“جس بچی کے نام پر یہ غیر رسمی تعلیم کا مرکز قائم کیا گیا تھا وہ کم عمر بچی اپنی مرضی کے خلاف اب سرگودھا میں کسی کے گھر کام کررہی ہے۔”
یہ کہنا ہے مصباح فاروق کا جو بچوں کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والے سماجی ادارے سوسائٹی فار پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ (سپارک) کے لئے کام کرتی ہیں۔
انکے مطابق سپارک پاکستان کے چار اضلاع میں بھٹوں پر 50 سے زائد غیر رسمی تعلیم کے مراکز چلا رہا ہے۔ ہر مرکز کا نام وہیں پر پڑھنے والے طلبا و طالبات کے نام پر رکھا گیا تھا تاکہ انکی حوصلہ افزائی ہو۔
گیارہ سالہ عروج خانیوال کے ایک قصبے رحمان گڑھ کے قریبی بھٹے پر سپارک کے مرکز برائے غیر رسمی تعلیم میں زیر تعلیم تھی۔ اور اس مرکز کا نام انہی سے منسوب تھا۔
لیکن ایک سال بعد عروج نے مرکز آنا ترک کر دیا۔ اساتذہ کی جانب سے پوچھنے پر پتہ چلا کہ عروج کو کسی کے گھر کام کرنے کی غرض سے سرگودھا بھیج دیا گیا ہے۔
عروج کے والد عبدالغفور ایک بھٹہ مزدور ہیں اور چار بچوں کے والد ہیں۔ عروج ان کی سب سے بڑی بیٹی ہے جو گزشتہ پانچ ماہ سے سرگودھا میں اتنی کم عمری میں کام کررہی ہے۔
عبدالغفور کے مطابق انہوں نے بطور سیکیورٹی اس خاندان سے تیس ہزار روپے لئے ہیں جبکہ ماہانہ انہیں سات ہزار روپے تنخواہ کی مد میں موصول ہوتے ہیں جبکہ ان کی بیٹی کی دیگر کفالت اسی خاندان کے ذمے ہے۔
ان کے مطابق عروج سے صرف بچوں کو سنبھالنے کا کام لیا جاتا ہے جبکہ گھر کے دیگر کاموں کے لئے وہاں مزید ملازمین موجود ہیں۔
عبدالغفور بتاتے ہیں کہ لگ بھگ ہر بھٹے سے پانچ سات بچے بڑے یا قریبی شہروں میں کام کرنے کے لئے بھجوا دیئے جاتے ہیں اور یہ کام بھٹے پر موجود جمعدار (مزدوروں کو منظم کرنے والا فرد) کی مدد سے کیا جاتا ہے جو کہ ان بچوں کو گھروں میں ملازمت دلواتا ہے اور ان کی ماہانہ تنخواہ ان کے گھر والوں تک پہنچاتا ہے۔
ان کے مطابق ایسا کرنا ان کی مجبوری ہے کیونکہ ملک بھر میں تھپیر (کچی اینٹ بنانے والے) کو سرکاری سطح پر مزدور کی طے شدہ اجرت کے مطابق معاوضہ نہیں ملتا ہے۔ اس لئے صحت اور دیگر مسائل کے باعث وہ مزید قرضے تلے آ جاتے ہیں۔ یوں پہلے قرض سے جان چھڑوانے کے لئے وہ بچوں کو کام پر لگاتے ہیں اور اس کے عوض مزید قرض لے لیتے ہیں۔
اسی حوالے سے مہرشاہ کے ایک بھٹے کی رہائشی اقراء سے گھر سے دور کام کرنے کا تجربہ جاننے کی کوشش کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ دس بارہ سال کی عمر میں اپنے اچھے برے کا فیصلہ کرنے کی سمجھ نہیں رکھتی ہیں۔ والدین نے کہا تو وہ وہاں چلی گئیں لیکن اس گھر میں ان سے بہت زیادہ کام لیا جاتا تھا۔ کام کے کوئی اوقات کار نہیں تھے اور کھانا بھی قلیل مقدار میں فراہم کیا جاتا ہے لیکن وہ اس حوالے سے خوش قسمت رہیں کہ انہیں تین ماہ بعد ہی واپس بھیج دیا گیا۔
