اسلام آباد: خواتین پر تشدد کے واقعات میں رواں سال کے دوران 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔صنفی بنیادوں پر تشدد کے اعداد وشمار کرنے جمع کرنے والے ادارے ساحل کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق یکم جنوری سے 30 نومبر کے دوران رواں سال 6543 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ گزشتہ سال اس نوعیت کے کیسز کی تعداد 5253 تھی۔ تفصیلات کے مطابق رواں سال قتل کے 1414، اغوا کے 1144، تشدد کے 1060، خودکشی کے 649 اور عصمت دری کے 585 واقعات پیش آئے ہیں۔ ان میں سے 32 فیصد کیسز میں بدسلوکی کرنے والے متاثرہ خواتین کے جاننے والے تھے جبکہ 17 فیصد واقعات میں متاثرہ خواتین کو اجنبی لوگوں نے نشانہ بنایا۔ علاوہ ازیں بدسلوکی کے 12 فیصد واقعات میں ملزم متاثرہ خاتون کا شوہر تھا جبکہ عصمت دری کے 21 فیصد کیسز میں ملزم نامعلوم تھے۔ ساحل کی رپورٹ کے مطابق صنفی بنیاد پر تشدد کے زیادہ تر واقعات ذاتی جگہوں پر پیش آئے۔ ان میں سے 60 واقعات متاثرہ خواتین کے گھروں میں پیش آئے جبکہ بدسلوکی کے 13 فیصد واقعات بھی گھر کی چاردیواری میں پیش آئے۔ ان میں سے 78 فیصد واقعات پنجاب اور 14 فیصد سندھ سے رپورٹ ہوئے جبکہ خیبرپختونخواہ سے چھ فیصد، بلوچستان سے دو فیصد واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان میں سے 77 فیصد واقعات پر پولیس نے مقدمات درج کئے جبکہ 21 فیصد میں کسی قانونی کاروائی کی تفصیلات دستیاب نہیں ہو سکیں۔ علاوہ ازیں دو فیصد واقعات میں پولیس نے کیس درج کرنے سے انکار کیا جبکہ ایک فیصد کیسز پولیس کے پاس قانونی کاروائی کے منتظر پائے گئے۔ ترجمان ساحل کے مطابق یہ رپورٹ اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبوں کے 81 قومی اخبارات سے جمع کردہ اعدادوشمار کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔
