تحریک انصاف کی طرف سے ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کی بدولت مسلم لیگ ن نے فیصل آباد کے تمام پانچ حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات باآسانی جیت لئے ہیں۔ اس طرح تاریخ نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ الیکشن بائیکاٹ کرنے کا نقصان ہمیشہ بائیکاٹ کرنے والی سیاسی جماعت کو ہی ہوا ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ ضمنی انتخابات میں فیصل آباد کے پانچ حلقوں سے کامیابی کے بعد یہاں مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی کی تعداد ایک سے بڑھ کر تین اور صوبائی اسمبلی کے اراکین کی تعداد پانچ سے بڑھ کر آٹھ ہو گئی ہے۔ تاہم فیصل آباد سے قومی اسمبلی کی سات اور صوبائی اسمبلی کی 13 نشستیں اب بھی تحریک انصاف کے پاس ہیں۔

طلال چوہدری اپنے بھائی کو رکن قومی اسمبلی منتخب کروانے میں کامیاب
این اے 96 جڑانوالہ میں مسلم لیگ ن کے امیدوار محمد بلال بدر چوہدری 93 ہزار 9 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں آزاد امیدوار نواب شیر وسیر نے 43 ہزار 25 ووٹ لئے ہیں۔ علاوہ ازیں اس حلقے سے الیکشن میں حصہ لینے والے دیگر قابل ذکر آزاد امیدواروں میں سے ارشد محمود نے 9388، نزاکت علی نے 1472 اور سید آصف شاہ نے 1236 ووٹ لئے ہیں۔ قبل ازیں فروری 2024ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر نواب شیر وسیر کو 92 ہزار 504 اور محمد بلال بدر چوہدری کو بطور آزاد امیدوار 494 ووٹ ملے تھے جبکہ سید آصف شاہ نے تحریک لبیک پاکستان کی ٹکٹ پر 18 ہزار 477 ووٹ لئے تھے۔ اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد پانچ لاکھ 87 ہزار 124 ہے جن میں سے ایک لاکھ 52 ہزار 628 نے ضمنی انتخاب میں ووٹ ڈالا اور اور ٹرن آوٹ 26.462 فیصد رہا۔

این اے 104 میں کم ٹرن آوٹ نے راجہ دانیال کی کامیابی پر سوالات اٹھا دیئے
فیصل آباد کے شہری علاقوں پر مشتمل قومی اسمبلی کی نشست این اے 104 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار راجہ دانیال احمد 52 ہزار 791 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ہیں جبکہ آزاد امیدوار رانا عدنان جاوید 19 ہزار 262 ووٹ لے کر دوسری پوزیشن پر رہے۔ اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد پانچ لاکھ 57 ہزار 637 ہے جن میں سے 72 ہزار 828 ووٹرز نے ووٹ ڈالا اور ٹرن آوٹ 13.23 فیصد رہا۔ قبل ازیں فروری 2024 کے عام انتخابات میں راجہ دانیال احمد 92 ہزار 594 ووٹ لے کر حامد رضا کے مقابلے میں دوسرے نمبر پر آئے تھے۔ حالیہ ضمنی انتخابات سے قبل پارٹی ٹکٹ کے معاملے پر راجہ دانیال احمد کو پارٹی کے اندر سے مخالفت کا سامنا تھا اور ان کے مقابلے میں پارٹی ٹکٹ کے حصول کے لئے وزیر اعظم کے کوارڈینیٹر رانا احسان افضل کے علاوہ سابق ایم پی اے مہر حامد رشید اور ان کے بھائی مہر روف رشید انہیں ٹکٹ ملنے کے بعد ان کے حق میں الیکشن سے دستبردار ہو گئے تھے۔ اس کے باوجود یہ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ الیکشن سے دستبردار ہونے والے امیدواروں نے اپنے حمایتی کارکنوں کو الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے لئے متحرک نہیں کیا جس کی وجہ سے راجہ دانیال احمد کو عام انتخابات میں ملنے والے ووٹوں کے مقابلے میں اس مرتبہ تقریبا 40 فیصد ووٹ کم پڑے ہیں۔ علاوہ ازیں اس حلقے سے دوسری نمبر پر آنے والے امیدوار کا تعلق بھی مسلم لیگ ن سے ہی ہے۔ اس لئے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پارٹی ووٹ تقسیم ہونے کی وجہ سے راجہ دانیال کو عام انتخابات کی نسبت کم ووٹ ملے ہیں۔