اس صورتحال کے تناظر میں خانیوال کے آٹھ مختلف بھٹوں کا جائزہ لینے سے یہ پتہ چلا ہے کہ ان بھٹوں پر کام کرنے والے مزدوروں کے آٹھ سے اٹھارہ سال کی عمر کے 55 بچے (51 لڑکیاں اور 4 لڑکے) مختلف شہروں (خانیوال، ملتان، لاہور، اسلام آباد و سرگودھا) میں گھریلو ملازم کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
ان میں سے 69 فیصد بچے مستقل بنیادوں پر اپنے مالکان کے گھر موجود ہیں جبکہ 31 فیصد بچے کام کے بعد گھر لوٹ آتے ہیں۔ ان میں سات فیصد بچوں کی عمر آٹھ سے 10 سال، 62 فیصد بچوں کی عمر 11 سے 14 سال جبکہ 31 فیصد بچوں کی عمر 15 سے 18 سال ہے۔
علاوہ ازیں تنخواہ سے جڑے اعداد و شمار کا جائزہ لینے سے یہ پتہ چلا ہے کہ 20 فیصد بچے ڈھائی ہزار روپے سے چار ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لے رہے ہیں جبکہ 66 فیصد بچوں کی تنخواہ پانچ سے دس ہزار روپے کے درمیان اور 14 فیصد بچوں کو 11 سے 15 ہزار روپے ماہانہ کے درمیان تنخواہ مل رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق بچوں کو ایک شہر سے دوسرے شہر بھیج کر گھریلو کام کروانا گھریلو مزدور سے بڑھ کر جبری نقل مکانی کی شکل اختیار کر چکی ہے اور بعض اوقات یہ انسانی سمگلنگ جیسے سنگین جرم سے جڑ جاتی ہے۔
آئین پاکستان میں شامل بنیادی حقوق کی شق نمبر گیارہ 14 سال سے کم عمر بچوں سے کام کروانے کی اجازت نہیں دیتی ہے جبکہ پنجاب کا ڈومیسٹک ورکر ایکٹ 2019 بچوں کو 15 سال اور اسلام آباد ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ 2022 سولہ سال سے کم عمر ہونے پر ہر طرز کے کام سے روکتا ہے جبکہ 15 سے 18 سال کی عمر میں بھی بچوں سے کسی بھی طرز کا خطرناک کام نہیں لیا جا سکتا ہے۔
سماجی ادارے سپارک کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر آسیہ عارف کا کہنا ہے کہ سپارک ہمیشہ اس نظریے کی ترویج کرتی ہے کہ بچوں کو ان کے حقوق کے فراہمی کو یقینی بنایا جائے کیونکہ پاکستان میں لٹریسی ریٹ محض 58 ہے جو جنوبی ایشیا میں صرف افغانستان سے بہتر ہے۔ اس لئے سپارک مختلف پروجیکٹس کی صورت میں بچوں کو رسمی و غیر رسمی و تکنیکی تعلیم فراہم کرنے میں کوشاں ہے جبکہ مذکورہ پروجیکٹ میں بھی پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں میں بھٹوں پر مقیم دو ہزار سے زائد بچوں کو غیر رسمی تعلیم دی جا رہی ہے۔
لیبر انسپکٹر اذکاء سلیم کا کہنا ہے کہ ڈومیسٹک لیبر دراصل ڈومیسٹک وائلینس کی سب سے بڑی وجہ ہے اور یہ بانڈڈ لیبر کی ہی ایک شکل ہے۔ ہمارے معاشرے میں ڈومیسٹک لیبر کو بلکل غیر ضرر تصور کیا جاتا ہے لیکن ماں باپ ایڈوانس لیکر اپنے بچوں کو گھروں یا دکانوں پر کام کرنے کے لئے چھوڑ جاتے ہیں جس میں بچوں کی مرضی شامل نہیں ہوتی ہے جبکہ ڈومیسٹک لیبر ایکٹ کے مطابق 15 سال سے کم عمر بچے سے کسی صورت کوئی کام نہیں لیا جا سکتا ہے۔
