
فیصل آباد کے پانچ حلقوں میں ضمنی انتخابات کے لئے پولنگ کل ہو گی۔ ان میں قومی اسمبلی کے دو حلقے این اے 96 اور این اے 104 جبکہ صوبائی اسمبلی کے تین حلقے پی پی 98، پی پی 115 اور پی پی 116 شامل ہیں۔ ضمنی انتخابات میں وزیر مملکت طلال چوہدری کے بھائی بلال بدر چوہدری، وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کے داماد رانا احمد شہریار، قومی اسمبلی کے سابق قائد حزب اختلاف راجہ ریاض کے بیٹے راجہ دانیال احمد، سابق رکن قومی اسمبلی نواب شیر وسیر، سابق صوبائی وزیر اجمل چیمہ اور سابق اراکین پنجاب اسمبلی آزاد علی تبسم اور ملک اصغر علی قیصر سمیت مجموعی طور پر 43 امیدوار مد مقابل ہیں۔ فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک کے مطابق ان پانچ حلقوں میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد فروری 2024ء کے عام انتخابات کی نسبت سات فیصد اضافے کے ساتھ 18 لاکھ 10 ہزار سے بڑھ کر 19 لاکھ 40 ہزار ہو گئی ہے۔ فافن کی رپورٹ کے مطابق این اے 96 اور پی پی 98 میں ووٹرز کی تعداد میں چار چار فیصد، این اے 104 میں پانچ فیصد اور پی پی 115 میں چھ فیصد جبکہ پی پی 116 کے ووٹرز کی تعداد میں ریکارڈ 20 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

این اے 96 جڑانوالہ . فیصل آباد ایک
یہ نشست رائے حیدر علی کھرل کی نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھی۔ 2024ء کے عام انتخابات میں وہ اس حلقے سے ایک لاکھ 34 ہزار 485 ووٹ لے کر ایم این اے منتخب ہوئے تھے جبکہ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کے امیدوار نواب شیر وسیر کو 92 ہزار 504 اور آزاد امیدوار بلال بدر چوہدری کو 494 ووٹ ملے تھے۔ یہ حلقہ جڑانوالہ سٹی، جڑانوالہ صدر، لنڈیانوالہ، بچیانہ، چک حماند اور اواگت کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ اس حلقے سے ضمنی انتخاب میں مجموعی طور پر 16 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں سے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر بلال بدر چوہدری اور آزاد امیدوار و سابق رکن قومی اسمبلی نواب شیر وسیر کے مابین سخت مقابلہ متوقع ہے۔ واضح رہے کہ فروری 2024 کے عام انتخابات میں اس حلقے سے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لینے والے نواب شیر وسیر نے اس مرتبہ پارٹی ٹکٹ نہ ملنے کے باوجود آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس الیکشن کے حوالے سے جڑانوالہ کے سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ طلال چوہدری کو سینیٹر بنائے جانے اور وزیر مملکت برائے داخلہ امور کا عہدہ ملنے کے بعد ضمنی انتخاب میں ان کے بھائی کو پارٹی ٹکٹ جاری کئے جانے کے فیصلے کو مسلم لیگ ن کی مقامی قیادت اور کارکنوں کی جانب سے پسند نہیں کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے پارٹی کی مقامی قیادت اور کارکنوں میں موجود تقسیم کو دیکھتے ہوئے نواب شیر وسیر کو مسلم لیگ ن کے ناراض حلقوں کی جانب سے حمایت حاصل ہونے کا امکان ہے۔ اس لئے توقع کی جا رہی ہے کہ 23 نومبر کو اس حلقے میں ہونے والا ضمنی الیکشن یکطرفہ نہیں ہو گا۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے طلال چوہدری بھی اپنا زیادہ وقت جڑانوالہ میں اپنے بھائی کی انتخابی مہم چلانے میں گزار رہے ہیں۔ اس حوالے سے انہیں الیکشن کمیشن کی طرف سے نوٹس بھی جاری ہو چکا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد پانچ لاکھ 87 ہزار 124 ہے جن میں تین لاکھ 14 ہزار 133 مرد اور دو لاکھ 72 ہزار 991 خواتین شامل ہیں۔ پولنگ اسکیم کے مطابق اس حلقے میں پولنگ اسٹیشنز کی مجموعی تعداد 345 ہے جن میں سے 126 پولنگ اسٹیشن مردوں اور 123 خواتین کے لئے مخصوص ہوں گے جبکہ مشترکہ پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 96 ہے۔ اس حلقے میں پولنگ بوتھ کی مجموعی تعداد 1057 ہے جہاں 345 پریزائیڈنگ آفیسرز، 1057 اسٹنٹ پریزائیڈنگ آفیسرز اور 345 نائب قاصد و دیگر عملہ الیکشن ڈیوٹی کرے گا۔