پی پی 98 سے آزاد علی تبسم کامیاب، اجمل چیمہ کا ووٹ بینک بھی برقرار
فیصل آباد کی تحصیل چک جھمرہ کے علاقوں پر مشتمل پی پی 98 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار آزاد علی تبسم 44 ہزار 388 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ہیں۔ ان کے مقابلے میں آزاد امیدوار محمد اجمل چیمہ نے 35 ہزار 246 اور وسیم اکرم چٹھہ نے 24 ہزار 98 ووٹ حاصل کئے ہیں۔ ضمنی انتخاب میں قابل ذکر ووٹ حاصل کرکے اجمل چیمہ نے حلقے میں اپنا اثرو رسوخ ایک بار پھر ثابت کیا ہے۔ اس سے قبل 2018ء کے عام انتخابات میں وہ بطور آزاد امیدوار الیکشن میں حصہ لے کر مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے امیدواروں کو شکست دے چکے ہیں۔ اس حلقے سے تیسرے نمبر پر آنے والے وسیم اکرم چٹھہ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کو ملنے والے ووٹوں میں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ڈسٹرکٹ بار فیصل آباد کے سابق صدر سلیم جہانگیر چٹھہ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ وسیم اکرم چٹھہ کے بارے میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر تحریک انصاف کھل کر ان کی حمایت کرتی تو وہ الیکشن جیت بھی سکتے تھے۔ اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد دو لاکھ 89 ہزار 690 ہے جن میں سے ایک لاکھ چار ہزار 888 ووٹرز نے ووٹ ڈالا اور ٹرن آوٹ 36.82 فیصد رہا۔

پی پی 115 میں میاں طاہر جمیل کی کامیابی میں مسیحی ووٹرز کا کردار
فیصل آباد کی تحصیل سٹی اور صدر کے کچھ علاقوں پر مشتمل پی پی 115 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار میاں طاہر جمیل 49 ہزار 46 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے ہیں۔ ان کے مقابلے میں آزاد امیدواروں میں سے ملک محمد اصغر نے 1898، احمد طارق چیمہ نے 1729، شفقت رسول نے 136 اور سہیل کاشف نے 74 ووٹ حاصل کئے ہیں۔اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد دو لاکھ 34 ہزار 724 ہے جن میں سے 53 ہزار 356 ووٹرز نے ووٹ ڈالا ہے اور ٹرن آوٹ 22.73 فیصد رہا۔ قبل ازیں فروری 2024 کے عام انتخابات میں اس حلقے سے میاں طاہر جمیل 39 ہزار 365 ووٹ لے کر شیخ شاہد جاوید کے مقابلے میں دوسرے نمبر پر آئے تھے۔ اس حلقے کے حوالے سے قابل ذکر بات یہ ہے کہ سانحہ جڑانوالہ کے ملزموں کے خلاف قانونی کاروائی نہ ہونے کی وجہ سے کرسچن کمیونٹی کی طرف سے ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کو ختم کروانے اور مسیحی ووٹرز کو میاں طاہر جمیل کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لئے آمادہ کرنے میں سینیٹر خلیل طاہر سندھو نے اہم کردار ادا کیا۔ علاوہ ازیں فروری 2024 کے عام انتخابات میں اس حلقے سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر میاں طاہر جمیل کے مقابلے میں الیکشن لڑنے والے نعیم یعقوب گل نے بھی ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن کے حق میں انتخابی مہم چلائی۔ اس بنا پر میاں طاہر جمیل نے فروری 2024 کے عام انتخابات میں حاصل کردہ اپنے ووٹوں کے مقابلے میں اس مرتبہ تقریبا 10 ہزار ووٹ زیادہ حاصل کئے ہیں۔

چوہدری شیر علی اور رانا ثنا اللہ کی صلح کا رانا احمد شہریار کی کامیابی میں کردار
فیصل آباد شہرکے مرکزی علاقے چوک گھنٹہ گھر کے آٹھ بازاروں اور دیگر ملحقہ علاقوں پر مشتمل پی پی 116 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار رانا احمد شہریار 48 ہزار 824 ووٹ حاصل کرکے کامیاب قرار پائے ہیں۔ ان کے مقابلے میں آزاد امیدوار ملک اصغر علی قیصر کو 11 ہزار 429 اور خواجہ اسد اعجاز منا کو 1158 ووٹ ملے ہیں۔ اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد دو لاکھ 76 ہزار 687 ہے جن میں سے 63 ہزار 471 ووٹرز نے ووٹ ڈالا ہے اور ٹرن آوٹ 22.94 فیصد رہا ہے۔ قبل ازیں فروری 2024 کے عام انتخابات میں رانا احمد شہریار اسی حلقے سے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر 52 ہزار 496 ووٹ لے کر ملک اسماعیل سیلا کے مقابلے میں دوسرے نمبر پر آئے تھے۔ ضمنی انتخاب میں رانا احمد شہریار کی جیت سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے چوہدری شیر علی اور رانا ثنا اللہ گروپ میں طویل عرصے سے جاری سیاسی مخالفت بظاہر ختم ہو گئی ہے۔ ماضی میں دونوں شخصیات ایک دوسرے کو ہرانے کی کوششوں میں اس قدر آگے چلے گئے تھے کہ اس حلقے سے مسلم لیگ ن کے امیدوار کے لئے جیتنا تقریبا ناممکن ہو چکا تھا۔ علاوہ ازیں فروری 2024 کے عام انتخابات میں اس حلقے سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر محمد ریاض الحق نے صرف 508 ووٹ حاصل کئے تھے جبکہ اس ضمنی انتخاب میں دوسرے نمبر پر آنے والے امیدوار ملک اصغر علی قیصر نے جو کہ ماضی میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ایم پی اے رہ چکے ہیں نے پی پی کے ٹکٹ ہولڈر کو ملنے والے ووٹوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ووٹ لئے ہیں۔