لیبر ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ اس حوالے سے کاروائی تو کرتا ہے لیکن مسئلہ وہاں آتا ہے جب محکمہ ڈومیسٹک لیبر کی ایف آئی آر دیتا ہے اور بچے کے والدین کیس کی پیروی سے انکار کرتے ہوئے محکمے کو کاروائی سے روکتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ دکاندار یا گھر کے مالکان سے لیا جانے والے ایڈوانس ہوتا ہے جو اس بچے کے والدین واپس کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔
یونیسیف اور آئی ایل او کے رواں سال جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق دنیا بھر میں 138 ملین ڈومیسٹک ورکر کے طور پر کام کر رہے ہیں جس میں ایشیا پیسفیک کے 28 ملین بچے بھی شامل ہیں جبکہ اس میں سے 39 فیصد بچے پرخطر کام پر معمور ہیں۔ امریکی حکومت کے ڈیپارٹمنٹ آف لیبر کی رپورٹ کے مطابق 2022 میں پاکستان کے ہر چوتھے گھر میں بچوں سے ڈومیسٹک لیبر کے طور پر کام لیا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہی کام ان بچوں کے جان لیوا ثابت ہوتا ہے جس کی مثال رواں سال کے شروع میں رپورٹ ہونے والے یہ چند واقعات ہیں۔
علاوہ ازیں سال 2022 میں جاری ہونے والی پنجاب چائلڈ لیبر سروے کی رپورٹ کے مطابق 5 سے 14 سال کی عمر کے بچوں میں سے 13 فیصد سے زائد بچے ڈومیسٹک لیبر کرنے پر مجبور ہیں جبکہ 10 سے 14 سال کی عمر کے بچوں میں سے 47 فیصد سے زائد بچے پرخطر کاموں میں مصروف ہیں۔
تعلیم فاؤڈیشن کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر اختر حسین سمجھتے ہیں کہ ڈومیسٹک لیبر بچوں کی زبردستی نقل مکانی اور سمگلنگ کی ایک شکل ہے جس میں بھٹہ مزدور خاندانوں کی معاشی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند پیسوں کے عوض ان کے بچوں کو کسی اور جگہ کام کے لئے بھیجا جاتا ہے جہاں پر کام کے اوقات کار، کام کا توازن اور صحت و وقار سب ان کے مالک پر منحصر ہوتا ہے۔ ان حالات میں عموما بچوں سے حد سے زیادہ کام لیا جاتا ہے اور ان کی صحت و وقار کو مجروح بھی کیا جاتا ہے جبکہ بعض واقعات میں بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جس پر والدین کو ڈرا دھمکا کر چپ کروا دیا جاتا ہے۔
آسیہ عارف کا کہنا ہے کہ کم عمر بچوں کو والدین سے دور کرنا ان کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور جبری نقل مکانی کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے کہ اپنے پانچ سے سولہ سالہ شہری کو مفت و مکمل تعلیم کی دستیابی یقینی بنائے تاکہ وہ ایک کارآمد شہری بن سکے۔ اسی طرح پائیدار ترقیاتی ہدف آٹھ کے تحت بھی بچوں سے ہر طرز کے کام کروانے کی حوصلہ شکنی ہماری ذمہ داری ہے۔ تاہم انہیں بذریعہ فنی تعلیم ہنرمند بنانا سب سے بہتر حل ہے تاکہ وہ معاشرے کا ایک کارآمد حصہ بن سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کی جبری نقل مکانی جیسی ہیومن ٹریفکنگ کی اس شکل کا یکسر خاتمہ بھی اشد ضروری ہے۔