این اے 104 . فیصل آباد 10
یہ نشست صاحبزادہ حامد رضا کی نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھی۔ 2024ء کے عام انتخابات میں وہ اس حلقے سے ایک لاکھ 28 ہزار 684 ووٹ لے کر ایم این اے منتخب ہوئے تھے جبکہ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کے امیدوار راجہ دانیال احمد کو 92 ہزار 594 ووٹ ملے تھے۔ یہ حلقہ گلستان کالونی، نشاط آباد، راجے والا، لاثانی ٹاون، گوکھووال، اکبر آباد، سدھو پورہ، پی ایم سی کالونی، مسلم ٹاون، بھائی والا، اسلام نگر، نور پور کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ اس حلقے سے ضمنی انتخاب میں مجموعی طور پر پانچ امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں سے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر راجہ دانیال احمد اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے آزاد امیدوار رانا عدنان جاوید کے مابین مقابلہ متوقع ہے۔ اس حلقے میں راجہ دانیال کو اپنی جماعت کے اندر سے مخالفت کا سامنا رہا ہے جس کا مخالف امیدوار کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ علاوہ ازیں تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے بھی ان کی مخالفت میں ووٹ کاسٹ کئے جانے کا امکان ہے۔ قبل ازیں اس حلقے میں ضمنی انتخاب ملتوی کروانے کے لئے نااہل رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ حامد رضا گرفتاری دینے کے علاوہ لاہور ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن بھی کر چکے ہیں لیکن لاہور ہائیکورٹ نے ان کی اس استدعا پر کوئی فیصلہ نہیں سنایا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد پانچ لاکھ 57 ہزار 637 ہے جن میں دو لاکھ 92 ہزار 108 مرد اور دو لاکھ 65 ہزار 529 خواتین شامل ہیں۔ پولنگ اسکیم کے مطابق اس حلقے میں پولنگ اسٹیشنز کی مجموعی تعداد 375 ہے جن میں سے 196 پولنگ اسٹیشن مردوں اور 170 خواتین کے لئے مخصوص ہوں گے جبکہ مشترکہ پولنگ اسٹیشنز کی تعداد نو ہے۔ اس حلقے میں پولنگ بوتھ کی مجموعی تعداد 1097 ہے جہاں 375 پریزائیڈنگ آفیسرز، 1097 اسٹنٹ پریزائیڈنگ آفیسرز اور 375 نائب قاصد و دیگر عملہ الیکشن ڈیوٹی کرے گا۔

پی پی 98 چک جھمرہ . فیصل آباد ایک
یہ نشست جنید افضل ساہی کی نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھی۔ 2024ء کے عام انتخابات میں وہ اس حلقے سے 73 ہزار 536 ووٹ لے کر ایم پی اے منتخب ہوئے تھے جبکہ ان کے مقابلے میں استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم لیگ ن کے متفقہ امیدوار محمد اجمل چیمہ کو 47 ہزار 828 ووٹ ملے تھے۔ یہ حلقہ چک جھمرہ سٹی، ساہیاں والا، لاٹھیاں والا اور گٹ والا کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ اس حلقے سے ضمنی انتخاب میں مجموعی طور پر 10 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں سے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر آزاد علی تبسم اور آزاد امیدوار و سابق رکن صوبائی اسمبلی محمد اجمل چیمہ کے مابین سخت مقابلہ متوقع ہے۔ آزاد علی تبسم پہلے بھی اس حلقے سے ایم پی اے رہ چکے ہیں اور ان کو اس حلقے سے مسلم لیگ ن کے علاوہ چوہدری نذیر فیملی کی بھی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ دوسری طرف اجمل چیمہ فروری 2024 کے عام انتخابات میں اس حلقے سے استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم لیگ ن کے متفقہ امیدوار کے طور پر حصہ لے چکے ہیں۔ اس مرتبہ پارٹی ٹکٹ نہ ملنے کے باوجود وہ آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ قبل ازیں 2018ء کے عام انتخابات میں بھی وہ اس حلقے سے آزاد امیدوار کے طور پر غیر متوقع کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔ اس حلقے میں ساہی فیملی کی جانب سے تاحال خاموشی ہے تاہم سمجھا یہ جا رہا ہے کہ اجمل چیمہ کے مقابلے میں وہ بھی آزاد علی تبسم کی کامیابی کے خواہاں ہیں۔ قبل ازیں اس حلقے میں ضمنی انتخاب ملتوی کروانے کے لئے نااہل رکن قومی اسمبلی جنید افضل ساہی گرفتاری دینے کے علاوہ لاہور ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن بھی کر چکے ہیں لیکن لاہور ہائیکورٹ نے ان کی اس استدعا پر کوئی فیصلہ نہیں سنایا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد دو لاکھ 89 ہزار 690 ہے جن میں ایک لاکھ 55 ہزار 901 مرد اور ایک لاکھ 33 ہزار 789 خواتین شامل ہیں۔ پولنگ اسکیم کے مطابق اس حلقے میں پولنگ اسٹیشنز کی مجموعی تعداد 171 ہے جن میں سے 53 پولنگ اسٹیشن مردوں اور 49 خواتین کے لئے مخصوص ہوں گے جبکہ مشترکہ پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 69 ہے۔ اس حلقے میں پولنگ بوتھ کی مجموعی تعداد 548 ہے جہاں 171 پریزائیڈنگ آفیسرز، 548 اسٹنٹ پریزائیڈنگ آفیسرز اور 171 نائب قاصد و دیگر عملہ الیکشن ڈیوٹی کرے گا۔

پی پی 115 . فیصل آباد 18
یہ نشست شیخ شاہد جاوید کی نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھی۔ 2024ء کے عام انتخابات میں وہ اس حلقے سے 53 ہزار 244 ووٹ لے کر ایم پی اے منتخب ہوئے تھے جبکہ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کے امیدوار میاں طاہر جمیل کو 39 ہزار 365 ووٹ ملے تھے۔ یہ حلقہ غلام رسول نگر، وارث پورہ، سرفراز کالونی اور ملکھانوالہ کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ اس حلقے سے ضمنی انتخاب میں مجموعی طور پر پانچ امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں سے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر میاں طاہر جمیل اور آزاد امیدوار احمد طارق چیمہ کے مابین مقابلہ متوقع ہے۔ میاں طاہر جمیل ماضی میں بھی اس حلقے سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔ ان کے مقابلے میں سابق وفاقی وزیر مشتاق علی چیمہ کے بھتیجے احمد طارق چیمہ پہلی مرتبہ الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ انہیں تحریک انصاف کے ووٹرز کی حمایت حاصل ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد دو لاکھ 34 ہزار 724 ہے جن میں ایک لاکھ 24 ہزار 215 مرد اور ایک لاکھ 10 ہزار 509 خواتین شامل ہیں۔ پولنگ اسکیم کے مطابق اس حلقے میں پولنگ اسٹیشنز کی مجموعی تعداد 159 ہے جن میں سے 77 پولنگ اسٹیشن مردوں اور 75 خواتین کے لئے مخصوص ہوں گے جبکہ مشترکہ پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 7 ہے۔ اس حلقے میں پولنگ بوتھ کی مجموعی تعداد 437 ہے جہاں 159 پریزائیڈنگ آفیسرز، 437 اسٹنٹ پریزائیڈنگ آفیسرز اور 159 نائب قاصد و دیگر عملہ الیکشن ڈیوٹی کرے گا۔

پی پی 116 . فیصل آباد 19
یہ نشست ملک اسماعیل سیلا کی نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھی۔ 2024ء کے عام انتخابات میں وہ اس حلقے سے 67 ہزار 16 ووٹ لے کر ایم پی اے منتخب ہوئے تھے جبکہ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کے امیدوار رانا احمد شہریار کو 52 ہزار 496 ووٹ ملے تھے۔ یہ حلقہ گھنٹہ گھر کے آٹھ بازاروں، ڈی ٹائپ کالونی، ستارہ کالونی، مظفر کالونی، علامہ اقبال کالونی اور آبادی وزیر خان والی کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ اس حلقے سے ضمنی انتخاب میں مجموعی طور پر چھ امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں سے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر رانا احمد شہریار اور پیپلز پارٹی کے سابق ایم پی اے و آزاد امیدوار ملک اصغر علی قیصر کے مابین سخت مقابلہ متوقع ہے۔ دونوں امیدواروں کی جانب سے بھرپور الیکشن مہم کے باعث اس حلقے میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ رانا احمد شہریار کے مقابلے میں ملک اصغر علی قیصر کو پیپلزپارٹی کے ساتھ ساتھ رانا ثنا اللہ کی مخالفت میں تحریک انصاف کے علاوہ مسلم لیگ ن کے بعض حلقوں کی بھی حمایت حاصل ہے جس کی وجہ سے کسی “اپ سیٹ” کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس حلقے کے مسلم لیگی ورکرز کا کہنا ہے کہ اگر ماضی کی طرح چوہدری شیر علی کے قریبی حلقوں نے اندر کھاتے رانا احمد شہریار کی مخالفت میں ووٹ نہ دیا تو وہ اب بھی باآسانی الیکشن جیت سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد دو لاکھ 76 ہزار 687 ہے جن میں ایک لاکھ 46 ہزار 34 مرد اور ایک لاکھ 30 ہزار 653 خواتین شامل ہیں۔ پولنگ اسکیم کے مطابق اس حلقے میں پولنگ اسٹیشنز کی مجموعی تعداد 190 ہے جن میں سے 98 پولنگ اسٹیشن مردوں اور 92 خواتین کے لئے مخصوص ہوں گے۔ اس حلقے میں پولنگ بوتھ کی مجموعی تعداد 544 ہے جہاں 190 پریزائیڈنگ آفیسرز، 544 اسٹنٹ پریزائیڈنگ آفیسرز اور 190 نائب قاصد و دیگر عملہ الیکشن ڈیوٹی کرے گا۔
