے کا کام زور و شور سے جاری ہے۔ اس سلسلے میں جن جن علاقوں میں پائپ لائن ڈالنے کے لئے کھدائی کی گئی ہے وہاں سڑکوں یا فٹ پاتھ کو دوبارہ اصل حالت میں بحال کرنے کی بجائے مٹی ڈال کر ویسے ہی چھوڑ دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں جہاں کھدائی کا کام تاحال جاری ہے وہاں پر بھی پانی کے چھڑکاو یا انسداد سموگ اقدامات پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔
واضح رہے کہ واسا فیصل آباد کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 11 ارب روپے لاگت کی نکاسی و فراہمی آب کی 14 ترقیاتی سکیموں پر یکم اکتوبر سے کام جاری ہے اور واسا حکام کے اپنے اعداد وشمار کے مطابق تقریبا 50 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ علاوہ ازیں فرنچ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے منصوبے پر بھی 24 گھنٹے کام ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے ایم ڈی واسا کی طرف سے متعلقہ ٹھیکیداروں کو سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت جاری سکیموں پر کام جون 2026 تک ہر صورت مکمل کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ٹھیکیداروں کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہر ہفتے بچھائے جانیوالی پائپ لائن کی لمبائی دو ہزار فٹ سے ہر گز کم نہیں ہونی چاہیے اور جو کنٹریکٹر دو ہزار فٹ پائپ لائن نہیں بچھائے گا اسے تبدیل کر دیا جائے گا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت شہر کی صورتحال کیا ہے اور کھدائی کے کام کی وجہ سے رات دن اڑنے والے گردو غبار کے باعث شہری کھانسی، نزلہ، زکام، آنکھوں میں جلن اور سانس کی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔
مینجنگ ڈائریکٹر واسا سہیل قادر چیمہ نے اگرچہ اس حوالے سے ٹھیکیداروں کو سختی سے یہ ہدایات جاری کر رکھی ہیں کہ تمام سائٹس پر پائپ لائن بچھانے کے بعد اسے کلیئر کیا جائے اور ارد گرد پڑی مٹی و دیگر ملبہ ساتھ ساتھ مکمل صاف کیا جائے۔ تاہم ان احکامات پر عملدرآمد کروانے یا مانیٹرنگ کا میکنزم نہ ہونے کی وجہ سے عملی طور پر صورتحال دی گئی ہدایات کے بالکل برعکس ہے۔ دوسری طرف ایم ڈی واسا نے ترقیاتی سکیموں میں ہر ہفتے دو ہزار فٹ پائپ لائن لازمی بچھانے کی ڈیڈ لائن بھی جاری کی ہوئی ہے سست روی کا مظاہرہ کرنے والے کنٹریکٹرز کو نوٹسز جاری کئے جا رہے ہیں۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کمشنر فیصل آباد راجہ جہانگیر انور بھی متعلقہ سرکاری محکموں کو انسداد سموگ اقدامات پر سختی سے عملدرآمد کروانے کی ہدایات کر چکے ہیں۔ اس سلسلے میں رواں ماہ کے آغاز میں ہونے والے ایک اجلاس میں سموگ کی روک تھام یقینی بنانے کے لئے کمشنر نے ڈویژن بھر میں پانی کے چھڑکاو کے بغیر صفائی یا جھاڑو پھیرنے (ڈرائی سویپنگ) پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔ اس سلسلے میں ڈویژن کے چاروں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو سختی سے تاکید کی گئی تھی کہ سڑکوں اور گلیوں میں صفائی سے پہلے پانی کا چھڑکاؤ یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے گردو غبار اور مٹی و دھول اڑنے سے بچاؤ کے لئے فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ورکرز کو بھی پانی کے چھڑکاؤ کے بعد جھاڑو لگانے کا پابند بنانے کی ہدایت کی تھی اور کہا تھا کہ اگر کسی جگہ ڈرائی سویپنگ ہوئی تو ایف ڈبلیو ایم سی کا متعلقہ انچارج ذمہ دار ہو گا۔ علاوہ ازیں اس اجلاس میں کمشنر نے محکمہ تحفظ ماحول کو زیرتعمیر سائٹس پر محکمہ کے وضع کردہ ایس اوپیز پر سو فیصد عملدرآمد کروانے کی بھی تاکید کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ تمام سرکاری ونجی زیرتعمیر سائٹس پر پانی کا چھڑکاؤ نہ ہونے پر فوری ایکشن لیا جائے اور ایس او پیز پر عمل نہ کرنے والوں کے چالان کرکے جرمانے کرنے کے علاوہ مسلسل خلاف ورزی پر زیر تعمیر سائٹس کو بھی سیل کر دیا جائے۔
تاہم کمشنر کے احکامات کے باوجود محکمہ ماحولیات کی طرف سے اکا دکا زیر تعمیر نجی عمارتوں کے مالکان و ٹھیکیداروں کے چالان کرنے کے علاوہ کوئی کاروائی سامنے نہیں آئی ہے۔ علاوہ ازیں فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے تحت صفائی کا کام کرنے والے نجی کنٹریکٹرز کے عملے کی جانب سے بھی سڑکوں اور گلیوں میں صفائی کا عمل پانی چھڑکائے بغیر کیا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں ویسٹ ورکرز کی جانب سے گلیوں اور خالی پلاٹوں میں جمع کوڑے کو آگ لگانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ تحفظ ماحولیات، انسداد سموگ اقدامات اور فضائی آلودگی میں کمی کے حوالے سے پنجاب حکومت نے فیصل آباد شہر کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے انتظامیہ اور سرکاری محکمے بھی اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات نہیں کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس لحاظ سے بھی تشویشناک ہے کہ آبادی اور صنعتوں کے لحاظ سے صوبہ پنجاب کا دوسرا بڑا شہر ہونے کے باوجود یہاں انسداد سموگ اقدامات پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔
