فیصل آباد: پاکستان کی دوسری سب سے بڑی ایکسپورٹ کمپنی انٹرلوپ لمیٹڈ کے چیئرمین مصدق ذوالقرنین نے کہا ہے کہ کاروبار میں اصل کامیابی کا معیار مال و دولت نہیں بلکہ اخلاقیات، دیانت داری اور انسانوں کے ساتھ منصفانہ رویہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کاروبار میں دھوکہ دہی اور ٹیکس چوری سے حاصل کی گئی کامیابی درحقیقت کامیابی نہیں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کو ہر کامیاب شخص کو آئیڈیل مان لینے کے بجائے اس کی بات کو سمجھ کر پرکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر کامیاب شخص کی ہر بات درست نہیں ہوتی، اس لیے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا سیکھنا ہو گا۔
وہ نیشنل انکیوبیشن سینٹر فیصل آباد میں منعقدہ “ایڈ زیرو سیریز” کے سیشن میں گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ انٹرلوپ کا آغاز صرف دس نٹنگ مشینوں سے ہوا اور اس کاروبار میں آنے کا فیصلہ بھی اتفاقیہ تھا۔ ایک اطالوی کمپنی کے مارکیٹنگ نمائندوں نے انہیں نئی ٹیکنالوجی کے فوائد بتاتے ہوئے کہا کہ کم افرادی قوت کے ساتھ زیادہ پیداوار ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدا میں جائیداد گروی رکھی گئی، دوستوں نے سرمایہ کاری کی، اور جو کمایا وہ دوبارہ کاروبار میں لگا دیا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ شروع دن سے فنانشل ڈسپلن اور ایمانداری ہی انٹرلوپ کی کامیابی کی بنیاد ہے۔
انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ اخلاقیات پر عمل کرنے سے کامیابی ممکن نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ بلاوجہ مقابلے کی دوڑ میں اپنی توانائی ضائع کرتے ہیں جبکہ فیصل آباد جیسے شہر میں کاروبار کے لیے بہترین مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ شہر صرف مانچسٹر آف پاکستان نہیں رہا بلکہ یہاں اب گاڑیاں، مصالحہ جات، سرامک ٹائلز، کیمیکلز اور دیگر صنعتی مصنوعات بھی تیار ہو رہی ہیں اور آس پاس کے شہروں کی محنتی افرادی قوت اس کے لئے ایک بڑا اثاثہ ہے۔
ٹیکسٹائل سیکٹر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم ٹیکسٹائل کو صرف یارن اور فیبرک تک محدود سمجھتے ہیں حالانکہ اصل ویلیو ایڈڈ سیکٹر اپیرل اور گارمنٹس ہے۔ انہوں نے کہا کہ کپاس پر انحصار کم ہو چکا ہے مگر ہم اب بھی اسی میں اٹکے ہوئے ہیں جبکہ نائیلون اور دیگر مصنوعی فائبرز کی مقامی پیداوار پر توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں تین لاکھ سپنڈلز سے بڑی سپننگ مل موجود نہیں ہے جبکہ دنیا میں اوسط سات لاکھ اور بعض ملیں دو سے تین ملین سپنڈلز پر مشتمل ہیں۔
مصدق ذوالقرنین نے کہا کہ ہر سال سینکڑوں بند ملوں کی فہرست آتی ہے جو کہ حقیقت کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے نئی نسل کو آٹومیشن اور جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کروانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈگریوں کی اہمیت کم ہو رہی ہے جبکہ ہنرمند افراد اور ماہرین کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری میں بھی مصنوعی ذہانت تیزی سے متعارف ہو رہی ہے جس کے ذریعے اصل پروڈکٹ بنائے بغیر ڈیزائن اور پروٹوٹائپس تیار کر کے مارکیٹ کے ردعمل کو جانچا جا سکتا ہے۔
انہوں نے سسٹین ایبلٹی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انٹرلوپ گزشتہ دس برس سے اس شعبے میں کام کر رہی ہے جبکہ انہوں نے بیس پچیس سال پہلے ہی گرین ہاؤس گیسز کی پیمائش شروع کر دی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کے سب سے بڑے ریٹیلرز نے خود ان سے پوچھا کہ سسٹین ایبلٹی کے ساتھ کامیابی کیسے ممکن ہوئی کیونکہ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس سے لاگت بڑھ جاتی ہے۔
مصدق ذوالقرنین نے بتایا کہ انہیں بچپن سے ہی ہائپوتھیٹیکل پلاننگ کا شوق تھا اور دوسری جماعت میں بھی وہ یہ سوچا کرتے تھے کہ اگر فیصل آباد کو 100 ملین ڈالر مل جائیں تو شہر میں کیا تبدیلیاں آنی چاہئیں۔ اگرچہ آج یہ بات عجیب لگتی ہے، لیکن یہی سوچ بعد میں کاروباری فیصلوں میں مددگار ثابت ہوئی۔
سوال و جواب کے سیشن میں انہوں نے کہا کہ ہمیں پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ کامیابی کیا ہے۔ نوے فیصد لوگ پیسہ اور طاقت کو ہی کامیابی سمجھتے ہیں، جبکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ آپ ہر فرد کے ساتھ اخلاقیات کے ساتھ پیش آئیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ ٹی وی کم دیکھیں، خبریں صرف سرخیوں کی حد تک نہ پرھیں بلکہ انہیں مکمل پڑھیں اور تجزیہ کرنا سیکھیں۔ انہوں نے کہا کہ سروس انڈسٹری اور فوڈ بزنس میں بے پناہ مواقع موجود ہیں، خاص طور پر پانی کی قلت کے باعث زرعی پیداوار میں کمی ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔
انہوں نے نجی جامعات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہر بچے کو ایم بی اے کی ڈگری دینے کی ضرورت نہیں ہے ہمیں ہاسپٹیلٹی سمیت دیگر شعبوں میں ماہرین تیار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناکامیاں آتی رہتی ہیں ان سے بچنے کے لئے رسک مینجمنٹ ضروری ہے لیکن پھر بھی ہر قسم کی صورتحال کا سامنا کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے۔
اپنی ذاتی زندگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں صرف یہ پچھتاوا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو مناسب وقت نہیں دے سکے۔ انہوں نے کہا کہ پیشہ ورانہ کامیابی کے چکر میں خاندان اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے لیکن ہمیں سیکھنا ہو گا کہ پروفیشنل اور فیملی لائف میں توازن کیسے قائم رکھا جائے۔ انہوں نے طالبات اور خواتین اسٹارٹ اپ فاؤنڈرز کو مشورہ دیا کہ شریکِ حیات کے انتخاب میں یہ ضرور دیکھیں کہ وہ ان کی پیشہ ورانہ زندگی میں سپورٹ کرے۔
تقریب کے اختتام پر نیشنل انکوبیشن سنٹر فیصل آباد کی طرف سے چیف سٹریٹجی آفیسر مرتضی زیدی اور پروگرام منیجر ایمن شاہد نے مصدق ذوالقرنین کو یادگاری شیلڈ پیش کی اور ان کی آمد پر شکریہ ادا کیا۔
